شیخ القراء قاری محمد ابراہیم میر محمدی

مکمل نام : قاری  محمد اِبراہیم بن حافظ محمد عبداللہ میر محمدی

تعارف :

قاری صاحب کا نام محمد اِبراہیم بن حافظ محمد عبداللہ ہے، انکی  رجسٹرڈ تاریخ پیدائش یکم فروری ۱۹۶۰ء ضلع قصور کے معرو ف گاؤں میر محمدکی ہے۔ رجسٹرڈ کا اِضافہ اس لیے کیا  گیا ہے کہ انکے  بڑے بھائی جناب مسعود اَحمد صاحب کے مطابق آپ کی اصل تاریخ پیدائش ۱۹۵۸ء ہے۔ ان کا گاؤں میر محمد اس اِعتبار سے ایک امتیازی حیثیت کا حامل ہے کہ ضلع قصور میں شاید سب سے پہلے کسی جگہ باقاعدہ مدرسہ کی بنیاد ڈالی گئی ہے تو وہ ان کا  گاؤں ہے۔

آج سے تقریباً ایک صدی قبل ۱۹۰۵ء ولی کامل حافظ محمد عظیم (حافظ محمد یحییٰ عزیزکے والد ِگرامی ) نے اپنے مخلص ساتھیوں حاجی عبدالواحد، حاجی امام بخش المعروف خالد مجاہد، صوفی عبداللہ، مولوی نیک محمد ستوکی، حافظ عیسیٰ کوٹلی رائے ابو بکر، حاجی محمد یعقوب، حاجی حسن محمد (دادا جان) اور دیگر مایہ ناز علماء کرام کے ہمراہ اس مدرسہ میں مسند تدریس کو رونق بخشی۔ ان میں قاری عزیر صاحب کے والد گرامی مولانا عبدالحق ، مولانا حافظ محمد بھٹوی اور مولانا عبدالرشید نے اس پورے علاقے کو فیض یاب کیا۔ ان کے نامور شاگردوں میں مولانا علی محمدسعیدی، مولانا محمدیوسف راؤ خانوالا، مولانا محمدشفیع گہلن ہٹھاڑ اور جماعت المجاہدین کی نشانی مولانا محمد دین مجاہد شامل تھے۔

اِبتدائی تعلیم :

قاری صاحب نے اپنے دوسرے بھائیوں کی بہ نسبت قدرے تاخیر سے پڑھائی کا آغاز کیا۔ تقریباً چھ سال کی عمر میں آپ نے اپنی باقاعدہ تعلیم کا آغاز والد ِگرامی حافظ عبداللہ کے ہاں کیا۔ والد ِگرامی کا یہ معمول تھا کہ وہ ابتدائی قاعدہ، جو ان دنوں یسرنا القرآن ہوا کرتا تھا، خود پڑھاتے اور اس کے بعد ایک پارہ ناظرہ پڑھاتے، آپ اس قدر محنت سے پڑھایا کرتے تھے کہ اس کے بعد بچہ باآسانی ناظرہ قران کریم پڑھ جاتا تھا۔ بالکل اسی طرح قاری صاحب کوبھی یسرنا القرآن اور تقریبا ایک پارہ والد ِمحترم نے پڑھایا اور باقی قرآن کریم ناظرہ انہوں نے اپنی والدہ محترمہ کو سنایا ۔

قاری صاحب نے ۱۹۶۷ء میں تقریبا آٹھ سال کی عمر میں اپنے ہی گاؤں میر محمد میں مدرسہ محمدیہ (المعروف کھجور والی مسجد) میں محترم قاری صدیق الحسن کے ہاں حفظ شروع کیا۔

قاری صاحب کے حفظ کے ساتھیوں میں حافظ محمد شریف صاحب مدیر مرکز التربیۃ الاسلامیہ فیصل آباد، مولانا حافظ عبدالغفار روپڑی مدیرجامع قدس لاہوراور قاری محمد صادق رحمانی صاحب کنگن پوری شامل ہیں۔

قاری صاحب چند اَیام کیلئے سکول گئے تھے لیکن والد محترم نے سکول سے ہٹا کر حفظ پر لگا دیا۔ اس کی بھی ایک خاص وجہ تھی۔ ہوا یوں کہ والد ِمحترم نے بڑے دونوں بھائیوں محترم محمود اَحمد اور مسعود اَحمد کو سکول میں داخل کروایا، سکول پڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ باقی وقت حفظ کیا کرتے تھے۔ پرائمری تک تو یوں ہی چلتا رہا اور انہوں نے تقریباً پانچ چھ پارے حفظ بھی کرلیے، لیکن پرائمری کے بعد ہائی سکول ہمارے گاؤں میں نہیں تھا لہٰذا انہیں پڑھنے کے لیے ہمارے گاؤں سے دور جانا پڑتا جس کی وجہ سے سکول کے ساتھ ساتھ حفظ کرنا خاصا مشکل کام ہوگیا تھا اس وجہ سے انہوں نے حفظ ترک کردیا اور سکول کی تعلیم جاری رکھی اور میٹرک کے بعد وہ سکول ٹیچر بھرتی ہوگئے۔ والد محترم کو اس کا بڑا دکھ تھا کہ وہ عالم دین نہیں بن سکے اس لیے اُنہوں نے قاری صاحب کو  چند ہی دنوں بعد سکول سے ہٹا لیا۔

قاری صاحب نے  ۱۹۷۱ء میں منزل یاد کرکے حفظ سے فارغ ہوگئے تھے۔ پڑھائی کے علاوہ مشاغل میں دیگر بچوں کی طرح شرکت نہیں کرتےتھے۔ فارغ اَوقات میں گھر کے اَندر ہی بعض مشاغل میں منہمک رہتے تھے اور والدین زبردستی انکو گھر سے باہر جانے کو کہتے تھے، قاری صاحب کے مطابق: "میرا   سب سے زیادہ محبوب مشغلہ یہ تھا کہ کوئی بھی خوبصورت چیز دیکھی تو اس کا آرٹیفیشل نمونہ تیار کرنا جن میں جو چیزیں ابھی بھی مجھے یاد ہیں وہ یہ ہیں: ان دنوں گھروں میں بیڈوں کا رواج نہ تھا بلکہ ایک بڑی چارپائی کو ٹیک لگا کر شادی بیاہ کے موقع پر جہیز میں دیا جاتا تھا جسے پلنگ کا نام دیا جاتا تھاایسا ہی ایک پلنگ میرے دیکھنے میں آیا جس کی ٹیک میں بہت خوبصورت نقش و نگار تھے جن میں شیشہ کاری کی ہوئی تھی میں نے اُسے دیکھا تو اُس جیسا کانوں کا خوبصورت ٹیک والا پلنگ تیار کرلیا، ایسے ہی میں نے ایک مرتبہ مٹی کی مسجد بھی بنائی تھی، ایک مرتبہ تو یوں ہوا کہ ہمارے گاؤں میں ایک بہت خوبصورت گھر تعمیر ہوا تو میں نے اس جیسا مٹی کا گھر تیار کر دیا جسے بعد اَزاں گھر آکر انہی راج گیروں نے دیکھا اور بہت خوش ہوئے، بعض نے یہ بھی کہا کہ اس کی بنی ہوئی چیزوں کو صنعتی نمائش میں پیش کیا جائے تو کافی انعام کا حقدار ٹھہر سکتا ہے”۔

شیخ القراء قاری محمد ابراہیم میر محمدی علم القراء ات کو نمایاں طور پر متعارف کروانے والی وہ نامور شخصیت ہیں کہ ان کی جہودِ طیبہ سے اب یہ علم پاکستان کے تمام حلقہ ہائے فکر میں زندہ ہوگیا ہے۔ آپ کلیۃ القرآن الکریم، مدینہ یونیورسٹی کے نمایاں فضلاء میں سے ہیں۔ کلیۃ القرآن الکریم، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے بانی ومؤسس ہیں جن کے اخلاص اور محنت ِشاقہ کے نتیجہ میں جامعہ لاہور الاسلامیہ تجوید و قراء ات کے فروغ میں آج انتہائی اہم کردار اداکر رہا ہے۔ آپ کی زندگی ایک جہد ِمسلسل سے عبارت ہے۔ آپ ۱۹۹۲ء میں کلیۃ القرآن کے افتتاح کے بعد مسلسل درس وتدریس اور تصنیف وتالیف میں مشغول ہیں۔ مادِر ادارہ کلیۃ القرآن اور اس سے پھوٹنے والے دیگر تمام کلیات القرآن الکریم کے سینکڑوں فضلاء کی تمام تر عملی جدوجہد حقیقی معنوں میں حضرت شیخ ؎ کی مرہونِ منت ہے۔

اللہ تعالٰی شیخ القراء قاری محمد ابراہیم میر محمدی حفظہ اللہ کی قرآن کریم کے لیے کی گئی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *