خلاصہ قرآن، بائیسویں قسط

اس مضمون میں سورہ صف سے سورہ القلم تک سورتوں کا خلاصہ پیش کریں گے۔ سورہ صف مدنی سورت ہے۔ اس کے آغاز میں اہل ایمان کو عہد کی پابندی اور قول و فعل میں تضاد سے بچنے کی سختی تاکید کی۔ جہاد کے موقع مضبوط سیسہ پلائی دیوار بن کر مسلمانوں کی طرف سے کفر کے خلاف صف باندھ کر جہاد کرنے کو اللہ کا محبوب عمل قرار دیا۔ اس کے بعد عیسی علیہ السلام کی نبی علیہ السلام کی آمد کے متعلق بشارت کا ذکر کیا، اسی لئے عیسائی آپ علیہ السلام کی آمد کا بے تابی سے انتظار کر رہے تھے لیکن بعد ازاں ضد کی بنا پر منکر ہو گئے۔

اگلی آیات میں اسلام کے غلبہ کے اعلان کیا اور اہل ایمان کو ایسی تجارت کی طرف متوجہ کیا جس میں خسارہ نہیں، وہ اللہ اور رسول پہ ایمان اور اپنے مال و جان کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔ آخر ان حواریوں کا ذکر کیا جنہوں نے عیسی علیہ السلام کے پکارنے پر مدد کا اعلان کیا اور اہل ایمان سے بھی اسی طرح اللہ کا مدد گار بننے کا مطالبہ کیا گیا۔

سورہ الجمعہ مدنی سورت ہے۔ اس سورت میں بنی اسرائیل کا ذکر کیا جنہوں نے تورات کے احکامات سے روگردانی کی اور عمل نہیں کیا، اللہ تعالٰی نے ان کو گدھے سے تعبیر کیا جس پر کتابیں لادی جائیں تو اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ آخر میں جمعہ کے دن کی اہمیت و فضیلت ذکر کرتے ہوئے فرمایا جب اذان ہو جائے تو تمام کاروبار چھوڑ کر اللہ کے ذکر اور نماز جمعہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔

سورہ المنافقون مدنی سورت ہے۔ اس سورت میں منافقین کے اخلاق ذمیمہ، جھوٹ، قول و فعل میں تضاد اور مسلمانوں سے بغض و عناد کا ذکر کیا جس کا مقصد اہل ایمان کو ان کے شر سے بچانا اور ان خصائل سے خود کو پاک رکھنا تھا۔ آخر میں اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ مال و اولاد کی محبت میں اللہ کے ذکر سے غافل نہ ہوجانا ورنہ دنیا و آخرت میں نقصان اٹھاؤ گے۔

سورہ التغابن مدنی سورت ہے۔ سورت کے آغاز میں اللہ نے اپنی تسبیح و تحمید کا بیان فرمایا اور بعد ازاں دو گروہوں کا ذکر کیا۔ ایک نعمت کی قدر اور شکر کرنے والا جبکہ نعمت کی ناقدری اور انکار کرنے والا ہے۔ تغابن کا معنی ہار جیت ہے، اس سورت میں قیامت کو تغابن کہا گویا کہ یہ بھی ہار جیت کے فیصلے کا دن ہوگا۔

اگلی آیات میں مصائب کا قانون الہی بیان کیا کہ ہر مصیبت اللہ کے حکم سے آتی ہے، جو مصائب میں بھی اللہ کا فرمانبردار بنے گا تو اللہ تعالٰی اس کو دل ہدایت کی راہ پہ چلا دیں گے۔ اس کے بعد اولاد اور مال کو آزمائش قرار دیتے ہوئے تقوی و اطاعت پر قائم رہنے کی تلقین فرمائی اور ایسے افراد سے دوگنا اجر کا وعدہ کیا ہے۔

سورہ الطلاق میں طلاق کے متعلق احکامات کا ذکر کیا جن کا خلاصہ یہ ہے۔ طلاق ایک مقررہ عدت تک ہو۔ عدت کے بعد رجوع کر لو یا خوش اسلوبی سے رخصت کر دو۔ جن عورتوں کو حیض نہ آتا ہو تو ان کی عدت تین ماہ جبکہ حاملہ کی عدت حمل کا وضع ہو جانا ہے۔ حاملہ کی عدت کے دوران رہائش اور کھانے پینے کے اخراجات شوہر کے ذمہ ہوں گے۔ آخر میں قانون الہی کا بیان کیا کہ جو قوم بھی اللہ کی نافرمانی کرتی ہے اس کا انجام ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ پہلی اقوام کا ہوا۔ ان اقوام کے انجام سے عبرت حاصل کرتے ہوئے تقوی اختیار کرنے کی تعلیم دی گئی۔

سورہ التحریم مدنی سورت ہے۔ اس کے آغاز میں نبی علیہ السلام کی قسم کا ذکر فرمایا۔ آپ علیہ السلام نے ازواج مطہرات کی وجہ سے شہد نہ کھانے کی قسم اٹھا لی تھی، اللہ تعالٰی نے محبت بھرے انداز میں متنبہ فرمایا کہ آپ اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام کیوں کر رہے ہیں؟
اگلی آیات میں اہل ایمان کو حکم دیا کہ وہ خود بھی جہنم سے بچیں اور اہل و عیال کو بھی جہنم سے بچائیں۔ اگر کوئی گناہ سرزد ہو گئے ہوں تو اللہ کے حضور توبہ کر لو۔ سورت کے آخر میں دو مثالوں کا ذکر کیا۔ ایک مثال دو پیغمبر نوح علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کی بیویوں کی دی جو کہ ایمان نہ لائیں اور اللہ کے عذاب کی گرفت میں آ گئیں، دوسری مثال فرعون کی بیوی آسیہ کی جو نیک صالح خاتون تھیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی کا مدار خاندان یا حسب پر نہیں بلکہ اعمال پر ہے۔

سورہ الملک مکی سورت ہے۔ اس سورت میں ایک تو بادشاہ حقیقی کا ذکر کیا، کائنات کا حقیقی بادشاہ صرف اللہ تعالٰی ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا اور ایسی خوبصورتی کے ساتھ پیدا کیا کہ اس میں کوئی نقص نہیں ہے۔ چنانچہ اس کی پیدا کی ہوئی اشیاء کا ذکر کر کے اس کے وجود پر دلیل ٹھہرایا ہے۔ اگلی آیات میں قیامت اور پیغمبر کی بات جھٹلانے والوں کا انجام ذکر کیا کہ انہیں جوش مارتی ہوئی دوزخ کی آگ میں ڈالا جائے پھر وہ تمنا اور حسرت کریں گے۔ پھر عذاب کو قریب سے دیکھیں گے تو ان سے کہا جائے گا یہی وہ عذاب ہے جسے تم طلب کیا کرتے تھے۔

سورہ القلم مکی سورت ہے۔ اس سورت کے آغاز میں قلم کی قسم اٹھائی اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق اللہ تعالٰی نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا۔ اس کے بعد مشرکین کے تمام بیہودہ اعتراضات رد کرتے ہوئے نبی علیہ السلام کے اخلاق حسنہ اور اخلاق کے اعلی معیار پر فائز ہونے کی گواہی دی۔

اگلی آیات میں ایک باغ والے کا قصہ بیان کیا جس کا مالک اللہ کے راستے میں خرچ کرتا تھا، اس کے موت کے بعد اولاد نے سارا مال جمع کرنا چاہا اور مساکین کو نہ دینے کا فیصلہ کیا تو اللہ نے صبح ہونے سے قبل ہی سارا باغ ملیا میٹ کر دیا۔ اس کے بعد متقین کے لئے انعامات کا ذکر کر کے فرمایا کہ مسلمان اور کافر برابر کیسے ہو سکتے ہیں؟ پھر مجرمین کا انجام بیان کیا کہ وہ قیامت کے دن سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن نہیں کر پائیں گے۔ قیامت کے دن ان کی نگاہیں جھکی اور چہرہ پر شرمندگی ہوگی اور اس حسرت کرتے رہیں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *