حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

تحریر : شاکر قاسمی

دوحہ قطر

ہر نئے حادثے پہ حیرانی
پہلے ہوتی تھی اب نہیں ہوتی

مجھے مسجد نبوی میں ہونے والے حادثے پر حیرت اس لئے نہیں کہ عمران کی سیاسی سفر کا آغاز گلیمر پر ہوا تھا اور اور گلیمر کا انجام یہی ہے ۔ لیکن مجھے دکھ اتنا ہے کہ پچھلے کئی سال سے یہ تہیہ کر بیٹھا تھا اپنی تحریر کو کبھی سیاست کے نظر کروں گا .. لیکن آج یہ ضبط اس لیے ٹوٹا ہے کہ یہ اس دربار رسالت صلعم کی بات ہے جس کے دروازے وحشی کیلئے کھولے گئی تھے ۔

یہ اس آستانے کی حرمت کا سوال ہے .. جس نے فتح مکہ کے موقع پر عمیر ابن وھب کے ہاتھوں صفوان بن امیہ جیسے سرکش کیلئے اپنی پگڑی بطور ہدیہ بھیج دی تھی.. جدہ کے ساحل پر رکی ہوئی کشتی میں بیٹھے صفوان کو امن کا پیغام دے کر واپس اسلام کے آغوش میں بلایا تھا. آج خود کو انقلابی کہنے والے روزہ رسول پر حاضری دینے والی عورت کی توہینِ پر آمادہ ہیں ۔

مجھے اس واقعے پر تعجب نہیں ہے کیونکہ کہ عمران خان کی سیاست کو ایک ایسے جلسے سے آکسیجن فراہم کی گئی، جس میں عورت نے ناچ کر اپنے حق کا مطالبہ کیا. بیسویں صدی تاریخ عالم کی وہ نایاب صدی ہے جہاں ناچ ناچ کر ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا رواج ہے. اس پر ستم یہ سب اسے معقول سمجھتے ہیں ۔

یہ وہ شخص ہے جس کو اس نے کرپٹ کہہ کر جیل میں بند کیا اور اسی کو شوکت خانم کی رپورٹ پر ملک سے باہر بھیج دیا. جب وہ جا چکا تو پر منہ پر ہاتھ پھیر کر اسے واپسی کی دھمکیاں دیتا تھا. مجھے حیرت نہ اسکے جانے پر تھی اور نہ اسکی تڑیاں لگانے پر تھی. متعجب اس پر ہوتا تھا کہ جب اپنے بھیجے ہوئے ملزم کو واپس بلاتا تھا اسکے پیروکار اس پر خوش ہوتے تھے ۔

ہاں مجھے دکھ ہوتا تھا جب آسیہ مسیح کو پاکستان کی عدالت نے توہین رسالت سزا دی. اس شخص نے حکومتی اثر رسوخ استعمال کرتے اسے فرانس روانہ کیا.. لیکن مجھے حیرت نہیں ہوتی تھی جب یہ حرمت رسول پر لیکچر دیتا تھا. کیونکہ موجودہ سیاست اور منافقت کا چولی دامن کا ساتھ ہے. منافقت کے بغیر سیاست ادھوری ہے چاہے وہ کوئی مذہبی سیاست ہو سیکولر سیاسی موقف ، لیکن مجھے دکھ اس وقت ہوا جب اکوڑہ خٹک کے ضعیف العمر شخص (مولانا سمیع الحق) نے اپنے جلسے اس فیصلے پر برملا دکھ اور غصے کا اظہار کیا تو رسولِ خدا کی محبت سے بھرے ہوئے سینے چاقو گھونپ دئیے گئے ۔

اس پر مستزاد یہ کہ اس نے زرداری کو کرپٹ کہا اسی کے وزیر خزانہ کو امریکہ سے بلایو اور وزرات خزانہ سے نوازا..  اس نے اپنے سارے مشیر امریکہ سے بلائے. اس نے سی پیک کو بے پناہ نقصان پہنچایا ۔ اسلامو فوبیا کا نعرہ لگانے والا یہ شخص پچھلے سال ہی مسجد رحمة العالمين کے معصوموں پر گولیاں برساتا رہا. کئی حفاظ کرام شہید ہوئے ۔

اس ہی کے دور میں کشمیر مستقل طور پر بہارت کا حصہ بنا. اس نے اپنے پورے دورے حکومت میں کبھی عافیہ صدیقی کی بات نہیں. لیکن اقتدار ہاتھ سے جانے کے بعد اس نے ہر جلسے میں غیرت کا منجمن بیچا. اور حیرت تب ہوئی کہ یہ منجن لوگوں نے بڑے شوق سے خریدا ۔

یہ پاکستان کی تاریخ کا واحد حکمران ہے جس کی ہر پچھلی بات کی تردید اس نے خود کی ہے. ڈجیٹل دور میں سب کچھ ایک کلک پر موجود ہے. لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستانی نوجوان اس کے دھوکے میں کیوں آئے ہیں ۔؟

ذاتی تجربے کی بنیاد ایک سوال کا جواب مجھے ملک سے باہر رہنے پر ملا.. دیار غیر میں روزگار کی غرض سے آئے ہوئے نوجوان اسے لالچ اور ہوس کی بنیاد پر سپورٹ کرتے ہیں. شہباز شریف کی حکومت آنے کے بعد جب کچھ دیر کیلئے روپے کی قدر میں اضافہ ہوا تو میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے کے رنگ اڑ گئے تھے.. روپے کی عارضی قدر پر سخت غضب ناک تھے ۔

لیکن پھر سوال یہ کہ پاکستان میں غریبوں کے منہ سے نوالے چھیننے والا یہ بھیانک کردار کیسے مقبول کیسے ہوا.. لیکن یہ سب کچھ ایک دم تو نہیں ہوا. اسکے پیچھے میڈیا کی بائیس سالہ محنت ہے. جو پوری دنیا میں برانڈ اور سرمایہ داری کیلئے ریڈ کی ہڈی کا کام دیتی ہے. جس نے 2011 اسکی پروجیکشن مسلسل دن رات کام کیا ۔

کیا ایک ذی شعور آدمی کیلئے یہ کافی نہیں ہے کہ حریم شاہ جیسی عورت اسے کیوں برملا سپورٹ کر رہی ہے؟ . جو اپنے باپ کی نہیں ہو سکی وہ اس قوم اور ملت کی کیسے ہوسکتی؟ . جس نے اپنا ٹھکانہ لندن میں بنایا طنز کے نشتر قوم کے چہرا زخمی کیا اور پونڈ لہراتی ہوئی ملک چھوڑ کر گئی ۔

دوسری طرف ہمارے اسلامی اور تہذیبی اقدار کو مسح کرنے والا شان جو پچھلے پچیس سال سے ریما کیساتھ پنجاب کے کھیتوں ناچ رہا ہے وہ اس کی سپورٹ میں اس طرح کھل کر کیوں سامنے آیا ہے؟

سوال کا جواب ایک ہی ہے، اس وقت پوری دنیا میں میڈیا نے ظاہری جمالیات اس قدر پرومٹ کیا کہ آج نوجوان ظاہری شکل وصورت کو حرف آخر سمجھ بیٹھا ہے. وہ aesthetic سے آگے کچھ دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا.. وہ سوچنے کی صلاحیت کھو چکا ہے. اسے صرف وہی سوچنا ہے جو اسے اسکرین پر سوچنے کہا جائے.. اگر شیطان خوبصورتی کی شکل میں آئے تو وہ اسے بلا تردد قبول کرنے کیلئے تیار ہیں ۔

تو نے دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن ہے اندروں چینگیز سے تاریک تر

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *