خلاصہ قرآن، اکیسویں قسط

اس مضمون میں سورہ النجم سے سورہ الممتحنہ تک کی سورتوں کا خلاصہ پیش کیا جائے گا۔ سورہ النجم مکی سورت ہے۔ اس سورت کی ابتداء میں نبی علیہ السلام کی رسالت کی صداقت کا ذکر کیا کہ آپ کی ہر بات وحی الہی کی روشنی میں ہوتی ہے۔ آپ علیہ السلام کی صداقت کی ایک دلیل واقعہ معراج ہے جس کا یہاں ذکر کیا اور ان عجائب و غرائب کا ذکر کیا جن کا نبی علیہ السلام نے معراج میں مشاہدہ کیا۔ جیسے جبریل علیہ السلام کو اصلی شکل میں دیکھنا، بیت معمور اور سدرہ المنتہی۔

اگلی آیات میں مشرکین کے اپنے گھڑے ہوئے بتوں لات منات اور عزی کی مذمت کی اور اس عقیدہ کی تردید کی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین کو قیامت میں اپنے شریک کئے ہوئے بتوں سے سفارش کی امید تھی، اس بات کی نفی کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے شرکاء دور کی بات ہے، فرشتے بھی اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش نہیں کر سکتے۔ بعد ازاں ایک قانون بیان کیا کہ ہر ایک اپنے گناہوں کا جواب دہ ہوگا کسی کے گناہ کا بوجھ دوسرے پہ نہیں ڈالا جائے گا۔ آخر میں سابقہ اقوام میں سے قوم عاد اور قوم ثمود کا ذکر کیا تاکہ ان کے انجام سے سرکش لوگ عبرت حاصل کر سکیں۔

سورہ قمر مکی سورت ہے۔ اس سورت میں نبی علیہ السلام کے معجزے کا ذکر کیا۔ مشرکین مکہ کا مطالبہ تھا کہ آپ چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھائیں تو ایمان لے آئیں گے۔ نبی علیہ السلام نے جب انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے کئے تو اس کے باوجود وہ مشرکین ایمان لائے اور اسے جادو قرار دے دیا۔ ان آیات میں مشرکین کی ہٹ دھرمی اور خواہشات کے غلام ہو جانے کا ذکر کیا۔ اسی کے ساتھ قیامت کے قرب کا بیان کیا کہ اب قیامت کا وقت مزید قریب آ چکا ہے۔

اگلی آیات میں قوم ثمود کی سرکشی اور انجام بد کا ذکر کیا اور آخر میں فرعون کی سرکشی اور ان کی ہلاکت کا ذکر کیا۔ درمیان میں قرآن کریم کا اعجاز بیان کرتے ہوئے بار بار اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم نے قرآن کو آسان کر دیا ہے۔ یعنی اس کو یاد کرنا آسان کر دیا کہ چھوٹے بچے سے لے کر بڑی عمر کے افراد تک ہر کوئی یاد کر سکتا ہے، اسی طرح اس کو سمجھنا اور عمل کرنا بھی آسان ہے۔ اب کوئی ہے جو اس پہ عمل کرے؟

سورہ الرحمان مدنی سورت ہے۔ اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالٰی نے ان چند نعمتوں کا ذکر کیا جو انسان پر کیں۔ مثلا قرآن عطا کرنا، انسان کو پیدا کرنا، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دینا، بولنا سکھانا، انسان کی تربیت و پرورش کے لئے غلہ و اناج سمیت مختلف عنایات کرنا، کشتی اور جہاز بنانے کی صلاحیت دینا اور اس سے نفع پہنچانا وغیرہ۔ پھر ان سب کی حقیقت کا ذکر کیا کہ ان سب چیزوں کو ایک دن فنا ہو جانا ہے اور باقی رہنے والی ذات صرف رب ذو الجلال کی ہے۔

اگلی آیات میں قیامت کی منظر کشی کی کہ مجرموں کو ان کی پیشانیوں سے گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائے اور کہا جائے گا یہی وہ جہنم ہے جسے جھٹلاتے رہے۔ پھر اللہ سے ڈرنے والوں پر ہونے والے انعامات و اکرام کا ذکر کیا کہ انہیں جنت، بہتے ہوئے چشمے اور حور و غلمان سمیت متعدد نعمتوں سے نوازا جائے گا۔

اس سورت میں میں ایک آیت کا بار بار تکرار کیا گیا کہ تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتیں جھٹلاؤ گے؟ یعنی انسان اس طرح اللہ کی نعمتوں میں گھرا ہوا ہے کہ اس کے لیے اس کے بعد انکار ممکن نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک بڑی نعمت انسان کو وجود دینا ہے، اس نعمت کی قدر یہ ہے کہ انسان اپنی تخلیق کا مقصد سمجھتے ہوئے اس کی اطاعت و بندگی کرے۔ پھر انسان اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی نعمتوں کے ذریعے اللہ کی معرفت حاصل کرے اور ان نعمتوں کو صحیح مصرف پر خرچ کرے۔ اللہ کی نعمتوں کو اس کی نافرمانی میں استعمال کرنا بھی اس کی ناقدری ہے۔

سورہ الواقعہ مکی سورت ہے۔ اس سورت میں قیامت کے قیام کی منظر کشی کی کہ جب قیامت قائم ہوگی تو زمین میں زلزلہ برپا ہو جائے گا پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور انسان تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ آگے بڑھ جانے والے، خوش بخت، بد بخت۔ پہلے دو کا ٹھکانہ تو جنت ہوگا البتہ مراتب کا فرق ہوگا۔ آخری گروہ جس نے انبیاء اور کتب الہی کی تکذیب کی، ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔

اگلی آیات میں موت کے بعد کی زندگی کو ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالٰی نے اپنی قدرت کے چند نمونے ذکر کئے۔ جو ذات ایک قطرے سے انسان کو پیدا کر سکتی ہے، بیج سے تن آور درخت اور کھیتی آگا سکتی ہے، بادلوں سے پانی برسا سکتا ہے، درخت سے آگ پیدا کر سکتا ہے تو وہ موت کے بعد تمہیں دوبارہ کیوں پیدا نہیں کر سکتا۔ یقینا وہ دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔ آخر میں ستاروں کی قسم اٹھا کر قرآن کریم کی عظمت و رفعت کا ذکر کیا اور اس کے چھونے کے لئے پاکی کو شرط قرار دیا۔

سورہ الحدید مدنی سورت ہے۔ الحدید لوہا کو کہتے ہیں، اس سورت کے آخر میں لوہے کے اتارنے کا ذکر ہے اس لئے اسی نام سے موسوم کیا۔ اس سورت کے آغاز میں اللہ تعالٰی نے اپنی عظمت کا ذکر کیا کہ کائنات کی ہر چیز اسی کی تسبیح میں مشغول ہے۔ اگلی آیات میں اللہ کے راستے میں خرچ کی ترغیب دیتے ہوئے اسے اللہ کو قرض دینے سے تعبیر کیا۔ اس کے بعد دنیا کی بے ثباتی کا بیان ہے۔ دنیا کی حقیقت اللہ کی نظر میں کچھ نہیں، دنیا ایک سراب، دھوکہ اور لہو و لعب ہے سو اس کی ظاہری زینت سے دھوکہ نہ کھانا چاہیے۔
انسان کی ظاہری ضرورت کے ساتھ روحانی و تربیت کی ضرورت تھی اس کے لیے انبیاء کرام کا سلسلہ جاری کیا، اسی سلسلے کی آخری کڑی نبی علیہ السلام اور قرآن کریم ہے، پھر اللہ اور رسول پر ایمان کی ترغیب دی اور بدلے میں انعامات و نور کا وعدہ کیا۔

سورہ المجادلہ مدنی سورت ہے۔ آغاز میں ظہار کا شرعی حکم بیان کیا گیا کہ جاہلیت میں بیوی کو ماں سے تشبیہ دینے کی وجہ سے بیوی ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی، اس حکم کی تردید کرتے ہوئے ظہار کی صورت میں کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ اگلی آیات میں مجلس کے آداب بیان کئے جوکہ مندرجہ ذیل ہیں:
سرگوشی نہ کرو، نئے آنے والے کے لئے مجلس میں وسعت کی جائے، آنے جانے والوں کا راستہ چھوڑا جائے، جب مجلس برخاست کر کے اٹھنے کا کہا جائے تو اٹھ جاؤ۔ آخر میں ان منافقین کا ذکر کرتے ہوئے شیطان کی جماعت قرار دیا جو مومن ہونے کے دعوی کے ساتھ یہود سے دوستی رکھتے تھے جبکہ اس کے بالمقابل ان لوگوں سے رضا کا اعلان کرتے ہوئے اللہ کی جماعت قرار دیا جو کفار سے اللہ کی وجہ سے دوستی نہیں کرتے۔

سورہ حشر مدنی سورت ہے۔ اس سورت میں یہود کے قبیلہ بنو نضیر کی جلا وطنی کا ذکر ہے جو مدینہ میں بلند و بالا قلعہ بنا کر یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اب انہیں کوئی نکال نہیں سکتا، لیکن مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر دم کوشاں رہنے کے جرم میں شام کی طرف بھیج دیا گیا۔ پھر ان کے چھوڑے ہوئے مال کی تقسیم کا طریقہ کار بیان کیا۔

اگلی آیات میں مہاجرین و انصار کی تعریف کرتے ہوئے نمایاں خصوصیت یہ ذکر کی کہ ہر چیز پر اللہ کی رضا کو فوقیت دیتے ہیں، دوسری طرف منافقین کی مذمت کی جو یہود کو تعاون کا یقین دلاتے رہتے تھے۔ آخر میں تقوی کا حکم دیا اور قرآن کریم کی ہیبت کا ذکر کیا کہ یہ اگر پہاڑوں پر نازل ہوتا تو وہ ریزہ ریزہ ہو چکے ہوتے۔ خدائے بزرگ و برتر کی صفات پہ سورت کا اختتام ہوا۔

الممتحنہ مدنی سورت ہے۔ اس سورت میں بنیادی طور پر ان تمام کفار سے تعلقات ختم کرنے کا حکم دیا گیا جو اللہ اور رسول کے دشمن ہوں، معاشرہ میں فساد پھیلاتے ہوں، پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ پر چلنے کی تعلیم دی۔ اگلی آیات میں ان کفار سے حسن سلوک کی ترغیب دی جو مسلمانوں کے خلاف بر سر پیکار نہ ہوں اور نہ ہی مسلمان دشمنوں کی مدد کرتے ہوں۔ آخر میں نبی علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ اگر عورتیں بیعت کرنا چاہیں تو آپ ان سے شرک نہ کرنے، چوری نہ کرنے، زنا نہ کرنے، اولاد کو قتل نہ کرنے اور فحش کام نہ کرنے پر بیعت لیجئے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *