سودی نظام سے پاک معاشرہ – مذہبی جماعتوں و شخصیات کی بڑی کامیابی

تحریر: فیض اللہ خان

وفاقی شرعی عدالت نے جماعت اسلامی اور تنظیم اسلامی سمیت دیگر مذھبی جماعتوں اور شخصیات کی سودی نظام معیشت کیخلاف درخواستوں پہ محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو پانچ برس کے اندر اندر اسلامی نظام بینکاری لاگو کرنے کا حکم دیا ہے فیصلے کے مزید بھی کئی اہم نکات ہیں ، سود کیخلاف جماعت اسلامی نے 80/90 کی دھائی میں شرعی عدالت سے رجوع کیا تھا۔

تب بھی سود کیخلاف فیصلہ آیا مگر میاں محمد نواز شریف کی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل کرکے شرعی کورٹ کے فیصلے کیخلاف حکم امتناع حاصل کرلیا بعد ازاں طویل عدالتی جدوجہد کے بعد ستائیس رمضان کے بابرکت دن عدالت نے دوبارہ اسلامی نظام معیشت کے نفاذ کے حوالے سے فیصلہ دیدیا ہے ۔

مزید پڑھیں: وفاقی شرعی عدالت کا سود سے پاک بینکاری نظام قائم کرنے کا حکم

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت کے وکلاء بھی عدالت میں سودی نظام کیخلاف دائر اپیل کی مخالفت کرتے رہے ۔

وہ تمام لوگ جو اس طویل اور پیچیدہ عدالتی جنگ میں مصروف رہے بلاشبہ انہوں نے حق ادا کیا ہے کیونکہ اس معاملے میں کوئی تشہیر ملتی ہے نا میڈیا نے کبھی پروگرام کئیے اور نا ہی عوام اس معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہیں خاصا خشک اور دقت طلب کام تھا جو ان شخصیات نے طویل مدت تک استقامت کیساتھ کیا ۔

سراج الحق نے عدالت کے باھر میڈیا سے گفتگو میں سب سے اہم بات یہ کی کہ جماعت اسلامی عید کے بعد عالمی سطح پہ اسلامی نظام معیشت کے ماہرین کی کانفرنس پاکستان میں منعقد کرکے حکومت کو میکانزم بناکر دے گی تاکہ حکومت کے پاس فرار کے رستے باقی نہیں رہیں ، ساتھ ہی انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عدالت کی دی گئی پانچ برس کی مہلت کا انتظار کئیے بغیر فوری طور پہ سودی نظام کے خاتمے کا کام شروع کیا جائے ۔ حکومتیں مخلص ہوں تو ایسے کام ہونا مشکل نہیں ۔

مزید پڑھیں: محکمہ ٕ تعلیم کالجز : فرض شناس افسران مشکل میں

یہ بات پیش نظر رہے کہ غیر سودی معیشت اسلامی نظام کا ایک حصہ ہے اگر پاکستانی آئین (جو کہ مکمل اسلامی نہیں سود جیسی کئی شقیں اور قوانین شریعت سے متصادم ہیں ) پہ مکمل عمل ہو تو ایسے کئی ایک معاملات حل کیطرف جاسکتے ہیں ۔

اس کام میں محنت کرنے والے تمام لوگوں کے حق میں دعا کیجیئے اور جو وکلاء اس سودی نظام کے دفاع میں کھڑے ہوئے ان گھٹیا کرداروں کو بھی میر جعفر و صادق کی طرح نمایاں کرنا چاہئیے تاکہ اسلامی نظام معیشت کی پیسوں کے عوض مخالفت کرنے والے بھی قوم کے سامنے رہیں ۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *