ایف آئی اے و NAB انکوائریوں میں ملوث EOBI افسر ایوب خان عہدے پر بحال

کراچی : غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ میں کروڑوں روپے کے غبن میں ملوث، FIA کی دو FIR میں نامزد ملزم اور عبوری ضمانت پر رہنے والا انتہائی بددیانت اور بدعنوان اعلیٰ افسر محمد ایوب خان ملازمت پر بحال اور منفعت بخش عہدہ پر تعیناتی کر دی گئی ۔

وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل حکومت پاکستان کے ذیلی ادارہ ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن EOBI میں لاقانونیت ایک بار پھر اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے ۔ جس کے باعث ادارہ کی ڈیپوٹیشن انتظامیہ کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال اور بڑے پیمانے پر قانون شکنی اور ای او بی آئی کے غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سلسلہ تا حال جاری ہے ۔

جس کی تازہ مثال ملک کے لاکھوں غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ میں دو مختلف جرائم اور کروڑوں روپے کے غبن میں ملوث اور ایف آئی اے کراچی اور اسلام آباد کی جانب سے دو ایف آئی آر میں نامزد شدہ اور عبوری ضمانت پر اور سخت سزا کے مستحق اعلیٰ افسر محمد ایوب خان کو ایک بھاری سیاسی سفارش کے ذریعہ نہ صرف ملازمت پر بحال کردیا گیا ہے بلکہ اس انتہائی بد دیانت افسر کو انتہائی منفعت بخش اور کلیدی عہدہ پر بھی تعینات کر دیا گیا ہے ۔

اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کا ایک سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد ایوب خان جو ایک بھاری سفارش کی بدولت 6 نومبر 2007ء کو ای او بی آئی جیسے قومی فلاحی ادارہ میں ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس بھرتی ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا اور ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس نے 8 نومبر 2007ء کو اسٹیٹ لائف سے استعفیٰ دیا تھا ۔ اس طرح محمد ایوب خان نے ماہ نومبر 2007ء کی تنخواہ اسٹیٹ لائف اور ای او بی آئی دونوں اداروں سے حاصل کی تھی ۔

ای او بی آئی میں انتہائی مشکوک طریقہ سے بھرتی ہونے والے افسر محمد ایوب خان ایمپلائی نمبر 923444 موجودہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، فنانس ہیڈ آفس کے خلاف ماضی 2010ء میں EOBI کے غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ سے انوسٹمنٹ کے نام پر اور اپنے بھاری کمیشن کے لالچ میں میسرز AKD سیکوریٹیز لمیٹڈ کراچی کے CEO محمد فرید عالم، محمد اقبال، ڈائریکٹر اور طارق کی ملی بھگت سے میسرز ایمٹیکس پرائیویٹ لمیٹڈ کراچی کے انتہائی کم قیمت مالیت کے ہزاروں شیئرز انتہائی بلند نرخوں پر خریدنے کے اسکینڈل میں EOBI کے غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ کو 290 ملین روپے کا ناقابل تلافی نقصان پہنچانے میں شامل ہیں ۔

 

جس کے الزام میں انکوائری نمبر 34/2014 بتاریخ 23 ستمبر 2014ء میں اختیارات کے غلط استعمال اور سنگین مالی بدعنوانیوں کے الزامات ثابت ہو جانے کے بعد ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی نے عبوری ضمانت پر رہنے والے EOBI کے افسر محمد ایوب خان ولد امیر دوست محمد سمیت میسرز AKD سیکیورٹیز لمیٹڈ کراچی کے CEO محمد فرید عالم ولد محمد عالم قریشی، محمد اقبال ولد اسماعیل، ڈائریکٹر اور طارق ولد آدم کے خلاف EOBI کے غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ کو 290 ملین روپے کا ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے الزام میں FIA کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی، میں ریاست بذریعہ علی مراد، انسپکٹر FIA کراچی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی زیر دفعہ 409/109/34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ جس پر محمد ایوب خان عبوری ضمانت پر ہے۔

اس FIR کے درج ہونے کے بعد اس وقت کی EOBI کی انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے محمد ایوب خان، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل فنانس ہیڈ آفس کو بذریعہ نوٹیفکیشن نمبر 07/2016 بتاریخ 8 جنوری 2016ء اسے ملازمت سے معطل کر دیا تھا .محمد ایوب 290 ملین روپے کے اس غبن میں ملوث ہونے کے علاوہ فنانس ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کراچی میں اپنی تعیناتی کے باوجود اپنے زبردست اثر و رسوخ کی بدولت EOBI کے غیر فعال ذیلی ادارہ سہارا انشورنس کمپنی اسلام آباد کے CEO کی حیثیت سے غیر قانونی طور پر بھاری تنخواہیں، پرکشش مراعات، TADA اور اجلاسوں کے نام پر بھاری فیسیں بھی وصول کرتا رہا ہے ۔

اسی طرح انتہائی بدعنوان افسر محمد ایوب خان، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل فنانس نے 2013ء میں EOBI ریجنل آفس ایبٹ آباد کے ایک ملازم علی حسین، اسسٹنٹ کی جانب سے غیر قانونی طور پر EOBI کے کئی کروڑ روپے مالیت کے آجروں سے وصول شدہ کنٹری بیوشن کی رقم کو غیر قانونی طور سے اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں جمع کرنے کے سنگین الزامات کے تحت اس کیس کے انکوائری افسر کی حیثیت سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے بعض اعلیٰ افسران کی ساز باز سے ملزم علی حسین سے منہ مانگی بھاری رشوت کے عوض اس کی انکوائری رپورٹ میں سفارش کی کہ علی حسین نے اعتراف جرم کرتے ہوئے اقرار کیا ہے کہ وہ کنٹری بیوشن کی مد میں غبن کی گئی تین کروڑ روپے کی رقم EOBI کو واپس کر دے گا ، لہذا اسے عہدہ میں تنزلی کی معمولی سزا دے کر اور تنبیہہ کرتے ہوئے درگزر سے کام لیا جائے ۔

لہذا محمد ایوب خان کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ملزم علی حسین کو پنشن فنڈ کی بھاری رقم میں سنگین خیانت کی سخت سزاء سے بچا کر محض اس کی ایک سالانہ ترقی روک لی گئی تھی ۔ جس کے باعث بددیانت اور بدعنوان ملازم علی حسین آج بھی EOBI کی ملازمت سے پوری طرح لطف اندوز ہو رہا ہے اور اب اس کی تعیناتی ای او بی آئی آفس اسلام آباد میں ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 1976ء میں EOBI کے قیام کا بنیادی مقصد ملک کے نجی شعبہ کے ملازمین اور کارکنوں کو ان کے اداروں اور مالکان کے ذریعہ رجسٹر کرکے اور ان کے آجروں سے ماہانہ کنٹری بیوشن وصول کرکے انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد اور معذوری کی صورت میں میں تاحیات پنشن فراہم کرنا ہے اور ان کی وفات کی صورت میں ان کے پسماندگان کو بھی تاحیات پنشن فراہم کرنا ہے ۔

اسی لئے قانون کے مطابق ای او بی آئی کو ایک قومی وقف (Trust) ادارہ کی حیثیت حاصل ہے ۔ جس کے پیش نظر وفاقی حکومت نے EOBI کو انکم ٹیکس سے بھی مستثنیٰ قرار دیا ہوا ہے اور اسی لحاظ سے EOBI ایکٹ مجریہ 1976ء تحت ادارہ کے تمام افسران اور ملازمین بھی اس وقف ادارہ کے لئے متولی (Trustees) کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اسی لئے EOBI کا اعلیٰ سطحی سہ فریقی انتظامی بورڈ، بورڈ آف ٹرسٹیز کہلاتا ہے۔

لیکن پچھلے دنوں ایک طویل عرصہ کے بعد جب علی حسین کی جانب سے غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ میں کروڑوں روپے کے غبن کیس کا معاملہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اسلام آباد کے ایک اجلاس میں منظر عام پر آیا تو کمیٹی نے اس معاملہ پر سی EOBI کی انتظامیہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کیس کو فوری طور پر منطقی انجام تک پہنچانے کا حکم دیا ۔ جس پر EOBI کی انتظامیہ حرکت میں آئی اور چھان بین کے بعد حیرت انگیز طور پر یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا کہ محمد ایوب خان کی انکوائری رپورٹ کے برعکس ملزم علی حسین نے EOBI کو غبن شدہ کروڑوں روپے کی رقم سے واپس ہی نہیں کی اور EOBI کے فنانس ڈپارٹمنٹ میں اس رقم کے جمع کرائے جانے کا بھی کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے ۔ اس کرپشن کیس سے محمد ایوب خان جیسے بددیانت اور بدعنوان افسر کے صادق اور امین اور Trustee ہونے کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔

اسی طرح 2016ء سے 2022ء تک کے اپنے پورے عرصہ معطلی کے دوران محمد ایوب خان کو اس کے زبردست اثر و رسوخ کی بناء پر EOBI کے سرکاری ریکارڈ تک مکمل رسائی حاصل رہی ۔ محمد ایوب خان اپنی چھ برس کی معطلی کے دوران اپنی بھاری تنخواہوں، پرکشش مراعات، بھاری میڈیکل، انٹر ٹینمنٹ الاؤنس، سینکڑوں لٹر پٹرول، ڈرائیور الاؤنس ،گاڑی کی مرمت اور مینٹیننس ، گھریلو ملازم کی تنخواہوں، گھر پر فون اور اخبارات کی سہولت سے پوری طرح لطف اندوز ہوتا رہا اور اس کے استعمال میں EOBI کی سرکاری ٹویوٹا کرولا 1800سی سی گاڑی رجسٹریشن نمبر GW-290 بھی رہی ۔

واضح رہے کہ ملک کے لاکھوں غریب محنت کشوں اور ان کی بیواؤں اور یتیموں کی پنشن کے قومی ادارہ EOBI میں اس انتہا درجہ کی لاقانونیت کے باعث غریب محنت کشوں کی پنشن فنڈ میں بڑے پیمانے پر غبن پر غبن ، بڑے پیمانے پر لوٹ کھسوٹ اور سنگین مالی بدعنوانیوں کے متعدد کیسز پر پہلے ہی FIA اور NAB کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں تحقیقات جاری ہیں اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں جون 2013ء کے ازخود نوٹس 35/2013 کے تحت 40 ارب روپے کے EOBI میگا لینڈ اسکینڈل کی سماعت تاحال جاری ہے ۔

اس سلسلہ میں پچھلے برس 12 نومبر 2021ء کو FIA انٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے EOBI کے ایک ذیلی ادارہ پاکستان ریئل اسٹیٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی PRIMACO کی جانب سے ایک بڑے تعمیراتی منصوبہ سائن پلیکس اینڈ کمرشیل کمپلیکس سیکٹر آئی-8 اسلام آباد کے ٹھیکوں اور تعمیرات میں اختیارات کے ناجائز استعمال،غبن اور سنگین مالی بدعنوانیوں کے خلاف انکوائری نمبر 19/2014 اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 2010-2013 کے دوران اس وقت کے چیئرمین ظفر اقبال گوندل اور اس کے حواری افسران واحد خورشید کنور، نجم الثاقب صدیقی اور دیگر کی جانب سے پنشن فنڈ سے انوسٹمنٹ کے نام پر کراچی، سکھر، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور چکوال میں انتہائی ارزاں قیمت کی 18 اراضیات و املاک کی غیر قانونی طور پر بلند قیمتوں میں خریداری پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں 40 ارب روپے کے میگا لینڈ اسکینڈل کے از خود نوٹس نمبر 35/2013 کے مطابق تحقیقات کے بعد EOBI کے غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ کو 3773.67 ملین روپے کا بھاری مالی نقصان پہنچانے کے الزام میں محمد ایوب خان سمیت EOBI اور PRIMACO کے حاضر ملازمت اور سابق 18 افسران اور کرپشن کے شہنشاہ اور ای او بی آئی کے ایک سابق چیئرمین ظفر اقبال گوندل، عبدالرؤف چوہدری، سابقہ سی ای او PRIMACO، اسلام آباد، چوہدری طاہر حسین، سی ای او، میسرز اسکائی ویز کنسٹرکشن، کرامت اللہ چوہدری، بورڈ ممبر PRIMACO، اسلام آباد، انعام الرب منہاس،انچارج زیرک انٹر نیشنل، محمد ایوب خان، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل فنانس ای او بی آئی ہیڈ آفس کراچی، سید اقبال شاہ، ڈائریکٹر PRIMACO، اسلام آباد، قاضی افتخار احمد، ڈائریکٹر PRIMACO، اسلام آباد، نجم الثاقب صدیقی، ڈائریکٹر PRIMACO، اور ڈائریکٹر جنرل فنانس اینڈ اکاؤنٹس ای او بی آئی ،فاروق احمد خان، ڈائریکٹر PRIMACO، واحد خورشید کنور، سابق ڈائریکٹر جنرل/ انوسٹمنٹ ایڈوائزر ای او بی آئی، بریگیڈیئر (ر) شاداب علی میسرز دی انجینئرز، عائشہ نور اعوان، جنرل منیجر فنانس اینڈ اکاؤنٹس PRIMACO ، اسلام آباد ، محمد جمیل، ڈائریکٹر چیئرمین سیکریٹیریٹ ای او بی آئی ہیڈ آفس کراچی،آصف آزاد ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکاؤنٹس ای او بی آئی ہیڈ آفس کراچی، آفتاب ناگوری، اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ ای او بی آئی ہیڈ آفس کراچی اسد اللہ بھونیر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، انوسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ ای او بی آئی کراچی اور محمد افضل، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ریئل اسٹیٹPRIMACO کراچی کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 409،420،448 اور 471 کے تحت ایک ایف آئی آر نمبر 65/2021 بتاریخ 12 نومبر 2021 کو درج کی گئی تھی جس کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران ضمانت مسترد ہونے پر ای او بی آئی کے سابق چیئرمین اور کرپشن کے شہنشاہ ظفر اقبال گوندل اور دیگر افسران احاطہ عدالت سے فرار ہوگئے تھے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے مستقبل میں پنشن کی امید پر ملک کے لاکھوں غریب محنت کشوں کی جانب سے اپنا پیٹ کاٹ کر EOBI کے پاس بطور امانت جمع کرائے جانے والے ماہانہ چندہ (Contribution) کی اس امانتی رقم (Trust Money) کو غبن میں ملوث EOBI کے افسر محمد ایوب خان، ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل فنانس کو FIA کی جانب سے 290 ملین روپے کے شیئرز اسکینڈل اور پھر غریب محنت کشوں کے پنشن فنڈ کو 3773.67 ملین روپے کا ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے اہم کیسوں میں نامزدگی اور عبوری ضمانت پر ہونے کے باوجود اسے فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرنے اور غبن شدہ بھاری رقوم کی بازیابی کے بجائے اسے EOBI میں ایک بار پھر منفعت بخش اور انتہائی کلیدی عہدہ پر تعینات کرنے میں EOBI میں خلاف ضابطہ طور پر ڈیپوٹیشن پر تعینات سیکریٹیریٹ گروپ حکومت پاکستان کی گریڈ 20 کی افسر اور اپنے سابقہ محکمہ میں سنگین مالی بدعنوانیوں کے الزامات کے تحت ایک NAB ریفرنس میں نامزد شازیہ رضوی ڈائریکٹر جنرل HR ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کا انتہائی اہم کردار ہے .

جنہوں نے میرٹ کے بجائے محض زبان اور بھاری سفارش کی بنیاد پر EOBI کے انتہائی بدعنوان اور غاصب افسر محمد ایوب خان پر زبردست نوازشات کی بارش کرتے ہوئے نہ صرف اسے غیر قانونی طور ملازمت پر بحال کیا ہے بلکہ اسے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، ایڈجوڈیکینگ اتھارٹی، I سندھ اور بلوچستان کا منفعت بخش اور انتہائی کلیدی عہدہ بھی بخش دیا گیا ہے ۔

اس سلسلہ میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ڈائریکٹر جنرل HR ڈپارٹمنٹ شازیہ رضوی کے احکامات پر ابریز مظفر ملک، ڈپٹی ڈائریکٹر HR ڈپارٹمنٹ ہیڈ آفس کے دستخطوں سے جاری شدہ نوٹیفکیشن نمبر 147/2022 بتاریخ 14 اپریل 2022 کے مطابق 2016ء سے معطل شدہ اور عبوری ضمانت پر رہنے والے افسر محمد ایوب خان کو نہ صرف فوری طور پر ملازمت پر بحال کر دیا گیا ہے بلکہ اسی تاریخ کو جاری شدہ ایک دوسرے نوٹیفکیشن نمبر 148/2022 کے ذریعہ محمد ایوب خان کو ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایڈجوڈیکینگ اتھارٹی، I کراچی ( سندھ اور بلوچستان ) کے منفعت بخش اور انتہائی کلیدی عہدہ پر تعینات کر دیا گیا ہے ۔ جو EOBI کے دیانتدار اور اچھی ساکھ کے حامل چیئرمین شکیل احمد منگنیجو کی اصول پرستی پر بھی ایک زبردست سوالیہ نشان بن گیا ہے ۔

واضح رہے کہ ایڈجوڈیکینگ اتھارٹی کی سربراہی EOBI میں ایک انتہائی اہم اور کلیدی عہدہ میں شمار کیا جاتا ہے اور ایڈجوڈیکینگ اتھارٹی EOBI میں ایک نیم عدالتی اور خود مختار ادارہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے سربراہ کے پاس EOBI ایکٹ 1976 ء کے تحت جج کے عہدہ کے مساوی لامحدود اختیارات حاصل ہوتے ہیں ۔ محمد ایوب خان ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے دائرہ اختیار میں کراچی کے سات ریجنل آفسوں کے علاوہ حیدر آباد، کوٹری، لاڑکانہ اور سکھر جبکہ بلوچستان میں حب اور کوئٹہ کے ریجنل آفس آتے ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں EOBI کی تین ایڈجوڈیکینگ اتھارٹی کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں کام کر رہی ہیں ۔ جہاں EOBI میں رجسٹر شدہ آجران، ملازمین اور پنشنرز EOBI ایکٹ 1976 کی دفعات 33 اور 34 کے تحت EOBI کے متنازعہ فیصلوں کے خلاف اور اپنی شکایت کے ازالہ کے لئے حصول انصاف کے لئے رجوع کرتے ہیں ۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ انتہائی بددیانت اور بدعنوان افسر محمد ایوب خان کے انتہائی داغدار اور بدعنوان ماضی سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس بار بھی اس منفعت بخش اور کلیدی عہدہ پر تعینات ہوکر اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے بڑے بڑے کاروباری ،تجارتی اداروں، ، فیکٹریوں اور کمپنیوں
کے مالکان اور آجران کو EOBI ایکٹ 1976ء کی پیچیدگیوں اور موشگافیوں میں الجھا کر اور انہیں قانون کے نام پر بھاری جرمانوں اور املاک کو سربمہر کرنے سے ڈرا دھمکا کر اور ہراساں کرکے ان سے بھاری رقوم بٹورے گا ۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ محمد ایوب خان جیسے انتہائی بددیانت اور بدعنوان اور FIR کراچی اور اسلام آباد کی جانب سے دو FIR میں نامزدگی اور عبوری ضمانت پر ہونے کے باوجود اس بدعنوان افسر کو ملازمت پر بحال کرنے اور ساتھ ہی اسے منفعت بخش اور انتہائی کلیدی عہدہ پر تعینات کرنے پر ملک کے لاکھوں غریب محنت کشوں کی پنشن کے قومی ادارہ کا اللہ ہی حافظ ہے ۔

ای او بی آئی کے ملازمین اور EOBI کے لاکھوں پنشنرز نے نئے وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے EOBI کے اعلیٰ افسران کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال، EOBI پنشن فنڈ میں غبن، لوٹ کھسوٹ، لاقانونیت اور بڑے پیمانے پر کرپشن کے فوری خاتمہ اور کرپشن اسکینڈلز میں ملوث بااثر اور طاقتور افسران کے خلاف فوری طور پر سخت کارروائی کی اپیل کی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *