خلاصہ قرآن، انیسویں قسط

اس مضمون میں سورہ فصلت، الشوری، الزخرف، الدخان اور سورہ الجاثیہ کا خلاصہ پیش کیا جائے گا۔ سورہ فصلت مکی سورت ہے۔ اس میں سجدہ تلاوت ہے اس لئے اس کو حم سجدہ بھی کہتے ہیں۔

اس سورت کے آغاز میں قرآن کریم کا ذکر کیا، اس کتاب کا نزول ساری کائنات کے مہربان و رحیم ذات کی طرف سے ہوا۔ اس سورت کے احکام، معانی، مضامین، قصے، مواعظ، امثال اور وعدہ و وعید بالکل واضح ہیں۔ اس کتاب کے اتنے واضح ہونے کے باوجود بھی بہت سے لوگ اس سے اعراض کرتے ہیں اور بزبان خود کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر پردہ ہے اور کانوں میں رکاوٹ ہے اور پیغمبر سے کہتے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان پردے حائل ہیں، اس لئے آپ کی نہ دعوت سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی دیکھتے ہیں۔

اگلی آیات میں مشرکین کفر و شرک پر تعجب کیا گیا کہ وہ اتنی کھلی دلیلیں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے۔ پھر قوم عاد اور قوم ثمود کے حالات کو مختصرا بیان کیا کہ انہوں نے طاقت کے گھمنڈ میں اور دنیاوی لذتوں کی خاطر پیغمبر کی دعوت کو جھٹلایا اور انجام بد کو پہنچے۔ پھر ان کے مد مقابل اہل ایمان کا ذکر کیا جو اپنے ایمان پر ہر قسم کے حالات میں ثابت قدمی اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں، ان کے لئے من من چاہی زندگی کا وعدہ کیا گیا۔ آخری آیات قیامت کا ذکر کیا کہ اس یقینی علم صرف اللہ کے پاس ہے، ساری کائنات اپنے کاموں مشغول ہوں گے کہ اچانک قیامت واقع ہو جائے گی اور ساری حقیقت کھل جائے گی۔

سورہ الشوری مکی سورت ہے۔ اس کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے جو قرآن کا اعجاز ہے۔ یہ انہی حروف سے بنا ہوا کلام ہے جنہیں انسان استعمال کرتا ہے، اگر یہ کلام کسی انسان کا بنایا ہوا ہے تو تم بھی ایسا کلام لا کر دکھاؤ لیکن انسانیت اس سے عاجز ہی رہے گی۔

اگلی آیت میں وحی اور رسالت کی حقیقت بیان کی کہ اللہ تعالٰی نے ایک ہی دین کے لئے تمام انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا، ان سب کا دین ایک تھا اور وہ اسلام تھا البتہ شریعتیں مختلف تھیں۔ اس لئے تمام انسانیت کو اسی دین کی اتباع اور پیروی کا حکم دیا گیا اور اختلاف و تفرقہ سے منع کیا گیا۔ اس کے بعد مومنین کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں، کبیرہ گناہوں اور فحش کاموں سے اجتناب کرتے ہیں، اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہیں، نماز کی پابندی کرتے ہیں، تمام امور باہمی مشاورت سے طے کرتے ہیں، ظلم و زیادتی کا مناسب انداز میں بدلہ لیتے ہیں۔ آخر میں وحی کی اقسام و مختلف طریقے ذکر کر کے اس سورت کا اختتام فرمایا۔

سورہ الزخرف مکی سورت ہے۔ اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالٰی نے اپنی قدرت کے چند مظاہر کا ذکر کیا جن کو ہر صاحب عقل آدمی سمجھ سکتا ہے۔ اس کے بعد زمانہ جاہلیت کی ایک بری رسم کا ذکر کیا کہ وہاں بیٹی کا وجود باعث عار تھا چنانچہ اسے پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا جبکہ دوسری طرف منافقت کا عالم یہ ہے مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔

اگلی آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کیا کہ ان کی شخصیت تمام مذاہب میں قابل احترام ہے۔ مشرکین بھی دعوی کرتے کہ ہم ملت ابراہیمی پر ہیں، اس کا دعوے کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام تو موحد تھے یہ شرک کر کے کس طرح خود ملت ابراہیمی کا تابع دار کہہ سکتے ہیں؟

اس کے بعد نبی علیہ السلام کی دعوت کا ذکر کیا کہ ان کی دعوت پر مشرکین نے جادوگر، مجنون کہا اور جہالت پر مبنی اعتراضات کئے کہ اللہ تعالٰی نے طائف اور مکہ کے کسی سردار اور مال دار کو پیغمبر بناتے ایک یتیم اور فقیر شخص کو نبی کیوں بنا دیا؟ جبکہ نبوت کا تعلق مال و اسباب کے ساتھ نہیں بلکہ اللہ تعالٰی کے انتخاب کے ساتھ ہے۔ اسی جہالت کی مثال پیش کرتے ہوئے موسی علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ نقل کیا، فرعون جسے اپنے اقتدار، سونا چاندی اور اسباب پہ بڑا ناز تھا، پیغمبر کی مخالفت کے نتیجے غرق کر دیا گیا اور اس کے مال اسباب اسے بچانے کے لئے کچھ کام نہ آ سکے۔ سورت کے اختتام پر نبی علیہ السلام کو بھی ان جاہلوں سے اعراض کرنے کا حکم دیا گیا اور فرمایا کہ ان سے کہدیجئے کہ عنقریب تمہیں اپنا انجام معلوم ہو جائے گا۔

سورہ الدخان مکی سورت ہے۔ دخان کا معنی دھواں ہوتا ہے کیوں کہ اس سورت میں اس دخان کا ذکر ہے جو قحط اور بھوک کی وجہ سے دکھائی دیتا تھا۔

سورت کے آغاز میں قرآن کریم کی ایک صفت مبین کا ذکر کیا جس کا معنی یہ ہے کہ قرآن اپنے معنی و مفہوم کے لحاظ سے انتہائی واضح ہے۔ لیکن اس کے بعد بھی مشرکین اور کفار قرآن کریم میں شک کرتے ہیں اور اس کی تعلیمات سے انحراف کرتے ہیں، ان کو برےانجام سے ڈرانے کےلئے فرعون کی مثال دی کہ اس کے پاس کتنے وسائل تھے لیکن موسی علیہ السلام اور کتاب اللہ کی مخالفت کی وجہ سے کوئی طاقت اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی۔ اگر تم بھی باز نہیں آؤ گے تو تمہارا انجام بھی یہی ہوگا۔ مجرمین کے کانٹے دار کھانے کا تذکرہ کرتے ہوئے آخر میں متقین کا بھی انجام ذکر کیا کہ انہیں جنت میں مختلف انواع و اقسام کی نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

سورہ جاثیہ مکی سورت ہے۔ جاثیہ کا معنی گھٹنوں کے بل بیٹھنا ہے۔ قیامت کے دن لوگ خوف کی وجہ سے دربار الہی میں گھٹنے کے بل بیٹھے ہوں گے، اس منظر کا اس سورت میں بیان کیا اس لئے اسے اس نام سے موسوم کیا۔

اس سورت میں ان نشانیوں اور دلائل کا ذکر کیا کہ جو اللہ تعالٰی کی عظمت، قدرت اور وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں لیکن اس کے باوجود جنہوں نے تکبر و سرکشی کرتے ہوئے اللہ کی ذات مقدس کا انکار کیا۔ ان کے واقعات اس لئے ذکر کیا کہ ہر زمانے کے کفار و مشرکین ان سے عبرت حاصل کرے اور اس کفر سے باز آ جائے۔ آخر میں قیامت کے مناظر کشی کہ ان کفار و مشرکین پہ کتنا خوف و رعب چھا جائے گا کہ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوں گے اور ان سے کہا جائے جس طرح دنیا میں تم ہمیں بھلا چکے تھے آج ہم تمہیں بھلا دیں گے، تم ہماری نشانیوں کا مذاق اڑاتے رہے آج تم خود مذاق بن کر رہ گئے ہو۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *