حصول رحمت خداوندی (آداب و شرائط)

اللہ کی عنایتیں اپنے بندوں پر اتنی زیادہ ہیں جو شمار میں نہیں آسکتی ،اکثر لوگوں سے یہ جملہ سننے کو ملتا ہے ،کہ اللہ تعالیٰ بڑے غفور و رحیم ہیں ،اس کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے،اس میں تو کوئی شک نہیں بے شک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے ،رحمت اور مغفرت اس کا خاصہ ہے مگر یہ ان لوگوں کے لیے نہیں جو جانتے بوجھتے اللہ تعالی کی نافرمانی مول لیتے ہیں ،بجائے اس پر نادم ہونے کے غلطی پر ڈٹے رہتے ہیں،اللہ پاک کے احکامات توڑ رہے ہوتے ہیں ،اس کی بتائی ہوئی حدود سے تجاوز کرتے ہیں جو راستہ کامیابی اور فلاح کا اس نے بتایا ہے ،اس کو چھوڑ کر ایسے راستے کا انتخاب کرتے ہیں ،جو سراسر تباہی اور بربادی والا ہے اور پھر اس سے لمبی لمبی امیدیں باندھ لیتے ہیں ۔
جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو بنایا فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں اور انہوں نے کسی بھی قسم کی کوئی تاویلیں اور حجتیں پیش نہیں کئیں فورا ہی حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے اپنے رب کے فرمانبردار اور حکم ماننے والوں میں سے ہوگئے، شیطان نے انکار کرتے ہوئے بہت سی تاویلیں اور حجتیں پیش کئیں سجدہ نہ کیا اور یہ سب جانتے ہوئےکہ وہ غلطی پر ہے اس نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی بجائے نادم ہونے کے ڈھٹائی کے ساتھ اپنی نافرمانی پر ڈٹا رہا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راندہ درگاہ ہو گیا _

اور جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام اوران کی بیوی حضرت اما ں حوا کو جنت میں بھیجااور ساتھ یہ حکم بھی فرما دیا کہ جنت میں شجر ممنوعہ ہے ،اس کے قریب بھی مت جانا ،تو شیطان موقع کی تلاش میں تھا ،وہ اپنا بدلہ لینا چاہتا تھا ،اس نے اماں حوا کو بہکایااس شجرہ منموعہ کا پھل کھانے پر اماں حوا نے حضرت آدم علیہ السلام کو بھی قائل کر لیا کہ اس درخت کا پھل کھانا ہمارے لیے فائدہ مند ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی مل جائے گی،یہ ساری باتیں شیطان نے اماں حوا کو کہی تھیں کہ اگر تم اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا چاہتے ہو اس درخت کا پھل کھا لو انہوں نے وہ پھل کھا لیا،اپنے رب کو ناراض کر دیا اور دونوں سے خطاء سرزد ہوگئی ،تو اللہ پاک نے ان دونوں کو دنیا میں بھیج دیا ،تویہ دونوں بہت زیادہ نادم ہوئے اور اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی سے ندامت سے رو رو کے دعائیں مانگیں،تو اللہ پاک نے ان سے انجانے میں جو خطاء ہو گئی تھی ،اس کو معاف فرما دیااور ان کی دعا قبول کرلی_

پھر اللہ کے وہ بندے جن سے جانے یا انجانے میں کوئی گناہ سرزد ہو جائے ،تو وہ اس پر نادم ہوں اور بارگاہ الہی میں ندامت کے آنسو بہا کہ اپنے پروردگار سےاپنے کئے ہوئے قصور کی معافی طلب کریں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عہد کریں،
پھر ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا وعدہ ہے، جو اپنے پروردگار کو اپنے ندامت کے آنسو وں سے اور اپنی عاجزی سے منا لیتے ہیں،جو ابلیس کی طرح اپنےگناہ پر نہیں ڈٹےرہتے، بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کی طرح اپنی خطاؤں پر شرمندہ ہوتے ہوئے عاجزی کے ساتھ اللہ پاک سے معافی طلب کرتے ہیں ،تو پھر اللہ پاک بڑا غفور و رحیم ہے ،وہ اپنے بندے کو معاف کر کے اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیتے ہیں ،

"حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم! جب تک تو مجھ سے گناہوں کی معافی مانگتا رہے گا اور مجھ سے امید رکھے گا میں تجھے بخشوں گا تو نے جو برا کام بھی کیا ہوگا اور مجھ کو اس کی پرواہ نہیں ہوگی یعنی تو چاہے کتنا ہی بڑا گنہگار ہو تجھے بخشنا میرے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں ہے اے ابن آدم! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندیوں تک بھی پہنچ جائیں اور تو مجھ سے بخشش چاہے تو میں تجھ کو بخش دوں گا۔ اور مجھ کو اس کی پرواہ نہیں ہوگی، اے ابن آدم! اگر تو مجھ سے اس حال میں ملے کہ تیرے ساتھ گناہوں سے بھری ہوئی زمین ہو تو میں تیرے پاس بخشش مغفرت سے بھری ہوئی زمین کو لے کر آؤں گا۔ بشرطیکہ تو نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو۔ (یعنی شرک میں مبتلا نہ ہوا ہو)
حضرت ابوسعد ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ قسم ہے تیری عزت کی اے میرے پروردگار! میں تیرے بندوں کو ہمیشہ گمراہ کرتا رہوں گا جب تک کہ ان کی روحیں ان کے جسم میں ہیں! پروردگار عزوجل نے فرمایا قسم ہے اپنی عزت اور بزرگی کی اور اپنے مرتبہ کی بلندی کی، میرے بندے جب تک مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی ہمیشہ ان کو بخشتا رہوں گا۔ (احمد)

"حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص سے جو اس کے سامنے توبہ کرتا ہے اتنا زیادہ خوش ہوتا ہے کہ جتنا تم میں وہ شخص بھی خوش نہیں ہوتا جس کی سواری بیچ جنگل بیابان میں ہو اور پھر وہ جاتی رہی ہو (یعنی گم ہوگئی ہو) اور اس سواری سے نا امیدی کی حالت میں انتہائی مغموم و پریشان لیٹ جائے اور پھر اسی حالت میں اچانک وہ اپنی سواری کو اپنے پاس کھڑے ہوئے دیکھ لے۔ چناچہ وہ اس سواری کی مہار پکڑ کر انتہائی خوشی میں جذبات سے مغلوب ہو کر یہ کہہ بیٹے اے اللہ تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ مارے خوشی کی زیادتی کے اس کی زبان سے یہ غلط الفاظ نکل جائیں۔ (مسلم)

یعنی اس شخص کو اصل کہنا تو یہ تھا کہ اے اللہ! تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ مگر انتہائی خوشی کی وجہ سے شدت جذبات سے مغلوب اور مدہوش ہو کر یہ کہنے کی بجائے یہ کہہ بیٹھا ہے کہ اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ اس ارشاد کا مقصد اس بات کو بیان کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ سے بہت زیادہ خوش ہوتا ہے اور اس کی توبہ کو قبول فرما کر اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس خوشی کو اس شخص کی خوشی کے ساتھ مشابہت دی جس کی سواری جنگل بیابان میں گم ہوجائے اور پھر اچانک اسے مل جائے۔

اللہ سبحان و تعالی ہمیں عاجزی کی دولت نصیب کردے ،اگر کوئی خطا ہو جائے اس پر شرمندہ ہونے کے ساتھ ساتھ ر جوع کی توفیق عطا فرمائے ،اوراپنے عاجز اور فرمانبردار بندوں میں شامل فرما لیں آمین ثم آمین ۔۔۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *