جب فتنہ روکا گیا

تحریر عارف انجم

سب سے اہم سوال لیکن یہ ہے کہ کیا بات ہوئی جو نواز شریف کی برطرفی کے وقت چند لوگ باہر نکلے اور عمران خان کو ہٹانے پر بڑی تعداد میں (اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا) لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔

یہ 1998 کی گرمیوں کی بات ہے۔ قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت سے صرف چھ اراکین کم والی مسلم لیگ نواز کے سربراہ وزیراعظم نواز شریف مقبولیت کی بلندیوں پر تھے۔ لیکن پابندیوں اور حکومت کی خراب مالی پالیسیوں کے باعث معیشت دگردوں تھی۔ قرض اتارو، ملک سنواروں کی رقم کا کوئی حساب نہیں تھا۔

پھر نواز شریف کو دور کی سوجھی یا ان کے مشیروں نے سجھائی۔ اگست کے آخر میں انہوں نے 15 ویں آئینی ترمیم تیار کرلی۔ دعویٰ یہ تھا کہ ملک میں شریعت اور شرعی قوانین نافذ کیے جائیں گے۔ اس کی آڑ میں نواز شریف امیرالمومنین بننا چاہتے تھے۔ یہ معاملہ جیسے ہی اخبارات میں سامنے آیا، ہر ذی شعور شخص نے اس کی مذمت اور مخالفت کی لیکن سب سے اہم کردار اخباری کالم نگاروں کا تھا۔ جہاں ایک طرف یہ سطحی بحث ہو رہی تھی کہ "امیرالمومنین نواز شریف” داڑھی میں کیسے دکھائی دیں گے، تو دوسری جانب کالم نگار عوام کو آگاہ کر رہے تھے کہ جس ملک کے آئین میں پہلے ہی قرآن و سنت سے رہنمائی لینے کا آرٹیکل موجود ہے اور جہاں ضیا الحق کے آرڈیننسز کے بعد پہلے ہی قوانین شریعت کے مطابق ہیں وہاں نواز شریف کے دعوے کے پیچھے کیا ہے۔ موجودہ حالات میں اس دعوےکا موازنہ آپ قومی خودمختاری کے بیانیے سے کر سکتے ہیں۔ نواز شریف کو ویسے ہی پرستار میسر تھے جیسے آجکل عمران خان کو دستیاب ہیں۔

مزید پڑھیں: جامعہ کراچی خود کُش حملہ: ایس ایف ڈی ایل کے تحت لاشوں کی شناخت مکمل، ترجمان

یہی وہ عرصہ تھا جب اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے قومی سلامتی کونسل بنانے کی تجویز دی اور "طاقتور” وزیراعظم نے انہیں اکتوبر 1998 میں استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا۔ نواز شریف یہیں نہیں تھمے بلکہ اس کے بعد انہوں نے کورکوئٹہ طارق پرویز اور چند ایک دیگر فوجی افسران سے ذاتی تعلقات بڑھا لیے ۔ وہ فوج کے اندر تقسیم پیدا کرنے کے خواہش مند تھے۔

نواز شریف کی مداخلت کو جنرل پرویز مشرف نے اس طرح ناکام بنایا کہ جنرل طارق پرویز کو زبردستی ریٹائر کردیا اور لیفٹیننٹ جنرل سلیم حیدر جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ کور کمانڈرز میٹنگ کی اندرونی کہانی وزیراعظم کو پہنچاتے ہیں کو اپنے پرنسپل اسٹاف افسر کے عہدے سے ہٹا کر منگلا بھیج دیا۔ اسی بنا پر 12 اکتوبر 1999 کا نقطہ آغآز تین واقعات کو قرار دیا جاتا ہے۔ نفاذ شریعت کی آڑ میں امیرالمومنین اور آمر بننے کا خواب، جہانگیر کرامت کا استعفیٰ یا کور کمانڈر کوئٹہ کی جبری ریٹائرمنٹ۔

اگر کتابی حد تک دیکھا جائے تو ملک کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر نواز شریف کے فوجی جرنیلوں سے رابطوں میں کوئی غلط بات نہیں تھی۔ اسی طرح مشرف کو ہٹا کر جنرل ضیا الدین بٹ کو آرمی چیف بنانے کا اختیار بھی انہیں آئین کے تحت حاصل تھا۔ پندرھویں ترمیم کے لیے آئینی بندوبست بھی ان کے پاس تھا۔لیکن وہ یقینی طور پر غلط کر رہے تھے۔ اور بعین یہی غلطیاں عمران خان نے دہرائی ہیں۔

اول، جنرل ضیاالدین بٹ کے پاس انفنٹری یا آرٹلری کی کور کمانڈ کرنے کا مطلوبہ تجربہ نہیں تھا۔ وہ انجیئرنگ کے تھے۔ فوج اپنے تقرر و تبادلوں کے معاملے میں مداخلت قبول نہیں کرتی، یہ بات سب جانتے ہیں۔ جنرل فیض بھی ابھی ایک برس کا مطلوبہ تجربہ نہیں رکھتے۔ عمران خان نے یکم اپریل کو ارشد شریف کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہیں یہ بات معلوم نہیں تھی۔ نئے ڈی جی آئی کے تقرر پر فوج سے اختلافات کا اعتراف بھی انہوں نے اسی انٹرویو میں کیا۔

دوم۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر نواز شریف نے سویلین آمر بننے کی کوشش کی۔ عمران خان کا دس سالہ منصوبہ بھی یہی تھا۔ کوئی بھی جمہوریت پسند شخص ایسی حرکت برداشت نہیں کر سکتا۔ خواہ اس کے لیے کوئی بھی نعرہ استعمال کیا جائے۔ قومی عظمت کے نام پر ہٹلر کا عروج اور اس کے تباہ کن نتائج ابھی لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئے۔

عمران خان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری برملا (اور وہ خود دبے لفظوں میں )اعتراف کر چکے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات نہ ہوتے تھے تو پی ٹی آئی حکومت میں رہتی۔ اس کے بعد کسی سازش اور قومی خودمختاری کے دعوؤں کی گنجائش نہیں رہتی۔ سب سے اہم سوال لیکن یہ ہے کہ آخر کیا بات ہوئی جو نواز شریف کی برطرفی کے وقت چند لوگ باہر نکلے اور عمران خان کو ہٹانے پر بڑی تعداد میں (اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا) لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔

نواز شریف کی آمریت پسندی جب سامنے آئی تو اخبارات جو اس وقت کا واحد نجی میڈیا تھے نے بھرپور مزاحمت کی۔ کالم نگار لوگوں کو حقیقت سمجھا رہے تھے اور یہی بات نواز شریف حکومت کو سب سے بری لگی۔ آزادی اظہار سے نواز شریف کی لڑائی یہاں تک پہنچی کہ جنگ اخبار کا گلا نیوز پرنٹ روک کر گھونٹنے کی کوشش کی گئی۔ وہ ایک صفحے پر شائع ہوتا تھا۔ لیکن ایک بات مختلف تھی۔ فوج کی جانب سے صحافیوں پر کوئی دبائو نہیں تھا۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشت گردی سمیت پسماندگی بڑا چیلنج ہے: جسٹس وجیہ

دوسری جانب عمران خان کی حکومت کے آغاز سے پہلے ہی میڈیا کو مطیع کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا اور پھر خان کے دور میں اس پر بھرپور عمل ہوا۔ حکومت کے خلاف لکھنے اور کہنے پر پابندی تھی۔ حالانکہ یہی صحافی نواز لیگ کے تیسرے دور (2013-18) میں حکومت کے ہر منصوبے کو کڑی سکروٹنی سے گزارتے رہے تھے۔ اس پابندی میں ملکی اداروں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ آزاد ذرائع ابلاغ کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں عمران خان کو عام لوگوں نے ویسے ہی دیکھا جیسا کہ اصل حکمران اور عمران خود ان کو پیش کرنا چاہتے تھے۔ یعنی ’’چوروں‘‘ کے مقابلے میں ایک ایسا شخص جس پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔

صحافت کی زبان بندی کے گہرے اثرات تھے اور ہیں۔ پاکستان میں ٹوئٹر کے اکاؤنٹس کی کل تعداد 34 لاکھ ہے۔جس میں باٹس بھی شامل ہیں۔ اس میں حقیقی صارفین کا تخمینہ زیادہ سے زیادہ دس لاکھ کا لگایا جاتا ہے۔ لہذا اگر کسی صحافی نے سوشل میڈیا پر کچھ رپورٹ کرنے کی کوشش کی بھی تو وہ بات عام نہ ہوسکی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی اور ان کے حامیوں کی ٹرول ٹیموں نے ایسی آوازوں کو دبانے کی بھرپور کوشش کی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹوئٹر یا دوسرے سوشل میڈیا پر آپ کو رسائی وسیع کرنے کیلئے بڑی رقم چاہیے ہوتی ہے۔

صحافت کی زبان بندی اس وقت ختم ہوئی جب اپوزیشن عدم اعتماد جمع کرا چکی تھی۔ مکمل آزادی اب بھی نہیں ملی۔ کیوں نہیں ملی؟ یہ اندر کی بات ہے۔ جتنی آزادی ملی ہے اس کے بعد پے درپے اسکینڈلز سامنے آرہے ہیں اور یہ صرف آئس برگ کا بالائی حصہ ہیں۔ کڑی اسکروٹنی ابھی باقی ہے۔

رفتہ رفتہ حقیقت عام ہو جائے گی اور لوگ بہتر فیصلے لے پائیں گے۔ امید ہے پولائریزیشن ختم ہوگی۔ پھر شاید عمران خان بھی اپنی ذاتی عظمت کے خیال کو ایک طرف رکھ دیں۔ ہو سکتا ہے چند برس بعد عمران خان اور باقی لوگ ایک ہی میز پر بیٹھے ہوں جیسے گھسیٹنے والے اور گھیسٹنے جانے والے آج بیٹھے ہیں۔ اس وقت کے آنے سے پہلے میں اور آپ اپنا ایمان، دوستیاں، تعلق اور رشتے کیوں خراب کریں؟ رہی بات قومی عظمت کی تو وہ مالی وسائل اور مضبوط حکومتوں سے نہیں آتی۔ وہ شہریوں بالخصوص ذہین دماغ والوں کو عزت دینے سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ سپرپاور ہے اور چین نہیں۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *