خلاصہ قرآن، پندرہویں قسط

اس مضمون میں سورہ نور، الفرقان اور سورہ الشعراء کا خلاصہ پیش کیا جائے گا۔ سورہ نور کو نور اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں اللہ تعالٰی کے لئے لفظ نور استعمال ہوا ہے دوسرا اس لئے کہ اس میں اجتماعی زندگی کے متعلق ایسی عمدہ ہدایات ہیں جو انسانی زندگی کو منور کر دیتی ہیں۔

سورت کے آغاز میں زنا کرنے والے مرد اور عورتوں کی سزا بیان کی۔ اگر وہ غیر شادی شدہ ہوں تو ان کی سزا سو کوڑے ہیں۔ دوسرا حکم کسی پاکدامن پہ تہمت لگانے کا ہے، اس کی سزا اسی کوڑے ہیں۔ تیسرا حکم لعان کا ہے جو میاں بیوی کے ساتھ خاص ہے۔ اگر شوہر بیوی پر زنا کی تہمت لگائے اور گواہ نہ ہوں تو پھر دونوں مخصوص طریقے سے ایک دوسرے پر لعنت کریں پھر ان کے درمیان جدائی کر دی جائے گی۔

اس کے بعد ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاکدامنی کا ذکر کیا۔ منافقین نے ایک سفر میں واپسی پر پیچھے رہ جانے کی صورت میں ان پر تہمت لگائی جس سے متاثر ہو کر کچھ سادہ لوح مسلمان بھی نازیبا باتیں کرنے لگے، اللہ تعالٰی نے وحی کی صورت میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاکدامنی کا اعلان کیا اور تاریخ انسانی میں یہ اعزاز صرف ام المومنین کو ہی حاصل ہوا۔

اگلی آیات میں معاشرتی زندگی کے متعلق کچھ احکامات ذکر کئے جو کہ درج ذیل ہیں۔ گھر میں اجازت لے کر داخل ہو، سلام کر کے داخل ہو، اپنی نگاہوں کو نیچے رکھو، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو، عورتوں کو اپنی زیب و زینت چھپانے کا حکم دیا، صاحب استطاعت مرد و عورت کا نکاح کرنے کا حکم دیا۔

کافر کے نیک اعمال کو سراب کی مثال دے کر سمجھایا۔ سراب اس ریگستان کو کہتے ہیں جہاں بہت زیادہ ریت ہو اور سخت گرمی پڑ رہی ہو، دور سے دیکھنے والا اس سراب سے دھوکہ کھا کر اسے پانی سمجھتا ہے لیکن قریب جا کر معلوم ہوتا ہے کہ وہاں تو کچھ نہیں ہے، یہی حال کافر کے اعمال کا ہے کہ وہ انہیں اللہ کے ہاں نافع سمجھتا ہے لیکن وہاں اس کے سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔

اگلی آیات میں اللہ تعالٰی اپنی وحدانیت کے دلائل پیش کئے۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے، زمین پر چلنے والے ہر قسم کے جانور اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ ان دلائل کو دیکھ کر ایک گروہ کہتا ہے کہ ہم ایمان لاتے ہیں اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں جبکہ ایک فریق کفار اور منافقین کا ان دلائل میں غور و فکر کی بجائے اعراض کرتے ہیں اور اپنی خواہشات پہ چلتے ہیں۔

آخر میں مزید معاشرتی زندگی کے متعلق احکامات بیان کئے۔ بچے اور غلام تین اوقات یعنی فجر سے پہلے، دوپہر کو آرام کے وقت اور عشاء کے بعد اجازت لے کر گھر میں داخل ہوں۔ بالغ بچے جب گھر آئیں تو اجازت لے کر آئیں یا کسی طرح اطلاع کر کے داخل ہوں۔ ادھیڑ عمر خواتین اگر پردے کے کپڑے اتار دیں تو ان کے لئے اجازت ہے۔ گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کیا کرو۔ اجتماعی مشاورت میں بیٹھے ہو تو بلا اجازت جانا درست نہیں، نبی علیہ السلام کو ادب و احترام سے پکارو، نہ یہ کہ جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔

سورہ الفرقان کی ابتداء میں قرآن کریم کی عظمت کو اجاگر کیا، مشرکین اس کو جھٹلاتے، پرانی قصے کہانیوں کا عنوان دیتے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ کلام کا مقابلہ کرنے سے عاجز تھے۔ اس کے بعد مشرکین کے نبی علیہ السلام پہ اعتراضات کا ذکر کیا کہ یہ کیسا نبی ہے جو کھاتا بھی ہے، بازار میں بھی جاتا ہے اگر کوئی فرشتہ ہمارے پاس آ جائے اور ان کی نبوت کی تصدیق کرے یا ہم براہ راست اللہ کو دیکھ لیں تو ایمان لے آئیں گے۔ یہ لوگ حد سے زیادہ متکبر اور سرکش ہو چکے ہیں جب آخرت میں اپنا انجام دیکھ لیں گے تو موت کو پکاریں گے اور غصے سے اپنے ہاتھ کاٹیں گے اور تمنا کریں گے کہ کاش فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ رسول شکوہ کریں گے میری امت نے قرآن کو چھوڑ دیا۔ یعنی ایمان نہ لائے، اس کو نہیں پڑھا اور نہ عمل کیا اور نہ ہی تدبر کیا۔

قرآن کریم کے متعدد عرصے میں نزول کی حکمتیں بیان کیں اور توحید الہی کے دلائل کا ذکر کیا گیا جبکہ آخر میں رحمان کے بندوں کی صفات بیان کیں جو کہ درج ذیل ہیں:
متواضع، جاہلوں سے اعراض، رات کو عبادت کا اہتمام، جہنم کے عذاب کا خوف، خرچ میں اعتدال، شرک سے اجتناب، ناحق قتل سے اعراض، زنا و بدکاری سے بچنا، جھوٹی گواہی نہ دینا، گانے بجانے اور برائی کی مجالس سے اجتناب، اللہ کی کتاب سن کر متاثر ہونا اور فائدہ اٹھانا، اللہ تعالٰی سے اولاد، بیوی اور مقدیوں کا آنکھوں کی ٹھنڈک ہونے کی دعا کرنا۔

سور الشعراء مکی سورت ہے۔ اس کے آغاز میں اللہ تعالٰی نے نبی علیہ السلام کی کیفیت کا ذکر کیا کہ آپ میں نبوت کی ذمہ داری کا احساس کس قدر تھا کہ اتنا غمگین ہوتے کہ جیسے ابھی جان نکل جائے گی۔ بعد ازاں اس سورت میں مختلف انبیاء کرام کے واقعات بیان کئے۔

پہلا واقعہ موسی علیہ السلام اور فرعون کا ہے جو سورہ طہ میں تفصلا گزر چکا۔ دوسرا ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ نقل کیا، انہوں اپنے والد آذر کی قوم کو توحید کی دعوت دی اور سمجھایا لیکن قوم اپنے اعمال سے باز نہ آئی۔ تیسرا نوح علیہ السلام کا قصہ ہے جنہوں نے طویل عرصہ دعوت دی لیکن بہت کم لوگ ایمان لائے۔ چوتھا قصہ قوم عاد کا ہے۔ ہود علیہ السلام نے قوم کو دعوت دی لیکن ان قوم جو کہ بلند محلات تعمیر کرتی تھی اور فضول خرچ تھی، غرور تکبر میں آکر پیغمبر کو جھٹلایا جس کے نتیجے میں عذاب الہی کے مستحق ہوئے۔ پانچواں قصہ قوم ثمود کا ہے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے ان کو دعوت دی لیکن زمین کی وسیع پیداوار اور وسائل کی فراوانی کے دھوکہ میں آ کر پیغمبر کی دعوت کو قبول نہ کیا اور ان نعمتوں کی ناشکری کی۔ چھٹا قصہ لوط علیہ السلام کی قوم کا ہے جو فسق و فجور اور بدکاری میں حدود سے آگے بڑھ چکی تھی اور اپنی خواہشات نفسانی غیر فطری طریقہ سے مردوں سے پورا کرتے تھے۔ ساتواں قصہ شعیب علیہ السلام کی قوم کا ذکر کیا جن کے پاس پھل اور پانی کے چشمے سمیت کئی نعمتیں تھیں لیکن انہوں نے ناشکری اور حقوق العباد میں کمی کرتے ہوئے ناپ تول کو پورا نہ کرتے۔ چنانچہ یہ قوم بھی عذاب الہی کا مستحق ٹھہری۔ ان تمام اقوام کے ذکر کا مقصد یہ ہے کہ یہ امت ان اقوام کے جرائم سے سبق اور عبرت حاصل کرتے ہوئے ان جرائم سے خود کو بچانے کی کوشش کرے وگرنہ یہ امت بھی دیگر اقوام کی طرح عذاب الہی کا موجب ٹھہرے گی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *