خلاصہ قرآن، سولہویں قسط

اس مضمون میں سورہ النمل، القصص اور سورہ العکنبوت کے کچھ حصے کا خلاصہ پیش کیا جائے گا۔ سورہ النمل مکی سورت ہے۔ نمل چیونٹی کو کہتے ہیں اس سورت میں چیونٹی کا قصہ نقل کیا ہے اسی مناسبت سے اس کا نام النمل رکھا گیا۔ اس سورت کی ابتداء میں حضرت موسی، صالح اور لوط علیہم السلام کے قصے اجمالی طور پر جبکہ حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام کا قصہ تفصیل سے بیان کیا ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالٰی نے تمام مخلوقات پر حکومت عطا کر رکھی تھی اور انسانوں کے ساتھ ساتھ جنوں اور پرندوں کو بھی ان کے لئے مسخر کر دیا تھا اور وہ ان کی بولیاں سمجھتے تھے۔ چنانچہ ایک دن سلیمان علیہ السلام اپنے لشکر کے ہمراہ چیونٹیوں کی بستی کے پاس سے گزرے تو انہوں نے سنا کہ ایک چیونٹی دوسرے سے کہہ رہی تھی کہ جلدی سے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ کہیں حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کا لشکر تمہیں روند نہ ڈالے۔ یہ بات سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام مسکرائے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے بے شمار نعمتوں سے نوازا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں مستقل رہنے والے پرندوں میں سے ایک ہدہد بھی تھا۔ کچھ غیر حاضری پر سلیمان علیہ السلام نے اس سے عذر پوچھا تو اس نے کہا کہ میں ملکہ سبا اور اس کی رعایا کی خبر لایا ہوں جو سورج کی پرستش کرتے ہیں۔ سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کو طلب کیا، اسے اپنے مادی اسباب پہ بڑا فخر و ناز تھا لیکن جب سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہو کر ان کی طاقت اور جاہ جلال دیکھا تو اپنی بادشاہت ہیچ محسوس ہونے لگی، بعد ازاں سلیمان علیہ السلام کی دعوت پر اسلام قبول کر لیا۔

اگلی آیات میں اختصار کے ساتھ حضرت صالح اور لوط علیہما السلام کا واقعہ نقل کیا۔ صالح علیہ السلام کی قوم کے کچھ سرداروں نے باہم قسم اٹھائی کہ وہ رات میں اچانک پیغمبر پہ حملہ کر کے ان کو قتل کر دیں گے لیکن اللہ تعالٰی نے اس ارادے کو پورا کرنے سے قبل ہی ان کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا یوں وہ نامراد ہو گئے۔

بیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تعالٰی نے توحید کے دلائل کا ذکر کیا اور پھر ہر ایک دلیل کے بعد سوالیہ انداز میں پوچھا کہ کیا اللہ کے ساتھ کوئی شریک ہے؟ دلائل مندرجہ ذیل ہیں:
جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسا کر خوبصورت باغ اگائے، تمہارے لئے یہ اگانا ممکن نہ تھا، جس نے زمین کو قرار عطا کیا اس کے سینے میں نہریں جاری کیں، اس کی پشت پہ بھاری پہاڑ رکھے اور میٹھے و کھارے پانی کو آپس میں مل جانے سے بچایا، مجبور لاچار اور بے کس کی پکار کون سنتا ہے اور جواب دیتا ہے اور کون ہے جو اس کی تکلیف دور کرتا ہے؟ خشکی و تری کی تاریکیوں میں راستہ کون دکھاتا ہے اور بارش سے قبل ٹھنڈی ہوائیں کون چلاتا ہے؟ انسان کو پہلی بار کس نے پیدا کیا اور دوبارہ کون پیدا کرے گا؟ یہ امور سرانجام دینے والا کون ہے؟ اللہ ہی ہے یا اس کے ساتھ کوئی شریک ہے تو نام پیش کرو۔

عقیدہ توحید کے بعد آخرت کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے صور کا ذکر کیا کہ جب صور پھونک دیا جائے گا تو یہ ساری کائنات فنا ہو جائے گی اور اس کی عمر پوری ہو جائے گی تب آخرت کے منکرین کے سامنے ساری حقیقت کھل جائے گی۔

سورہ القصص مکی سورت ہے۔ اس میں ایک تو تفصیل سے موسی علیہ السلام اور فرعون کا قصہ بیان کیا ہے۔ فرعون بچوں کو قتل کرتا تھا، موسی علیہ السلام کی پیدائش پر والدہ پریشان ہو گئیں کہ اب کیا کیا جائے؟ چنانچہ بحکم الہی ایک صندوق میں بچے کو ڈال کر سمندر میں ڈال دیا۔ ادھر والدہ کو بے قراری تھی لیکن اللہ تعالٰی نے وعدہ کیا کہ ہم بچے کو تمہارے پاس لا کر آنکھوں کو ٹھنڈا کر دیں گے۔ چنانچہ صندوق فرعون کے دربار کے سامنے جا پہنچا تو آسیہ بی بی نے اٹھا لیا جن کی گود اب تک خالی تھی وہ اب اس بچے کو پالنے لگیں، بچہ کسی کا دودھ لینے کو تیار نہ تھا۔ وہاں موسی علیہ السلام کی بہن اجنبی بن کر اس منظر کو دیکھ رہی تھیں، انہوں نے مشورہ دیا اور یوں موسی علیہ السلام اپنی والدہ کی گود میں جا پہنچے۔

جوانی میں آپ سے ایک قبطی قتل ہو گیا تو آپ نے ایک مخلص کی رائے پر عمل کرتے ہوئے مصر سے ہجرت کر لی کیونکہ فرعون آپ کے قتل کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ ہجرت کر کے آپ مدین پہنچے تو وہاں دو لڑکیوں کو دیکھا جو بکریوں کو ہانکتے ہوئے آئیں اور پانی کی باری کا انتظار کرنے لگیں۔ موسی علیہ السلام نے ان کی مدد کرتے ہوئے پانی بھر کر دیا اور ان کی مدد کی۔ بچیوں نے والد حضرت شعیب علیہ السلام کے سامنے تعریف کی تو بلاوا آ گیا اور اجرت پر رکھ لیا۔ یوں باعزت ٹھکانہ بھی ملا اور رشتہ بھی میسر آ گیا۔

شادی کے بعد اہلیہ کے ہمراہ واپس مصر جا رہے تھے کہ راستے میں آگ دیکھی، آگ لینے کے لئے بڑھے تو اللہ تعالٰی نے نبوت کے منصب سے سرفراز فرمایا اور عصا و ید بیضا کا معجزہ دے کر فرعون کی طرف بھیجا۔ موسی علیہ السلام نے زبان کی کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے بھائی کی مدد چاہی جو بولنے میں زیادہ فصیح تھے چنانچہ آپ کی درخواست قبول کرتے ہوئے حضرت ہارون علیہ السلام کو آپ کا معاون بنا دیا۔ فرعون نے اپنی سرکشی اور تکبر کی وجہ سے دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اللہ تعالٰی نے دریا برد کر دیا۔

دوسرا واقعہ قارون کا نقل کیا جو بہت بڑے خزانوں کا مالک تھا۔ اس کے خزانوں کی چابیاں اٹھانے کے لیے ایک بڑی طاقت ور جماعت تھی۔ اس کے خزانے دیکھ کر دنیا کے دلدادہ لوگ اس کئے خزانے اور شان و شوکت دیکھتے تو اس جیسا بننے کی تمنا کرتے۔ موسی علیہ السلام نے اس کو سمجھایا اور اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا کہ جس طرح اللہ نے تم پر احسان کیا ہے تم لوگوں پر احسان کرو لیکن وہ اپنی سرکشی پہ قائم رہا بالآخر اللہ تعالٰی نے اسے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا۔

سورہ العکنبوت مکی سورت ہے۔ عنکبوت مکڑی کے جالے کو کہتے ہیں، اس کی اللہ تعالٰی نے تشبیہ دی ہے اس لئے اسی سورت کا نام موسوم کیا۔ اس سورت کے آغاز میں اللہ تعالٰی نے اپنی سنت کا ذکر کیا کہ جو لوگ بھی ایمان لانے کا دعوی کرتے ہیں ہم ان کو ضرور آزمائیں گے اور ان پر مصائب آئیں گے تاکہ خالص مومن اور منافق میں امتیاز ہو جائے۔ایمان والوں میں سب سے زیادہ آزماشیں انبیاء کرام علیہم السلام پہ آتی ہیں اس لئے اجمالی طور پر حضرت نوح، ابراہیم، موسی اور ہارون علیہم السلام کے قصے نقل کئے جس کا مقصد یہ ہے آزمائش وقتی ہوتی ہے آخر کار غلبہ اہل حق کو دیا جاتا ہے۔

اس پارے آخر میں مشرکین کے بتوں کو مکڑی کے جالے سے تشبیہ دی کہ جس طرح یہ جالا کمزور ہے کہ موسمی اثرات اور ہواؤں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اسی طرح ان کے بت بھی ان کو کوئی فائدہ یا نقصان پہنچانے پر قدرت نہیں رکھتے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *