محکمہ ٕ تعلیم کالجز : فرض شناس افسران مشکل میں

تحریر: زاہد احمد

یہ ایک ناقابل ِ تردید اور تلخ حقیقت ہے کہ دور ِ حاضر میں دیانتدار اور فرض شناس سرکاری ملازمین کے لٸے اپنے فراٸض ِ منصبی کی اداٸیگی کس قدر مشکل ، کٹھن اور تکلیف دے عمل ہے ۔ ہمارے سرکاری اداروں اور دفاتر میں ہر اس سرکاری ملازم کو مشکل ، کٹھن اور تکلیف دے حالات سے گذرنا پڑرہا ہے جو اپنے ضمیر کی آواز پر اپنے فراٸض ِمنصبی دیانتداری اور فرض شناسی کے جذبے کے تحت سرانجام دینا چاہتا ہے ۔ ایسی ہی مثال گزشتہ روز محکمہ ٕ تعلیم کالجز میں سامنے آٸی ہے جس کا تذکرہ ذیل میں پیش ِ خدمت ہے ۔

گورنمنٹ ڈگری بواٸز اینڈ گرلز کالج ، گلشن ِاقبال بلاک 7 کا شمار کراچی کے چند انتہاٸی مقبول اور بڑے کالجوں میں ہوتا ہے جو ماضی میں اپنے تعلیمی و انتظامی ماحول کے اعتبار سے شہر بھر میں ایک خاص شہرت رکھتا تھا ۔ تقریباً پونے پانچ سال قبل اس کالج میں ایک خاتون ایسوسی ایٹ پروفیسر کو ان کی گریڈ 19 میں ترقّی کے فوراً بعد بحیثیت پرنسپل تعیّنات کیا گیا جنہیں بعد ازاں ، تعیّناتی کے چند ماہ بعد ٹھوس وجوہات اور مناسب جواز کے تحت ، پرنسپل کے منصب سے تبادلہ کرکے دوسرے کالج میں بحیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر تعیّنات کرنے کے احکامات جاری ہوٸے ۔

مزید پڑھیں: خلاصہ قرآن، تئیسویں قسط

مذکورہ خاتون پرنسپل نے سرکاری احکامات کو تسلیم نہ کیا اور انہیں ایک آٸینی درخواست کے ذریعے سندھ ہاٸیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوٸے مٶقف اختیار کیا کہ ان کا تبادلہ چونکہ پرنسپل کے منصب پر معیّنہ مدّت پوری ہونے سے قبل کیا گیا ہے لہٰذہ تبادلے کا حکم منسوخ کیا جاٸے ۔ اس آٸینی درخواست پر سندھ ہاٸیکورٹ نے بذریعہ حکم ِ امتناعی ان کا تبادلہ روک دیا ۔

چار سال سے زاٸد عرصہ گزر جانے کے باوجود محکمہ ٕ تعلیم کالجز کی جانب سے اس کیس میں عدم ِ دلچسپی کے باعث یہ آٸینی درخواست مبیّنہ طور پر اب بھی زیر ِالتوا ٕ ہے جس پر فیصلہ ہونا باقی ہے ۔ ایک اطلاع کے مطابق گزشتہ دنوں ڈاٸریکٹوریٹ کالجز کے ڈپٹی ڈاٸریکٹر انسپیکشن عبدالرزّاق بھٹّو نے اپنے فراٸض ِ منصبی ادا کرتے ہوٸے ، حسب ِ معمول مذکورہ کالج کا دورہ کیا ، اس موقع پر مذکورہ افسر نے مبیّنہ طور پر پرنسپل سمیت متعدّد اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو غیر حاضر پایا تو وہ کالج کا حاضری رجسٹر اپنی تحویل میں لے کر مزید دفتری کارواٸی کی غرض سے دفتر لے آٸے ۔

مذکورہ ڈپٹی ڈاٸریکٹر کی جانب سے حاضری رجسٹر اپنی تحویل میں لٸے جانے کے خلاف کالج کی گزشتہ ساڑھے چار سال سے عدالتی حکم ِ امتناع کے سہارے پرنسپل کے منصب پر براجمان خاتون پرنسپل نے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں ڈپٹی ڈاٸریکٹر انسپیکشن عبدالرزّاق بھٹّو اور ڈاٸریکٹوریٹ کے ملازم اسلم کے خلاف ایف آٸی آر درج کرنے کی درخواست/ شکایت جمع کرادی (درخواست/ شکایت کا عکس ذیل میں دیا جارہا ہے ) ، درخواست میں مذکورہ پرنسپل نے ، نہ صرف ڈپٹی ڈاٸریکٹر عبدالرزّاق بھٹّو اور اہلکار اسلم کے خلاف ، بلکہ ریجنل ڈاٸریکٹوریٹ کالجز کراچی میں تعیّنات ڈاٸریکٹر ہیومن ریسورسز محترمہ بسمہ شاہ پر بھی ڈپٹی ڈاٸریکٹر عبدالرزّاق بھٹّو کی پشت پناہی کا الزام لگاتے ہوٸے ان کے خلاف بھی کارواٸی کی بھی استدعا کی ہے ۔

مزید پڑھیں: پاک چین دوستی کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دینگے: چین

میں ڈپٹی ڈاٸریکٹر انسپیکشن عبدالرزّاق بھٹّو سے تو ذاتی طور پر واقف نہیں مگر ان کے بارے میں شنید ہے کہ وہ ایک دیانتدار اور فرض شناس افسر ہیں جو ہر کام میرٹ پر کرنے کے قاٸل ہیں ، البتّہ ریجنل ڈاٸریکٹوریٹ میں تعیّنات ڈاٸریکٹر ہیومن ریسورسز محترمہ بسمہ شاہ سے میری کسی حد تک واقفیت ہے ، میری نظر میں وہ ایک سلجھی ہوٸی شخصیت کی حامل ایک فرض شناس ، دیانتدار اور میرٹ پر کام کرنے والی افسر کے طور پر جانی جاتی ہیں ۔

میں خود بھی طویل عرصے تک ڈپٹی ڈاٸریکٹر انسپیکشن کے منصب پر فاٸز رہا ہوں اور ڈپٹی ڈاٸریکٹر انسپیکشن کے فراٸض اور ذمّہ داریوں سے بخوبی واقف ہوں ۔ میری دانست میں ڈپٹی ڈاٸریکٹر انسپیکشن عبدالرزّاق بھٹّو کی جانب سے ، مذکورہ کالج کے دورے کے موقع پر کی جانے والی کارواٸی عین قواعد و ضوابط کے مطابق تھی جس پر کالج کی پرنسپل کی جانب سے پولیس کارواٸی نہ صرف غیر قانونی بلکہ غیر اخلاقی فعل بھی ہے جس پر متعلقہ حکّام کو ضروری تادیبی کارواٸی عمل میں لانی چاہٸیے ۔ اگر سرکاری اہلکاروں کو انکے فراٸض ِ منصبی کی کماحقّہُ اداٸیگی سے اس انداز میں روکا جاٸیگا تو دیانتدار اور فرض شناس سرکاری اہلکاروں میں مایوسی اور ناامیدی جنم لے گی اور ان کے لٸے اپنے فراٸض ِ منصبی کی اداٸیگی مزید مشکل ہوجاٸیگی جس کا نقصان بہرحال نظام کی تباہی پر منتج ہوگا ۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کیخلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر ایس ایچ او معطل

مذکورہ بالا واقعے پر نہ صرف محکمہ ٕ تعلیم کالجز کو ضروری قانونی کارواٸی کرنی چاہٸیے بلکہ کالج اساتذہ تنظیموں کو بھی عبدالرزّاق بھٹّو اور محترمہ بسمہ شاہ جیسے دیانتدار اور فرض شناس افسران کیساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوٸے ان کی مدد اور حوصلہ افزاٸی بھی کرنی چاہٸیے تاکہ ان جیسے دیانتدار اور فرض شناس سرکاری اہلکاروں کو اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق اپنے فراٸض ِ منصبی کی اداٸیگی میں کوٸی دقّت یا مشکل درپیش نہ آٸے ۔

آخر میں میری گورنمنٹ بواٸز اینڈ گرلز ڈگری کالج کی پرنسپل سے گزارش ہے کہ وہ فوری طور پر محکمے کے دیانتدار اور فرض شناس افسران کے خلاف پولیس اسٹیشن میں داٸر ایف آٸی آر کے اندراج کی درخواست واپس لے کر ایک قانون پسند سرکاری ملازم ہونے کا ثبوت دیں ۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *