ہر نئی کابینہ سعودی عرب، چین کا دورہ کیوں کرتی ہے؟

ہر نئی کابینہ سعودی عرب، چین کا دورہ کیوں کرتی ہے؟

کچھ عرصے سے پاکستان میں یہ غیر رسمی سفارتی روایت بن چکی ہے کہ کوئی بھی نئی حکومت قائم ہوتی ہے تو سربراہ حکومت اپنی کابینہ ارکان کے ہمراہ سب سے پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب کا کرتا ہے۔ اس کے بعد اسی روایت کے تحت دوسرا دورہ چین کا کیا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں حکومتوں اور ریاستوں کیلئے ایسے واقعات علامتی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور ایسے واقعات سے حکومتوں اور ریاستوں کے رجحانات اور پالیسیوں کے رخ کے تعین کیلئے اندازے قائم کیے جاتے ہیں۔

حکومتیں اور ریاستیں بھی اس طرح کے واقعات اور علامتی اقدامات کے ذریعے دیکھنے اور نظر رکھنے والوں اور دوستوں و دشمنوں کو پیغام پہنچاتی ہیں۔ ملکوں اور اقوام کی اس بھری دنیا میں پاکستان کیلئے اگر کوئی دو ملک سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں تو وہ تصوراتی منظر نامے میں پاکستان کے دائیں طرف کھڑا سعودی عرب اور بائیں طرف پاکستان کا شمالی پڑوسی ملک چین ہے۔

اسباب و محرکات واضح ہیں، پاکستان اگر مسلم دنیا کے پہلے ایٹمی ملک کی حیثیت سے عالم اسلام میں ایک معتبر مقام رکھتا ہے تو سعودی عرب پوری امت مسلمہ کا روحانی مرکز اور محور عقیدت ہے۔ پاکستان اپنے جوہری امتیاز کے ساتھ ساتھ اپنی مضبوط، مستحکم اور بہادر افواج کی وجہ سے بھی دنیا اور عالم اسلام میں مرکز نگاہ ہے، چنانچہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ان بنیادوں پر مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری قائم ہے۔

امریکا سعودی عرب کا سب سے بڑا دوست اور اس کا تجارتی اور دفاعی پارٹنر ہے، تاہم امریکا کے بعد اگر سعودی عرب کو کسی قریبی دوست ملک کی دفاعی قوت پر اعتماد اور انحصار ہے تو وہ پاکستان ہے۔ امریکا چونکہ دنیا کی سپر پاور اور ایک جارح طاقت ہے، اس لیے دوستی اور قریبی سفارتی تعلقات کے تمام تر ظاہری مظاہر کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کبھی بھی ہموار اور برابری کی سطح پر نہیں رہے۔

آئی آر (بین الاقوامی تعلقات) کا اصول ہے کہ برابری کی بنیاد پر تعلقات دو برابر اور ٹکر کی فوجی، سیاسی اور اقتصادی طاقت رکھنے والے ملکوں کے درمیان ہی استوار ہوتے ہیں، اگر ایسا نہ ہو تو پھر برابری کی سطح پر تعلقات کی محض خواہش ہی رکھی جا سکتی ہے، اس صورت میں تعلقات میں طاقتور کا پلہ بھاری ہوتا ہے اور اس کی ٹانگ مقابل فریق سے ہمیشہ اونچی ہی ہوتی ہے۔

دو غیر ہموار طاقت رکھنے والے ملکوں کے جو غیر رسمی اصول کارفرما ہوتا ہے، اسے IR کی زبان میں گاجر اور ڈنڈے (carrot and stick) کی پالیسی کہا جاتا ہے، یعنی طاقتور من مرضی کرنے کیلئے ہمیشہ مقابل کمزور فریق کے ساتھ برتاؤ کے دوران ہاتھ میں ترغیبات کی گاجریں اور تخویف اور دھمکانے کا ڈنڈا اور مولا بخش رکھتا ہے۔

امریکا دنیا بھر کے تمام غیر ہم پلہ ملکوں کے ساتھ یہی پالیسی روا رکھتا ہے، سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بھی یہی پالیسی ہوتی ہے، مگر چونکہ سعودیہ سے مفادات کا دائرہ اور حجم زیادہ ہے، اس لیے یہی پالیسی سعودیہ کے باب میں امریکن ذرا محتاط اور کہیں کہیں قدرے مہذب انداز میں بروئے کار لاتے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان ہے، پاکستان اپنی جوہری طاقت، میزائل ٹیکنالوجی اور اب ایئرو اسپیس کے میدان میں بھی دنیا کے بہت سے دیگر ملکوں کی طرح سعودی عرب کیلئے خاص اہمیت اور ترجیح کی محرکات رکھتا ہے، پھر پاکستان کی بہادر افواج اور پاکستانی عوام میں سعودی عرب کے تئیں پائی جانے والے عقیدت مندانہ جذبات و احساسات کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی یہ دفاعی اور تزویراتی قوت سعودی عرب کیلئے با اعتماد کشش کی حامل ہے۔

فوجی اور دفاعی قوت میں گو پاکستان سعودی عرب پر فوقیت رکھتا ہے، مگر پاکستان کا دیرینہ مسئلہ معاش اور اقتصاد کا ہے، جس میں سعودی عرب ایک مستحکم پوزیشن رکھتا ہے، چنانچہ سعودی عرب کی مستحکم معیشت اور پاکستان کی فوجی قوت مل کر دونوں ملکوں کے تعلقات میں توازن اور برابری کے لیول کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سعودی عرب کا امریکا کے مقابلے میں زیادہ با اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر ہے۔

اس اعتماد اور ہم آہنگی کے باعث پاکستان سعودی عرب سے اپنے تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کی ہر نئی کابینہ سعودی عرب کے خیر سگالی دورے سے دنیا کے ساتھ اپنے خارجہ تعلقات کا عملی آغاز کرتی ہے۔

چین کی پاکستان کیلئے اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پاکستان آج اگر ایک مضبوط و مستحکم فوجی طاقت ہے، تو اس طاقت کی تعمیر اور اٹھان میں سب سے نمایاں کردار چین کا ہے۔ بالخصوص میزائل، ڈرون، ایرو اسپیس ٹیکنالوجی اور وایتی و غیر روایتی ہتھیار سازی کے دیگر تمام شعبوں میں چین کا فنی تعاون خاص مقام رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان اور چین میں عالمی مسائل میں بھی موقف کی ہم آہنگی ہے اور دونوں ملک باہمی مشاورت سے پوزیشن لیتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کو متنوع بنانے میں بھی چین لیڈنگ رول ادا کر رہا ہے۔ یہ تمام حقائق واضح کرتے ہیں کہ چین پاکستان کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پھر چین اور پاکستان کو خطے میں یکساں نوعیت کے مختلف چیلنجز کا بھی سامنا ہے، ان میں پاکستان اور چین ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلنے کی روش پر گامزن ہیں۔

خطے سے نکل کر عالمی منظر نامے میں دیکھا جائے تو چین کی امریکا کے ساتھ ایک بے نامی قسم کی سرد جنگ چل رہی ہے۔ ان تمام نکات میں پاکستان کی کسی بھی نئی حکومت کی جانب سے چین کے ساتھ مضبوط شراکت داری کا مظہر پہلا دورہ ہوتا ہے، جو واضح کرتا ہے کہ سابقہ کی طرح نئی حکومت کیلئے بھی چین بہت معنی رکھتا ہے!

الغرض پاکستان میں ہر نئی وفاقی کابینہ کی جانب سے کسی بھی دوسرے ملک سے پہلے سعودی عرب اور چین کا دورہ ایک خاص علامتی اظہاریہ اور اشارہ و پیغام پر مبنی ہوتا ہے اور اس کی بھرپور سفارتی اہمیت ہے۔ سعودی عرب سے اولین غیر ملکی دوروں اور خارجہ تعلقات کا آغاز نیک شگون کا بھی مظہر سمجھاجاتا ہے اور ساتھ ہی یہ اس بات کی بھی علامت ہوتا ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے اور اسے اپنے بنیادی نظریے اور اس کے شعار اور علامات سے گہری قلبی و ذہنی وابستگی ہے۔

حرمین شریفین کا دفاع پاکستان کا ایک غیر رسمی فریضہ ہے اور تاریخ میں جب بھی اس حوالے سے ضرورت پیش آئی ہے، پاکستان پوری قوت سے بروئے کار آیا ہے۔ سعودیہ کا اولین دورہ اس ضمن میں حرمین شریفین اور سرزمین حجاز کے استحکام کے تئیں برے ارادے رکھنے والوں کیلئے پیغام بھی ہوتے ہیں کہ سعودی عرب کو ڈی اسٹیبلائز کرنے کی کوئی بھی کوشش ہوئی تو پاکستان خاموش نہیں رہے گا۔

پاکستان کی اٹوٹ کمٹمنٹ اور دلی وابستگی ہی ہے جس کی وجہ سے سعودی عرب بھی ہر ممکن طریقے سے پاکستان کی امداد کیلئے کوشاں رہتا ہے۔ جس کی تفصیل یہاں بیان کرنا غیر ضروری ہوگا۔

ان وجوہات پر ہر نئی حکومتی کابینہ سعودیہ اور چین کے اولین دورے کرکے در اصل ان دو ملکوں کے ساتھ تجدید عہد وفا کے ساتھ ساتھ ان کے بد خواہوں کو بھی پیغام دیتی ہے کہ وہ ریاست کی اس دیرینہ پالیسی سے انحراف نہیں کرے گی۔

تحریر: عنایت شمسی

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *