ادب کو فروغ دیکر معاشرے سے انتہا پسندانہ سوچ مٹائی جاسکتی ہے: محمد سعید بٹ

ادب کو فروغ دیکر معاشرے سے انتہا پسندانہ سوچ کی جاسکتی ہے: محمد سعید بٹ

انٹرویو: محمد قیصر چوہان

شاعری سماجی اور ذاتی زندگی کے عملی رویوں کا آئینہ ہوتی ہے چنانچہ انسانی فطرت اور جبلت جس سستی اورجذباتی عمل اور ردعمل سے عبارت ہوتی ہے ان کا اظہار بھی شاعری کا لازمی موضوع ہے اور اظہار کی یہ جہت صرف شعرو ادب ہی کی جاگیر ہوتی ہے۔ جب ہم محمد سعید بٹ کی شاعری کی سلطنت میں اتریں تو سب سے پہلے دُکھ، اداسی، تنہائی، فکر، انسانی ہمدردی، وطن پرستی کے محلات دکھائی دیتے ہیں۔

محمد سعید بٹ بنیادی طور پر عام فہم، سادہ، سلیس، رواں اور آسان لفظوں، ترکیبوں، استعاروں اور کنایوں سے کام لیتے ہوئے شعر تخلیق کرتے ہیںوہ خود بھی خلوص، وفا، وضع داری، رواداری، اچھی اقدار کی پاسداری، دُکھ اور درد کی آبیاری اور محبت کی سرشاری کے قائل ہیں۔

ان کی شخصیت ان کے کلام کی آئینہ دار ہیں ان کی شاعری میں جہاں سماجی، تہذیبی، ثقافتی اور سیاسی اقدار کی لہریں ہیں وہاں اہل وطن سے محبت اور ہجر کا کرب بھی چراغ کی طرح لَو دے رہا ہے۔

سچی شاعری، سچے موتیوں کی طرح انمول ہوتی ہے اور سچا شاعر کمال ہنر مندی سے خیالوں کے کینوس پر بکھرے قوسِ قزح کے رنگوں کو خوبصورت الفاظ کا لبادہ پہنا کر صفحہ قرطاس کی زینت بنا دیتا ہے۔

گوروں کے دیس برطانیہ میں مقیم محمد سعید بٹ گزشتہ دنوں پاکستان آئے تو ہم نے معروف صحافی عنصر اقبال کی وساطت سے محمد سعید بٹ کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا، اس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔

سوال: آپ کے نزدیک شاعری کیا ہے؟

محمد سعید بٹ: شاعری اپنے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کا خوبصورت اور مو ¿ثر ترین ذریعہ ہے۔ میں زندگی میں اپنی ذات کی نفی کے عمل سے اثبات کی تلاش میں مصروف ہوں، ذات کی نفی کے اس عمل سے کوئی زرخیز لمحہ مجھے ضرور مل جاتا ہے۔ یہ تخلیقی لمحہ میری رائیگانی کو تھوڑی دیر کیلئے آنکھ سے اوجھل کر دیتا ہے تو میں اسی پر اکتفا کر لیتا ہوں۔

اپنی ذات کی نفی اور انحراف کا یہ عمل چونکہ کسی صوفیانہ تجربے کا حاصل نہیں ہے۔ اس لیے تخلیق کے عمل میں مشغول ہونے کے باوجود میں اسباب دنیا سے بے نیاز نہیں ہو سکا کیونکہ میں ایک دنیا دار ہوں، صوفی نہیں ہوں۔ شاعری میں نے اپنے خونِ جگر سے کشید کی ہے۔ یہ شاعری میرا جیون ہے ایک ایسا جیون جو میں نے نہیں گزارا، مگر اِس جیون کے لمس تک رسائی کی شدید خواہش نے ہی غزلوں اور نظموں کی صورت اختیار کر لی ہے۔

شاعری میرے لیے بڑی اہم ہے کیونکہ اس نے میری ذات کی باطنی ٹوٹ پھوٹ کو کافی حد تک روکا ہوا ہے۔ اس نے زندگی میں مجھے مکمل طور پر بکھرنے سے بچایا ہوا ہے۔ میں جب بھی کسی دُکھ کے زیر اثر ریزہ ریزہ ہواہوں اِن غزلوں اورنظموں نے اپنی فگار اُنگلیوں کے ساتھ مجھے ریزہ ریزہ چنا ہے شاید کسی آنے والے دُکھ کا ہدف بنانے کیلئے، اسی لیے میرے نزدیک یہ شاعری اس بکھرے ہوئے عہد کی نمائندگی کی اہل ہے۔

سوال: آپ کی شاعری کا بنیادی محرک کیا ہے؟

محمد سعید بٹ: میری شاعری کے بنیادی محرکات میں، اداسی، دُکھ، درد، غم، احساس تنہائی اور ہجر ہیں۔ انسان کا المیہ احساس تنہائی اور عدم تحفظ بھی میری شاعری کے محرکات میں شامل ہیں۔ میں نے جب شعور کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو میں نے باقاعدگی سے شعر کہنا اور لکھنا شروع کر دیئے تھے۔

میں نے اپنی شادی کا سہرا خود لکھاتھااس سے بڑی پذیرائی ملی ۔میں جب گورنمنٹ کالج (جی سی) میں زیر تعلیم تھا ان دنوں مختلف محفلوں میں اپنی شاعری کے ذریعے خوب داد تحسین حاصل کیا کرتا تھا۔میں سمجھتا ہوں کہ شاعری ہمیشہ غم کے وجود سے ہی نمو پاتی ہے۔

سوال: کیا آپ جدید فلسفوں سے متاثر ہیں؟

محمد سعید بٹ: میں جدید فلسفوں کو پڑھ کر ان سے شعوری طور پر متاثر نہیں ہوا ۔ بلکہ میرے باطن میں جو سوالات اُبھرتے ہیں وہ شاعری کا پیکر اختیار کر لیتے ہیں میرے خیال میں یہ شخصیت کا خلاءہی ہوتا ہے جو انسان کو کسی نہ کسی نوعیت کی تخلیق پر اُکساتا ہے۔ زندگی، خدا، انسان اور وقت کے حوالے سے میرے اپنے نظریات ہیں جو کہ میں نے اپنی زندگی کے تجربات، وجدان اور واردات قلبی سے اخذ کیے ہیں۔ جذبات و احساسات کا شاعرانہ اظہار میرا نظریہ شعر ہے۔

میں شاعری کو باطن کے پاتال میں قید کرنے کا قائل نہیں ہوں،میں سمجھتا ہوں کہ کرب ذات کے اظہار کے ساتھ ساتھ خارجی زندگی، سماجی اور انسانیت سے مکالمہ بھی آپ کے فن کا حصہ ہونا چاہیے۔

سوال:معاشرتی ترقی میں شاعری کا کیا کردار ہے؟

محمد سعید بٹ: اچھی شاعری اور اچھے ادب کا مطالعہ انسان کی شخصیت کو نکھارتا ہے۔ انسان کو معاشرے کا بہترین فرد بنانے میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔

سوال: مادی طور پر ادب کی ضرورت کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

محمد سعید بٹ: انسان کی ذہنی، جذباتی اور رومانوی نشوونما میں ادب کا کلیدی رول ہوتاہے۔ لہٰذا مادہ پرستی کے اس دور میں ادب کی ضرورت گزشتہ زمانوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عہد حاضر میں انسانی رویوں میں تبدیلی کے باعث ادب اپنے سانس اکھڑنے کے باوجود زندہ ہے۔

سوال: ادب اور سیاست کا آپ کے نزدیک کیا رشتہ ہے؟

محمد سعید بٹ: وہی جو شعور کا سیاست سے ہے۔ میرے نزدیک ادب کی بہت ساری تعریفیں ہیں جن میں سے ایک تعریف یہ بھی ہے کہ انفرادی و اجتماعی شعور سے تربیت پانے والی کیفیات کی تصویر کشی ہے۔ آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، دنیا کے بڑے بڑے انقلابات میں ادب اور ادیب کا کردار بہت نمایاں نظر آئے گا۔

ادب کا بنیادی موضوع انسان ہے اور انسان کا جس چیز سے باواسطہ یا بلاواسطہ تعلق ہو گا ادب کا اس سے اتنا ہی لگاﺅ ہو گا۔ بلکہ میں تو یہ بھی کہوں گا کہ ادب کے بغیر سیاسی شعور ادھورا اور ناپختہ رہتا ہے۔ میں ادب کو اعلیٰ ادب اور اس ادیب کو بڑا ادیب نہیں مانتا جو اپنے عہد کی سیاسی صورتحال سے منسلک نہ ہو۔

سوال: پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آپ کے نزدیک ادب اور ادیب کا کیا کردار رہا ہے؟

محمد سعید بٹ: پاکستانی معاشرے کی بدنصیبی یہ رہی ہے کہ اسے کسی بھی شعبے میں غیر جانبدار اور منصف مزاج لوگ بہت ہی کم نصیب ہوئے ہیں یہی حال ہمارے سیاسی یا مزاحمتی ادب کا بھی رہا ہے کہ ایک سیاسی پارٹی سے منسلک ادیب دوسری پارٹی کے خلاف مزاحمت کرتے رہے ہیں۔

سوال: آپ کے نزدیک شاعری اور زندگی کو نظریے کا پابندہونا چاہیے یا نہیں؟

محمد سعید بٹ: ہر انسان کا خاص طور پر ادیب، شاعر، مصور اور فلسفی کا فکرو فن اور حیات و کائنات کے بارے میں کوئی نہ کوئی اصول ضرور ہوتا ہے زندگی اگر بے اصولی کی سولی پر چڑھ گئی تو پھر بات ہی ختم ہو جاتی ہے کہ اس کے بعد گہرا سناٹا اور ہولناک ویرانی ہے۔ ساری گہما گہمی، جوش و خروش، جہد و طلب اور خوابوں کی مالا پرونے کی للک اور اُمنگ زندگی ہی سے ہے۔

شاعری کوئی سطحی عمل نہیں ہے بلکہ شعوری عمل ہے اور شعور دلالت کرتا ہے اصول و ضوابط پر، اصول اور نظریہ انسان کو بے راہ روی کی دلدل میں نہیں گراتا بلکہ شعور کے عمل کو انہاک کی دولت عطاءکرتا ہے آگے بڑھنے، زندہ رہنے اور دوسروں کو زندہ رہنے پر مائل کرتا ہے جو لوگ نظریے سے محروم ہوتے ہیں، جو لوگ کتابوں کے مطالعے اور انسانوں کے دکھ درد کے احساس کے بغیر انسان بے سمتی کی پاتال میں گر کر عجب سمت کا مسافر ہوجاتا ہے۔

سوال: شاعری پر تنقید کے حوالے سے نقاد کی تنقید کو آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟

محمد سعید بٹ: میرے خیال میں تنقید ایسی جانچ اور تبصرے کو کہتے ہیں، جو کھرے کھوٹے میں تمیز کرے، جو تخلیقی کارناموں کو، اس کے معیار کوپرکھ کر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر کے بتائے۔ تنقید کا بنیادی مقصد و منصب تخلیقی قوتوں کو زندہ اور متحرک رکھنا ہے۔

تنقید کا کام ہے پوری کارکردگی کی چھان پھٹک کر جائزہ لینا، تنقید ذہن کی تنظیم کر کے سنجیدہ تخلیقات کی معاون ہوتی ہے۔ تنقید تاریخ زمانے کا تسلسل اور تخلیقی قدریں متعین کرتی ہیں اور زندگی کو پیمانہ صداقت عطا کرتی ہے، تنقید شعور پیدا کرتی ہے، تنقید مدفت کو پرکھنے کی میزان ہے، تنقید تخلیقات کو صحیح سمت لے جانے میں معاون و مددگار ہوتی ہے، تنقید خامیوں اور کوتاہیوں کی نشان دہی کرتی ہے اور صحت مند تخلیق پیش کرنے کا اشارہ دیتی ہے اور حوصلہ بخشتی ہے۔

تخلیق کا تنقید سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔ تخلیقات براہِ راست زندگی کے شعور کو بیدار کرتی ہیں، تنقید تخلیقات کی ترجمانی کرتی ہے اور تجزیے کا کام انجام دیتی ہے، تنقید حالات و واقعات کی سچائی اور خیالات کی گہرای کو میزان صداقت پر پرکھنے کا نام ہے۔

تنقید کے بغیر اچھی تخلیق کا پیدا ہونا امرِ محال ہے۔ تنقید ایک صحت مند رویے کا نام ہے نقاد کا فرض ہے کہ تنقید سے پہلے وہ دیانت داری سے ہر تخلیق کا جائزہ لے، پھر تنقید کرے، تنقید برائے تنقید یا تنقید برائے تنقید کے غلط رویے سے اجتناب کرنا چاہیے تنقید نگاری آسان کام نہیں ہے، بلکہ ہر فن سے زیادہ مشکل اور محنت طلب ہے، تنقید نگاری کے لیے تصدیق اور تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے۔ تنقیدی نگاری میں توازن کا ہونا ضروری ہے۔ صرف کمزوریاں بیان کر کے، تخلیق کار کی حوصلہ شکنی تنقید نہیں ہوتی۔ اچھی تنقید سچائی اور انصاف پر مبنی ہونی چاہیے، اچھی تنقید صحت مند ادب کی تخلیق میں معاون ہوتی ہے۔

سوال: آپ کے خیال میں نوجوان نسل کی ادب سے دوری کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

محمد سعید بٹ: یہ حقیقت ہے کہ تعلیم کی زبوں حالی نے ادب اور قاری کے رشتے کونا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ غیر تسلی بخش معیارِ تعلیم کا چاہے کوئی بھی ذمے دار ہو، لیکن یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ ہمارے نظام تعلیم کے ذریعے مہنگے داموں جس معیار کی ڈگریاں عطا کی گئیں، اُسی معیار کے اساتذہ تعلیمی اداروں میں پہنچے، ان اساتذہ کی ذہنی نشوونما، تربیت اور مطالعہ جس معیار کا ہے، اُس کا تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا کہ ان کی ذہنی فکر میں وہ بلندی نہیں ہے۔ اُن کے مطالعے میں وہ گہرائی نہیں ہے اور ان میں فہم و فراست کی وہ وسعت نہیں ہے، جو ایک اُستاد کی میراث سمجھی جاتی ہے اور جو دورانِ تعلیم اُستاد سے شاگرد کو منتقل ہوتی ہے۔

پچھلے پچاس برسوں میں ہونے والے تعلیمی انحطاط کا منظر آپ کے سامنے ہے۔ ہمارے اُستادادب پر اتنی گہری نظر رکھتے تھے کہ وہ اپنے طلبا کو نصاب سے ہٹ کر شعر و ادب کے مسائل سمجھایاکرتے تھے۔ اچھی کتابیں پڑھنے کا شوق اور تحریک پیدا کرتے تھے، بلکہ خود طلبا کو پڑھنے کیلئے کتابیں دیتے تھے۔ استاد کا کردار ایک کسوٹی کابھی ہوتا تھا جو جوہرِ قابل کو پہنچانتا، سنوارتا اورنکھارتا تھا۔ یہیں سے ادیب اور شاعر اُبھر کر سامنے آتے تھے۔

سوال: پاکستانی حکمرانوں نے ادب کے فروغ کیلئے جو اقدامات کئے اس پر آپ کیا تبصرہ کریںگے؟

محمد سعید بٹ: شاعر اور ادیب کسی بھی معاشرے کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ کسی بھی قوم کی تقدیر بدلنے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ شاعر اور ادیب معاشرے میں نئی سوچ بیدار کرتا ہے اور ترقی سوچ کے بغیر نہیں ہوتی۔ برطانیہ سمیت یورپ اور دیگر ممالک میں شاعر اور ادیب کو بڑی عزت و احترام ملتا ہے۔ لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے یہاں پر شاعروں اور ادیبوں کو وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ حقدار ہیں۔

پاکستان میں کسی بھی حکومت نے ادیبوں اور شاعروں کی فلاح وبہبود کیلئے کچھ نہیں کیا بلکہ خونِ جگر سے ادب اور شاعری کشید کرنے والوںکی راہ میںاور ادب کی ترقی اور فروغ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ لہٰذا جب تک ادیب خوشحال نہیں ہوگا پاکستان ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔

سوال: آپ کے خیال میں ادب کو فروغ دینے سے معاشرے کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

محمد سعید بٹ : ادب پیار، محبت اورامن کا درس دیتا ہے ،مل جل کر رہنے کا درس دیتا ہے دوسروں کے حقوق کے تحفظ کا درس دیتا ہے ادب زندگی دیتا ہے۔ ادب زندگی گزارنے کا ڈھنگ دیتا ہے، ادب زندگی گزارنے کا سلیقہ دیتا ہے لہٰذا اگر ادب کو فروغ دیا جائے تو معاشرے سے انتہاپسندی کی سوچ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

سوال: کیا یہ درست ہے کہ آج کے عہد میں ادب کے سنجیدہ قارئین بہت کم ہو گئے ہیں؟

محمد سعید بٹ: اصل میں آج کا عہد مادیت اور صارفیت کا عہد ہے۔ مادیت انسان کو تخیل اور رومان سے دور کر دیتی ہے۔ ادب بالخصوص شاعری کا پورا دارو مدار ہی احساسات و جذبات اور تخیل پر ہے۔ سماج سے روحانی قدروں کا زوال ہوگا تو ادب بھی متاثر ہوگا اور یہی ہو بھی رہا ہے۔

آج طلبہ و طالبات ان علوم میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں جن سے ان کی معاشیات اور اقتصادیات وابستہ ہیں۔ ادبی و روحانی تعلیمات کے حصول کیلئے ان کے اندر ویسی دلچسپی نہیں پائی جاتی کیوں کہ یہاں انہیں فوراً کوئی فائد ہ نہیں ملتا۔

سوال: آپ نے جوچار کتابیں لکھیں ہیں ،ان میں صرف ایک ہی شاعری کی ہے اس کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

محمد سعید بٹ: شاعری آسان کام نہیں ہے اور ویسے بھی میں معیار کاقائل ہوںمعیاری کام پر وقت تو لگتا ہے۔میں اپنی شاعری کے حوالے سے کسی خوش گمانی یا احساسِ برتری میں مبتلا پہلے تھا اور نہ اب ہوں۔ میں شاعری اپنے ذوق کی تسکین کے لیے کرتا ہوں، جن لوگوں کو میری شاعری پسند ہے، یہ ان کا حسن نظر ہے۔

سوال: گوروں کے دیس میں رہ کر،کیا کبھی پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سوچا؟

محمد سعید بٹ: روز سوچتا ہوں، پاکستان ہماری اُمیدوں اور آرزوں کا مرکز ہے، اس کا ذرہ ذرہ مجھے عزیز ہے۔ میں ہمیشہ اس کی بقاء اور استحکام کیلئے دعا گو رہتا ہوں۔ ادیبوں اور شاعروں کو سیاسی طور پر بھی باشعور ہونا چاہیے، جب تک یہ شعور نہیں آئے گا، آپ کی تحریروں میں زندگی نہیں آئے گی، پاکستان کا مستقبل، یقینی طور پر بہت روشن ہے۔

ہماری بعد آنے والی نسلوں کو بھی پاکستان سے محبت ہے۔ جب آپ ساری دنیا میں گھوم کر آتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اس ملک کی قدر و قیمت کیا ہے۔ پاکستان، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ایک نعمت ہے، جس کے لیے قربانیاں دی گئیں، لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا قلق، تمام زندگی رہے گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *