سندھ سرکار جدید دور میں 1995 کا کمپیوٹر نصاب پڑھانے کیلئے بضد

جدید سائنسی ٹیکنالوجی کے دور می بھی سندھ حکومت اپنے شہریوں کو کمپیوٹر کے مضمون میں‌ دھائی دہائی پرانا نصاب پڑھانے پر تلی ہوئی ہے.

مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں میٹرک کی سطح پر اسکیم آف اسٹڈیز کی تبدیلی کے ساتھ سائنس کے تمام مضامین کی درسی کتب بشمول نویں اور دسویں کلاسز میں پڑھانے کے فیصلے کے بعد جو نئی اسکیم آف اسٹڈیز جاری کی گئی ہے اس میں بھی نئے نصاب کے بجائے کمپیوٹر سائنس کی پرانی کتاب کے اسباق ہی تقسیم کردیے گئے ہیں.

اس سے ظاہر ہے کہ ایک بار پھر سندھ کے طلبہ طالبات ممکنہ طور پر نئے تعلیمی سال میں بھی تقریبا 25 سال پرانے نصاب کو پڑھیں گے.

سندھ کے طلبہ 2020 میں‌ہوتے ہوئے بھی 1995 میں جاری کی گئی کتب میں موجود ونڈوز آپریٹنگ سسٹم، ڈوز اور اسکرپٹنگ لینگویجز میں‌ جی ڈبلیو بیسک کو ہی جدید لینگویج کے طور پر پڑھیں گے.

اس بات کاانکشاف ثانوی تعلیمی بورڈکراچی کی جانب سے محکمہ اسکول ایجوکیشن کو لکھے گئے ایک خط میں کیا گیا ہے.

چیئرمین ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی پروفیسر ڈاکٹر سعید الدین نے اپنی جانب سے سابق سیکریٹری اسکول ایجوکیشن احسان منگی کو لکھے گئے خط میں نشاندہی کی کہ صوبائی محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے 9 دسمبر 2019 کو کمپیوٹر سائنس کے نصاب کے حوالے سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ نئی اسکیم آف اسٹڈیز کے مطابق نویں جماعت میں کمپیوٹرسائنس کے مضمون میں اس کتاب کے 7 اسباق اور دسویں جماعت میں 3 اسباق پرانے سلیبسہی سے ہی پڑھائے جائیں گے۔

میٹرک بورڈ کراچی کی جانب سے لکھے اس خط میں محکمہ اسکول ایجوکیشن کے سیکریٹری سے سفارش کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے محکمے کو ہدایت جاری کریں کہ محکمے کی جانب سے کمپیوٹر سائنس کا متروک مواد طلبا کو پڑھانے کی تیاری کیوں کی جارہی ہے جبکہ اس مضمون کی نئی ’’کورس آف اسٹڈیز‘‘ تیار کرکے ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق سلیبس کے نئے ڈرافٹ میں نویں جماعت کے لیے 7 اسباق (یونٹ) اور دسویں کیلیے بھی علیحدہ 7 اسباق بمعہ Lab activities دیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ کمپیوٹر سائنس کی جس کتاب اور اس کے اسباق کاانتخاب کیا ہے اس کتاب کے باب نمبر 4 میں اسٹوریج ڈیوائسز میں سیکنڈری ڈیٹا اسٹوریج کے طور پر “میگنیٹک اسٹوریج ڈیوائسز‘‘ میں ’’فلوپی ڈسک، ہارڈ ڈسک، سی ڈی اور سی ڈی روم، میگنیٹک ٹیپ‘‘ (کیسٹ) کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

ایک سروے کے مطابق دنیا بھرمیں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں ہارڈ ڈسک کے علاوہ فلاپی ڈسک، سی ڈی روم اور میگنیٹک ٹیپ کا استعمال تقریبا ختم ہوچکا ہے یا ماضی کا حصہ بن چکا ہے.

پاکستان جیسے ممالک میں‌ بھی عام طور پر گھروں میں استعمال ہونے کے لیے بھی کمپیوٹر کے یہ آلات موجود ہی نہیں ہوتے جبکہ ڈیٹا کی اسٹوریج کا زیادہ تر کام موبائل فون یا پھر یو ایس بی‌ ڈوائسز کی مدد سے ہورہا ہے.

والدان کا کہنا ہے کہ اگر ان چیزوں کے بارے میں بچوں کو بتایا جائے تو وہ تیزی سے آگے نکلتی دنیا سے کس طرح مقابلہ کر سکیں گے.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *