خلاصہ قرآن، تئیسویں قسط

اس مضمون میں سورہ حاقہ سے سورہ المرسلات تک کا خلاصہ پیش کیا جائے گا۔ حاقہ مکی سورت ہے اور یہ بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ ابتداء میں قوم ثمود اور عاد جیسی سرکش اقوام کا انجام بد ذکر کے قیامت کی ہولناکی کا ذکر کیا کہ جب صور پھونکا جائے گا تو زمین اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا پھر تمام انسانیت اللہ کے سامنے پیش ہوگی۔ نیکوکاروں دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا جبکہ بدکاروں کو بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اس وقت گناہ گار تمنا کریں گے کاش مجھے نامہ دیا ہی نہ جاتا اور موت آ جاتی۔

سورت کے آخر میں قرآن کریم کی حقانیت کا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کسی شاعر کا کاہن کا کلام نہیں بلکہ اللہ تعالٰی کی طرف سے نازل کیا ہوا کلام ہے۔

سورہ المعارج مکی سورت ہے۔ اس سورت مشرکین مکہ کی بری خصلت کیا بیان کیا کہ وہ نبی علیہ السلام کی دعوت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ عذاب جلدی لے آئیں جس کا ہم سے وعدہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے اس کے بعد قیامت کی منظر کشی کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ قیامت کا وقوع یقینی ہے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔
اگلی آیت میں انسانی فطرت کا ذکر کیا کہ جب سختی اور مصیبت میں ہوتا ہے تو بیتاب ہو جاتا ہے اور روتا چیختا ہے، اگر نعمت مل جائے تو بخل کرنے لگتا ہےالبتہ وہ نمازی اس سے بری ہیں جو ان صفات کے حامل ہیں۔ نماز پابندی سے ادا کرنا، سائل کو اس کا حق دینا، قیامت کے دن کو ماننا، عذاب الہی سے ڈرنا، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنا، امانت ادا کرنا، وعدہ پورا کرنا، درست گواہی دینا، نماز کو مقررہ اوقات میں ادا کرنا۔

جن لوگوں کے دلوں میں کفر چھپا ہوا تھا،  ان کو سخت ڈانٹتے ہوئے فرمایا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ اس کافرانہ ذہنیت کے ساتھ جنت کے حق دار بن کر جنت میں داخل ہو جائیں گے؟ بلکہ انہیں قیامت کے دن ذلت و رسوائی اٹھانا پڑے گی۔

سورہ نوح مکی سورت ہے۔ یہ سورت جلیل القدر پیغمبر نوح علیہ السلام کے نام سے موسوم ہے، اس سورت میں ان کی دعوت کا ذکر کیا کہ انہوں نے اپنی قوم کو ہر طرح سے دعوت دی، علانیہ، خفیہ اور ہر طرح سے سمجھایا لیکن ان کی قوم مزید دور ہوتی گئی پھر اپنی قوم کو استغفار کی دعوت دی اور اس کے فوائد بیان کئے کہ تمہارے مال و اولاد اور باغات میں برکت ہوگی لیکن قوم یغوث، یعوق اور نسر جیسے بتوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئی۔

سورہ الجن مکی سورت ہے۔ اس سورت میں جنات کا واقعہ بیان کیا کہ جب انہوں نے کائنات کے نظام میں تبدیلی محسوس کی تو اس کی وجہ جاننے کے لیے نکلے، مقام نخلہ میں نبی علیہ السلام سے تلاوت سنی تو خود بھی ایمان لے آئے اور واپس آکر قوم کو بھی ایمان کی دعوت دی۔ آخر رسول کے منصب رسالت کی حیثیت ذکر کی کہ اس کا کام صرف دعوت و تبلیغ ہے باقی دعوت قبول کرنا اور نہ کرنا انسان کی اپنی ذمہ داری ہے، جو رسول کی دعوت قبول نہ کرے تو اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

سورہ المزمل مکی سورت ہے۔ اس میں نبی علیہ السلام کی شخصیت کا بیان ہے۔ دعوت کے حکم آنے کے بعد آپ علیہ السلام دن کو دعوت دیتے اور رات کو طویل قیام کرتے جس سے پاؤں میں ورم آ جایا کرتا تھا، اللہ تعالٰی نے نبی علیہ السلام کو اختیار دیا کہ رات کا کچھ حصہ یا آدھا حصہ قیام کر لیا کریں۔ اس کے بعد نبی علیہ السلام کو کفار کی سخت باتوں پر صبر کی تلقین فرمائی اور فرعون کا واقعہ نقل کر کے جھٹلانے والوں کو ڈرایا اور برے انجام سے خبر دار کیا۔ آخر اہل ایمان کو بھی آدھی رات یا اس سے زائد قیام کی بجائےحسب سہولت قیام کا حکم دیا۔

سورہ المدثر مکی سورت ہے۔ سورت کے آغاز میں نبی علیہ السلام کو ڈرانے، اپنے رب کی بڑائی بیان کرنے، اپنے آپ کو پاک رکھنے اور کفار کی تکالیف پر صبر کا حکم دیا۔ اس کے بعد تکبر کرنے والوں، فتنہ و فساد کرنے والوں کو جہنم کے عذاب سے ڈرایا۔ آخر مجرموں کا مکالمہ ذکر کیا کہ جب ان سے پوچھا جائے گا کہ جہنم سے کیا چیز لے کر آئی؟ تو وہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے، مساکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، ہم دین مخالف منصوبوں میں شریک ہوتے تھے اور قیامت کو جھٹلاتے تھے۔

سورہ القیامہ مکی سورت ہے۔ اس سورت میں قیامت کی ہولناکی اور سختی کا ذکر کیا کہ اس دن گھبراہٹ کے مارے انسان بھاگنا چاہے گا لیکن اسے بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ملے۔ اس کے بعد نبی علیہ السلام کو تسلی دی کہ آپ وحی الہی کو سنیں اس کو یاد کرانا، محفوظ کرانا اور وضاحت کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ آخر میں انسان کو جھنجھوڑتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا نہیں کیا کہ کوئی جزا و سزا کا تصور نہ ہو، ہم نے تمہیں ایک قطرہ سے پہلے پیدا کیا تو یقینا ہم دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہیں۔

سورہ الدہر یا سورہ الإنسان مکی سورت ہے۔ ابتداء میں انسان کو اپنی اوقات یاد دلائی کہ ایک زمانے میں وہ کچھ نہ تھا پھر ہم نے اسے نطفے سے لمحہ بہ لمحہ پیدا کیا۔ اس کے بعد ان نیک بندوں کے لیے جنت کی نعمتوں کا ذکر کیا جو اپنی منت پوری کرتے ہیں، قیامت سے ڈرتے ہیں، رضائے الہی کے لئے یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور دنیا میں کسی بدلے کے خواہاں نہیں ہوتے۔ آخر میں قرآن کریم کی عظیم نعمت کا ذکر کر کے حکم الہی پر قائم رہنے، شب و روز اللہ کی تسبیح کرنے اور رات کو اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے اور دیر تک تسبیح کرنے کا حکم دیا گیا۔

سورہ المرسلات مکی سورت ہے۔ ابتداء میں پانچ قسمیں اٹھا کر فرمایا کہ قیامت کا وقوع یقینی ہے۔ قیامت جب واقع ہوگی تو ستارے بے نور ہو جائیں گے، آسمان ٹوٹ جائے گا، پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور انبیاء کرام اپنی امت پر گواہ بنا کر لائے جائیں گے۔ قیامت کو فیصلہ کا دن قرار دیتے ہوئے جھٹلانے والوں کے لئے ہلاکت قرار دیا اور بطور تاکید اس آیت کا بار بار تکرار کیا گیا۔ آخر میں متقین کا اور ان پر ہونے والے انعامات کا ذکر کیا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *