شبِ قدر کی دعا اور "عفو ” کے معانی

تحریر : خلیل الرحمن چشتی

شب قدر کی مسنون دعا ہ: "اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ ، تُحِبُّ الْعَفْوَ ، فَاعْفُ عَنِّي” ۔( ترمذی : 3513 )

"عفو ” کے مختلف معانی: لفظ ” عفو” کا ترجمہ عام طور پر معافی اور معاف کرنے والا کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ لفظ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ یہ لفظ مندرجہ ذیل معانی میں استعمال ہوتا ہے۔

(1) العفو ، اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک ہے۔ بہت معاف کرنے والا ( النساء : 43 ) بخشنے والا۔ درگزر سے کام لینے والا۔ استحقاق سے زیادہ دینے والا۔ گناہوں کے نشانات تک مٹا دینے والا۔ نشو و نما دینے والا، برکت دینے والا ، بڑھانے والا ۔ مانگ بغیر دینے والا۔

(2) ضرورت سے زیادہ فاضل مال، وہ پوچھتے ہیں، کیا خرچ کیا جائے ؟ ( قل العفو ) جو کچھ ضرورت سے زیادہ بچا ہوا ہو۔ ( البقرہ : 219 )

مزید پڑھیں: جامعہ کراچی: بی ایس سی ان آکوپیشنل تھراپی کے نتائج کا اعلان کردیا

(3) بڑھانا ۔ افزائش ۔
اُ عفُـوا اللِحی
داڑھی خوب بڑھاو۔ ( صحیح مسلم )

عفا النبت والشجر
درخت اور پودے بڑھ گئے۔

(4) اپنا جائز حق چھوڑ دینا۔
( و ان تعفوا اقرب التقوی )
بیوی کا حق سے کم مہر لینا ، یا شوہر کا حق سے زیادہ مہر دینا۔ ( البقرہ : 237 )

(5) پھلنا پھولنا۔
"پھر ہم نے ان کی مصیبتوں کو خوشحالی سے بدل دیا (حتیٰ عفو) یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے۔” ( الاعراف : 95 )

( 6) در گزر سے کام لینا ۔ چشم پوشی۔
خذ العفو ( الاعراف : 199 ) "در گزر سے کام لیجے۔”

(7) مانگے بغیر دینا۔ اعطی عفوا۔
اس نے مانگے بغیر خود دے دیا ، گویا وہ دے نہیں رہا ہے ، بلکہ لے رہا ہے۔

مزید پڑھیں: غیر معقول تنخواہ پر معقول امام!!!

(8) عفاہ یعنی اس نے کسی چیز کو لینے کا ارادہ کیا۔

(9) نشانات مٹا دینا۔
عفت الریح الدار
ہوا نے گھر کے نشانات بھی مٹا دیے۔

(10) اسئلک العفو والعافیة ( ابن ماجة )
اے اللہ ! تجھ سے بخشش اور صحت کی سلامتی کا سوال ہے۔

(11) عافیة كا لفظ پرندوں اور جانوروں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔
ما اکلت العافیة ، فھو صدقة ( ابو داود )
کھیتی میں سے جو کچھ پرندے اور جانور کھالیں، وہ صدقہ ہے۔

شبِ قدر کی اس مسنون دعا کا مطلب ہوگا:
اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ ، تُحِبُّ الْعَفْوَ ، فَاعْفُ عَنِّي ۔( ترمذی : 3513 )
اے اللہ ! تو بہت معاف کرنے والا ہے۔ تو بہت بخشنے والا۔ درگزر سے کام لینے والا ہے ۔ استحقاق سے زیادہ دینے والا ہے ۔ بے حد و حساب خزانوں کا مالک ہے۔ گناہوں کے نشانات تک مٹا دینے والا ہے ۔ نشو و نما دینے والا ہے ، برکت دینے والا ہے ، بڑھانے والا ہے ۔ مانگ بغیر دینے والا ہے ، اور پھر یہ تمام صفات تجھے محبوب بھی ہیں، لہذا میری مغفرت کردے ۔ گناہوں کی تفتیش نہ کر۔ گناہوں پر پردہ ڈال دے۔ در گزر سے کام لے۔ میرے نامہ ء اعمال سے سارے گناہ مٹادے۔ جس چیز کا ارادہ کروں ، وہ عطا فرما۔ مجھے میرے حق سے زیادہ دے۔ فضل و کرم سے کام لے۔ جود و سخا کی بارش ہو۔
آمین۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *