علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں غیر قانونی ٹریژرار بھرتی کرنے کاانکشاف

کراچی : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے خلاف ضابطہ طو رپر ٹریژار کو بھرتی کیا، بھرتی کے لئے رولز کی خلاف ورزی کی گئی، پرو چانسلر کے علم میں لائے بغیر بھرتی کا عمل مکمل کرکے منٹس پر دستخط کر الیئے گئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق 24 نومبر 2020 کو منعقدہ ایگزیکٹیو کونسل کے 18ویں اجلاس کے ایجنڈہ آئٹم نمبر 3.11:کے تحت وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا القیوم نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد میں رولز کے برعکس سلیم اختر کو ٹریژرار بھرتی کر لیا ہے ۔

یونیورسٹی ایکٹ کی سیکشن 14(1) کے مطابق ٹریژار بھرتی کرنے کا اختیار پرو چانسلر یعنی وفاقی وزیر تعلیم کا ہے، جب کہ وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا القیوم نے اختیارات سے تجاوز کر کے ٹریژار بھرتی کیا ہے، اور ایگزیکٹیو کونسل سے منظوری کے بعد سلیکشن بورڈ کے ذریعے بھرتی کیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ایکٹ کے مطابق ٹریژار کی بھرتی کے لئے درخواست پروچانسلر یعنی وفاقی وزیر تعلیم و تربیت کو بھیجی جاتی ہے، جسکے بعد پرو چانسلر کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ کیسے بھرتی کرتے ہیں،جب کہ طریقہ کار کے برعکس بھرتی کرنے کے بعد اجلاس کے منٹس پر پرو چانسلر کے دستخط کرا لئے گئے ہیں۔

جس کے بعد ایگزیکٹیو کونسل کے ایک رکن کی جانب سے وزیر تعلیم و تربیت اسلام آباد کو کی گئی شکایت میں کہا گیا ہے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا القیوم کی عادت ہے کہ وہ رولز کے مطابق بھرتی کرنے کے بجائے افسران و ملازمین کو باہر سے لا کر کھپاتے ہیں۔جس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں ۔

ریکارڈ کے مطابق علامہ اقبال میں بھرتی ہونے والے ٹریژارسلیم اختر اس سے قبل جامعہ گجرات میں کنٹریکٹ پر ٹریژار تھے، جہاں وہ بغیر ٹینڈر کے قیمتی چیزوں کی خرید و فروخت میں بھی ملوث رہے ہیں، جہاں پر وائس چانسلر ڈاکٹر ضیا القیوم وائس چانسلر رہے ہیں جس کی وجہ سے وہاں سے کنٹریکٹ کے ملازم کو اپنے پاس علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں لا کر مستقل ملازمت دے دی ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *