بلوچستان میں دہشت گردی سمیت پسماندگی بڑا چیلنج ہے: جسٹس وجیہ

بھارتی مسلمانوں کو معتوب اقوام کی تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا: جسٹس وجیہ

کراچی: عام لوگ اتحاد کے رہنما جسٹس (ر) وجیہ الدین نے جامعہ کراچی دھماکے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات کو روکنے کیلئے بلوچستان سے دہشت گردی اور پسماندگی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، جو کہ بڑا چیلنج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چینی شہریوں پر قاتلانہ حملے اب ایک دستور سا بنتے جارہے ہیں، اس سے قبل تو سی پیک سے متعلق افراد کو ہی ہدف بنایا جاتا تھا۔ مگر اس مرتبہ جامعہ کراچی جیسے درس و تدریس سے متعلق چینی باشندوں کو ایک بی ایل اے سے منسلک خاتون خود کش کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

ان پے در پے واقعات سے ثابت ہے کہ ایک طرف تو پاکستان اور چین کے تعلقات کو زک پہنچانا مقصود ہے تو دوسری طرف پاکستان اور چین کی معاشی ترقی کی سمت اور پیشرفت کو بھی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس مسئلے میں سب سے بڑی اہمیت بلوچ اور پشتون آبادیوں کو باور کرانا ہے کہ چینی دوستوں کی سرگرمیاں نہ صرف ملک بلکہ خود ان کے مفاد میں ہیں۔ ساتھ ساتھ پسماندہ لوگوں کو ملک دشمن عناصر کس طرح اپنے مقاصد کی بھینٹ چڑھاتے ہیں کسی سے پوشیدہ نہیں، لہٰذا پسماندہ طبقات کے مالی مسائل پر خصوصی توجہ اس تمام اسٹریٹجی کا لازمی جزو ہونا چاہئے۔

سانحہ کراچی یونیورسٹی سے مزید سبق یہ ملتے ہیں کہ چینی افراد صرف بلٹ پروف گاڑیوں پر کارہائے ضرورت انجام دیں، مزید برآں سیکورٹی چیک کا احاطہ اب خواتین تک بھی بڑھانا لازمی ہوگیا ہے۔

بڑا سوالیہ نشان یہ بھی ہے کہ تین چار کلو بارودی مواد وقوعہ پر کیسے پہنچایا گیا۔ یاد رہے کہ جس طرح یوکرین میں مغرب روس کیخلاف ایک پراکسی جنگ لڑ رہا ہے، اسی طرح چین کے خلاف جنگ میں، بذریعہ بھارت اور براستہ پاکستان، چینی سرگرمیوں کی عرصہ دراز سے مدافعت جاری ہے۔

ان مسائل کا ادراک متعلقہ حلقوں میں ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عوام کی پسماندگی کو دشمن اپنے مذموم مقاصد کیلئے کیش کر رہا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *