شیخ القراء ڈاکٹر قاری احمد میاں تھانوی

مکمل نام : قاری اَحمد میاں تھانوی  ولد مفتی جمیل احمد تھانوی ۔

ہندوستان میں ایک مشہور قصبہ ہے، مصطفی نگر وہاں تھانہ بھون ہے۔ تھانہ بھون وہ قصبہ ہے جہاں ۱۸۵۷ء میں مسلمانانِ ہند نے انگریز کے خلاف بغاوت میں حصہ لیا اور آزادی کی تحریک شروع کی۔ اس آزادی کی تحریک میں حضرت حاجی امداداللہ رحمہ اللہ، حضرت حافظ ضامن شہیدرحمہ اللہ اور حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمہ اللہ نے تھانہ بھون سے حصہ لیا۔ یہاں مسلمانوں نے انگریزوںکو ٹف ٹائم دیا، حتیٰ کہ انہوں نے پہلی مرتبہ توپ بناکر انگریزوں اور ہندوؤں کے خلاف اس کا استعمال کیا اور ان کو آگے نہ بڑھنے دیا،لیکن انگریز چونکہ ایک قوت اور طاقت تھی اور مسلمان کمزور تھے توآخر کار اس میں حافظ ضامن شہید رحمہ اللہ ہوگئے اور باقی حضرات نے اپنی پالیسی تبدیل کرلی۔یہ تھانہ بھون کا مختصر ساتعارف ہے اکابر علماء دیو بند وہاں پیدا ہوئے، مثلاحاجی امداد اللہ مہاجررحمہ اللہ اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ وغیرہ۔

 قاری صاحب کانام اَحمدمیاں تھانوی ، والد کا نام مفتی جمیل احمد تھانوی رحمہ اللہ اور دادا کا نام مولانا فرید احمد تھانوی رحمہ اللہ ہے۔ مولانا فرید احمد تھانوی رحمہ اللہ بھی ریشمی رومال کی تحریک میں شریک تھے اور علی گڑھ یونیورسٹی میں ملازم تھے۔مسلمانوں کی تحریکوں میں مدد اور ان کی اخلاقی ، تعلیمی تربیت بھی کرتے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے لیے خاص طور پر ایسی تنظیم قائم کی جو نو مسلموں کی مدد کرتی۔قاری صاحب کے  والد صاحب رحمہ اللہ زیادہ عرصہ، تھانہ بھون میں رہے پھر انہوں نے مظاہر العلوم سہارنپور میں تعلیم حاصل کی۔قیام پاکستان کے بعدمیں ۲۵؍نومبر۱۹۴۷ء میں تھانہ بھون میں پیداہوا۔ قاری صاحب کے خاندان کے  لوگ۱۹۵۲ء تک تھانہ بھون میں رہے۔ اس کے بعد پاکستان آنا ہوا تو سب سے پہلے یہ لاہور آئے۔لاہور آنے کے بعد مولانا مفتی محمد حسن رحمہ اللہ کی دعوت پرجامعہ اشرفیہ آئے۔ قاری صاحب کے والد صاحب نے یہاں تدریس شروع کی، جبکہ قاری صاحب نے جامعہ اشرفیہ لاہورنیلا گنبد میں حفظ کرنا شروع کر دیا ۔ قاری صاحب کے سب سے پہلے حفظ کے استاد حضرت خدابخش رحمہ اللہ ہیں۔ ان سے قاری صاحب نے سورۃ مریم تک پڑھا، پھر یہ ادارہ چونکہ مسلم ٹاون منتقل ہو گیا تھا، اس لیے قاری صاحب نے دارالعلوم الاسلامیہ پرانی انارکلی میں داخلہ لے لیا۔ وہاں انہوں نے قاری رونق علی رحمہ اللہ اور قاری افتخارعثمانی رحمہ اللہ ان دونوں حضرات سے قرآن پاک مکمل کیا۔ ان کے حفظ کے یہ تین استاد ہیں۔ قاری صاحب کا  حفظ ۱۹۵۸ء میں مکمل ہوا۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً دس سال تھی۔

قاری صاحب نے حفظ مکمل کرنے کے فوراً بعددرس نظامی میں داخلہ لے لیا اور روایت حفص پڑھنا شروع کردی۔ سن ۱۹۶۳ء؍۶۴ء میں،قاری صاحب نے قاری عبدالعزیزشوقی رحمہ اللہ سے روایت حفص مکمل کر لی تھی۔

حفظ کے بعد درس نظامی کے لیے جامعہ اشرفیہ میں داخلہ لیا اور۱۹۶۸ء ۱۹۶۹ء میں درس نظامی سے فارغ ہوا۔

قاری صاحب نے سنن ترمذی مولانا رسول خان رحمہ اللہ سے ،صحیح بخاری مولانا ادریس کاندھلویں رحمہ اللہ سے، طحاوی مولانا عبیداللہ حفظہ اللہ سے، صحیح مسلم مولانا عبدالرحمن حفظہ اللہ سے اور سنن ابوداؤد اپنے والد مرحوم سے پڑھی۔

قاری صاحب کے مطابق: "فراغت کے بعد جب میں گھر آیا توقاری سراج الدین، جو اس وقت میرے والد کے پاس تشریف فرما تھے،نے فرمایا کہ اب آپ کو ایک چلّے کی اجازت ہے یعنی چالیس دن آرام کریں یا جماعت میں چلالگائیں جیسے آپ کی مرضی،لیکن آج ۲۵ شعبان ہے اور ۵ شوال کو آپ نے مدرسے میں پڑھانا ہے۔ میں نے یہ چالیس دن فرصت کے گزارے، اس کے بعد پھر فرصت نہیں ملی”۔

ابتداء میں پڑھنے کی پختگی کی وجہ قاری صاحب کے مطابق:”قاری خدا بخش رحمہ اللہ،قاری رونق علی رحمہ اللہ اور قاری افتخار علی رحمہ اللہ ان تینوں اساتذہ کے پڑھانے کا انداز بہت عمدہ تھا۔ قاری افتخارعلی رحمہ اللہ بہت بلند آواز سے پڑھتے تھے ۔میں نے ’منشاوی‘ کاانداز ان سے سیکھا ہے۔ ان سے سیکھنے کی وجہ سے میرے حفظ میں پختگی عمدہ ہوگئی تھی۔ اس لیے حفظ کے بعد میں مختلف مسابقوں میں شریک ہوا جس مسابقہ میں بھی جاتاتھا، پہلی، دوسری یا تیسری پوزیشن میں سے کوئی نہ کوئی ضرور آجاتی تھی۔یہ الحمدﷲ روایت حفص کی تکمیل سے پہلے کی بات ہے”۔

والدین کے بارے میں قاری صاحب کے مطابق : والدمحترم مفتی جمیل احمدتھانوی رحمہ اللہ،جامعہ اشرفیہ میں مفتی تھے۔ انہوں نے مظاہرالعلوم سہارنپور سے درس نظامی کی تکمیل کی تھی۔ حضرت اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے داماد تھے۔ یعنی حضرت اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی سوتیلی بیٹی ان کے گھر تھیں۔مفتی جمیل احمدتھانوی رحمہ اللہ نے پہلے سہارنپور میں پڑھایا،اس کے بعدتھانہ بھون میں، اس کے بعد جامعہ اشرفیہ میں آکر باقاعدہ ۵۰ سال تک تدریس کی۔ مسائل شریعت پران کی احکام القرآن کے نام سے ایک مستقل کتاب ہے ۔مفتی صاحب تین دن جامعہ اشرفیہ میں اور تین دن دارالعلوم میں دیتے تھے۔ والدین میں سے دونوں اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۱۹۹۵؍۱۹۹۶ء میں دونوں کاانتقال ہوگیا تھا۔ والدین الحمدﷲ اچھے اوراعلیٰ تربیت کرنے والے تھے ۔والدہ کاقرآن سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ان کا فجر کی نماز کے بعد دس پارے قرآن پڑھنے کا معمول تھا ۔ وہ کم از کم دس پارے مکمل کرکے ناشتہ بناتی تھی ۔

شیخ القراء قاری اَحمد میاں تھانوی حفظہ اللہ کا شمار علم القراء ات میں دیوبندی مکتب فکر کے نمایاں ترین لوگوں میں سے ہوتا ہے۔ آپ کلیہ القرآن الکریم، مدینہ یونیورسٹی کے نمایاں فضلاء میں سے ہیں۔محکمہ اَوقاف کی طرف سے لجنہ تصحیح المصاحف، پاکستان کے رئیس ہیں اور پاکستان میں کلیہ القرآن، جامعہ لاہور الاسلامیہ کی طرز پر اہل دیوبند میں’ دار العلوم الاسلامیہ‘ کے نام سے کامران بلاک میں ایک دینی درسگاہ کے نائب مہتمم ہیں۔ اللہ تعالی آپ کی دینی کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *