نیک حکمران کی دعا

تحریر: خلیل الرحمٰن چشتی

سورۃ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا نقل ہوئی ہے۔

” فاطر السماوات والارض
اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے !
انت ولیی فی الدنیا والآخرة
تو ہی دنیا میں بھی میرا سر پرست رہے گا اور آخرت میں بھی
توفنی مسلما
اسلام یعنی بندگی اور اطاعت کی حالت میں مجھے موت دے۔
و الحقنی بالصالحین
نیک لوگوں کے ساتھ میرا الحاق کردے ” ( یوسف : 101 )

حضرت یوسف یہ دعا اس وقت کرتے ہیں ، جب انہیں مختلف آزمائشوں سے گزرنے کے بعد، مصر میں اقتدار حاصل ہو جاتا ہے ، اور ان کے تمام گیارہ بھائی ، والد اور والدہ کنعان ، فلسطین سے مصر ہجرت کرجاتے ہیں۔ وہ کنویں میں پھینکے جاتے ہیں۔ مصر کے جاکر فروخت کیے جاتے ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی کے دام سے پاک دامنی کے ساتھ بچ نکلتے ہیں، ناکردہ گناہ کی سزا میں جیل کاٹتے ہیں اور پھر بالآخر مصر کے حکمران بن جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں:ڈیرہ بگٹی اور حب چوکی میں فائرنگ سے تین افراد ہلاک

اس دعا کے پہلے ٹکڑے "انت ولیی فی الدنیا” کا مطلب یہ ہے کہ تو ہی میرا سر پرست ہے۔ تیری ہی سر پرستی اور ہدایت کے مطابق میں دنیا میں حکومت کروں گا۔ تیرے احکام نافذ کروں گا۔ مجھ پر اور میرے آباء یعقوب ، اسحق ، اسمعیل ،اور ابراھیم علیھم السلام پر جو وحی کی گئی تھی ، اسی پر عمل کروں گا۔ میری ریاست کی بنیاد ، عقیدہ ء توحید پر ہوگی۔ اس کا اظہار وہ جیل میں دعوت و تبلیغ کے موقع پر کر چکے تھے۔

” ان الحکم الا للہ ، امر الآ تعبدوآ الآ ایاہ ” ( یوسف : 40)
” نہیں ہے حکم مگر صرف اللہ کا ، اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت و اطاعت نہ کی جائے۔”

دعا کے دوسرے حصے ” والآخرة” کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں بھی تیری حکمرانی ہونی چاہیے اور آخرت میں بھی تیرا اقتدار ہوگا۔
دوسرے نام نہاد مزعومہ خدا ، بے بس اور لاچار ہوں گے۔ وہ کوئی سرپرستی نہیں کر سکیں گے۔ انہیں ولایت حاصل نہیں۔ ولایت اللہ ہی کی ہے۔ "ھنا لک الولایة للہ الحق”
شفاعت کا سارا نظام بھی اللہ کے اختیار میں ہے ۔ ” وللہ الشفاعة جمیعا”۔

دعا کے تیسرے حصے ” توفنی مسلما” کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی حالت میں موت دے۔ اللہ اور اس کے قانون سے بغاوت کی حالت میں موت نہ دے۔نماز پڑھتے ہوئے موت آئے ۔ زکوٰۃ و صدقات دیتے ہوئے۔ روزے رکھتے ہوئے۔ امر بالمعروف کرتے ہوئے، منکر سے روکتے ہوئے موت ائے۔ اسلامی قوانین کو نافذ کرتے ہوئے موت ائے۔
یاد رکھیے یہ عام آدمی کی دعا نہیں ، علم وحی سے فیض یافتہ ایک حکمران نبی کی دعا ہے۔

مزید پڑھیں:عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے کوئی آپشن نہیں دیا تھا: فوجی ترجمان

دعا کے چوتھے حصے "والحقنی بالصالحین” کے بھی دو مطلب ہیں۔
پہلا مطلب یہ ہے کہ آخرت میں اور جنت میں میرا ساتھ ، انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین کے ساتھ ہو۔ یہ "فادخلی فی عبادی ، وادخلی جنتی” کا منظر ہے۔ جنت ایک آباد ، زندگی سے معمور جسمانی اور روحانی تسکین و انبساط کا مقام ہے اسلامی حکمران آخرت کی طلب سے بےگانہ نہیں ہوتا۔ اب ذرا یہاں ٹہر کر ہمارے لیڈر دیکھ لیجے۔

” و الحقنی بالصالحین ” کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں وحیِ الٰہی کے مطابق عادلانہ حکومت کرنے کے لیے مجھے صالحین سے جوڑ دے۔ مجھے کابینہ کے لیے ماہرین فن صالحین عطا فرما۔ مشوروں کے لیے صالحین عطا فرما۔

اس دعا میں جانے والے حکمرانوں اور آنے والے حکمرانوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔

غور کرنے کا مقام ہے !
ایک نبی ، جو حکمران بھی ہے ، تکبر سے بالکل پاک ، مجسم عجز بن کر اللہ سے مدد طلب کررہا ہے۔ فاسق و فاجر ، شرابی کبابی ، رشوت خور ، بے علم مشیروں کی صحبت سے دور رکھ۔ نیک ، متقی ، پرہیزگار ، باعلم ، با عمل ، صحیح العقیدہ صالحین کی صحبت عطا کر۔ ان سے اتحاد ہوجائے۔ ان سے الحاق ہوجائے۔

ولقد یسرنا القرآن للذکر ، ھل من مدکر

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *