غیر معقول تنخواہ پر معقول امام!!!

تحریر : ڈاکٹر محمد اسحاق عالم

ایک مخلص ساتھی ہیں۔ اچھا بزنس کرتے ہیں۔ علماء سے مخلصانہ تعلق بھی رکھتے ہیں۔ رمضان سے قبل ان کے ساتھ ایک لمبی نشست ہوئی۔ کافی دیر کی گپ شپ میں کہنے لگے کہ اکثر مساجد کے اماموں کا جمعہ کا بیان معقول نہیں ہوتا، وہی روایتی باتیں ہوتی ہیں، معاشرتی مسائل پر گفتگو نہیں ہوتی، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہیں کوئی سمجھاتا نہیں ہے؟

میں نے اس پر انہیں طویل جواب دیا جس کا خلاصہ عرض کردیتا ہوں:

مزید پڑھیں: جامعہ کراچی میں پاکستانی و ایرانی اداروں کے تحت ویبینار سیریز کا آغاز

ان اماموں کو اپنی مساجد سے جو تنخواہ ملتی ہے، ایسی تنخواہوں پر معقول بیانات نہیں ہوسکتے، اگر کوئی اضافی مطالعہ کرکے اچھا بیان کر رہا ہے تو اس کے ہاتھ چومنے چاہییں۔ اکثر آئمہ مساجد مالی لحاظ سے بہت کمزور ہوتے ہیں اور جس شخص کے مالی وسائل کمزور ہوں وہ ذہنی دباؤ کا شکار رہتا ہے، ایسے میں وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید برباد تو کرسکتا ہے لیکن انہیں بروئے کار نہیں لاسکتا۔

مسجد والے ان کو معقول تنخواہیں دینا شروع کردیں پھر دیکھیں کہ ان کا دماغ کیسا کام کرتا ہے۔ یہ پھر جمعہ کے بیان کے لیے پورا ہفتہ تیاری کریں گے۔ لیکن جب خدمات کی حوصلہ افزائی نہ ہو اور اس کا معقول مشاہرہ نہ ہو تو پھر وہاں معقول خدمات سرانجام دینا مشکل ہوجاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے نے ہمارے موقف کی تائید کردی، پی ٹی آئی کا رد عمل

علماء میں بھی اچھی اور کمزور صلاحیت والے ہوتے ہیں۔ جب مسجد کمیٹی والے امامت کی تنخواہ دس ہزار اور پندرہ ہزار روپے بتاتے ہیں تو یہ سن کر اچھی صلاحیت والے علماء وہیں سے پلٹ جاتے ہیں جس کے بعد کمزور صلاحیتوں والا مولوی مصلی پر آجاتا ہے، سو یہ مسجد کے امام کا مسئلہ کم جبکہ متعلقہ امام کو اُس مصلی پر کھڑا کرنے والی کمیٹی کا مسئلہ زیادہ ہے۔

اصل قصوروار کمیٹی کے وہ افراد ہیں جنہوں نے زیادہ تنخواہ مانگنے والے باصلاحیت مولوی کی جگہ کم تنخواہ والے کمزور مولوی کو رکھا ہے۔ آپ تگڑی تنخواہ اور تگڑی رہائش آفر کریں پھر دیکھیں کہ مسجد کو اچھا امام و خطیب میسر آتا ہے یا نہیں۔ شہروں میں دونوں طرح کی مثالیں موجود ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *