ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمن

مکمل نام: مولانا قاری ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن

قاری صاحب کا آبائی علاقہ گجرانوالہ ہے۔ گھر کا ماحول دینی تھا اور والد صاحب (شیخ الحدیث حافظ محمد ریاست صاحب رحمہ اللہ) ممتاز عالم دین اور حافظ قرآن تھے اور اسی طرح والدہ مرحومہ، قرآن مجید کی قاریہ اور عالمہ ومفسرہ تھیں جبکہ حافظہ نہیں تھیں۔ الحمدللہ قاری صاحب کے خاندان میں حفاظ کرام اور علماء کی کثیر تعداد ہے اور خود قاری صاحب کے گھر میں ان کے بڑے بھائی قاری عطاءالرحمن عابد صاحب جن کا شمار اس وقت دنیا کے مشہور قراء میں ہوتا ہے۔ بڑے بھائی قاری عطاءالرحمن عابد صاحب نے بچپن سے ہی بہت سے اعزازات حاصل کیے۔ قاری صاحب اس وقت سکول پڑھتے تھے۔بڑے بھائی کی ان کامیابیوں اور انکی حوصلہ افزئی پر قاری صاحب نے دل میں قرآن کریم حفظ کرنے کا ارادہ کیا۔

قاری صاحب نے میٹرک کے بعد اپنے گھر کے قریب مدرسے میں داخلہ لیا اور وہاں اپنے استاد قاری محمد رفیق صاحب رحمہ اللہ سے قرآن حفظ کیا۔ قاری صاحب کے مطابق انکے استاد بہت شفیق تھے انہوں نے ابتداء میں قاعدہ اور تجوید کے اصول سیکھائے اور بعد میں قرآن حفظ کروایا۔ اور روزانہ سبق، سبقی اور منزل میں تجوید اور قراءت اور حروف صحیح ادائیگی پر خاص توجہ دی۔
اسکے بعد دینی علم سیکھنے کا آغاز کیا اور اسکے ساتھ ساتھ تجوید کورس کو بھی جاری رکھا۔

تجوید آپ نے اپنے بڑے بھائی قاری عطاءالرحمن عابد صاحب اور گجرانوالہ کے مشہور قاری جناب قاری عبدالصمد جن کے شاگرد پاکستان میں کثیر تعداد میں ہیں اور بڑے بڑے علماء ان کے شاگرد ہیں۔

1999ء میں گوجرانوالہ سے اپنی دینی تعلیم مکمل کر کے اسلام آباد آئے، اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں تعلیم کا آغاز کیا۔ جب آپ اسلام آباد آئے تو مدینہ منورہ اور عالم اسلام کی مشہور شخصیات جن سے اللہ نے قرآن کریم کی خدمت کا بہت کام لیا حضرت شیخ خلیل عبدالرحمن رحمہ اللہ سے وابستگی ہوگئی اور اسی طرح حرم مکی کے مشہور قاری جناب قاری سید اکبر شاہ رحمہ اللہ سے بھی تعلق ہوگیا۔ یہ دونوں شیوخ جب بھی پاکستان ایک دو ماہ کے لیے تشریف لاتے تو انکی خدمت میں اکثر وقت گزارنے کا موقع ملتا۔ یہ دونوں شیوخ قاری صاحب کی تصحیح کے ساتھ انکی روحانی اصلاح بھی فرماتے تھے۔

2000ء میں قاری صاحب کی پاکستان کی سب سے بڑی اور عالم اسلام کی مشہور مسجد "شاہ فیصل مسجد، اسلام آباد” میں بطور امام تقرری ہوئی۔ امامت کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔

2015ء میں آپ نے نمل یونیورسٹی، اسلام آباد سے شعبہ تفسیر میں پی –ایچ-ڈی مکمل کی۔ اسی کے ساتھ ہی آپ کی تقرری بطور اسسٹنٹ پروفیسر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ہوئی اور ساتھ ہی آپ کو فیصل مسجد اسلامک سینٹر کے انچارج کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

ساتھ ساتھ قاری صاحب نے اپنے گھر سے بچوں کے لیے قرآن کی تعلیم کے سلسلے کا آغاز 2006ء میں کیا بعدازاں یہ کاوش بین الاقوامی شہرت یافتہ ادارے کی شکل اختیار کرگئی۔ آج ان کے آغاز کردہ قرآنی تعلیم کے اس سلسلہ کو دنیا "القرآن ایجوکیشن سسٹم ” کے نام سے جانتی ہے۔ آپ کے ادارے کے طلباء عالمی مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں اور کئی اعزازت اپنے نام کیے ہیں۔ آپ کا یہ ادارہ اس وقت اسلام آباد کی مشہور و معروف مسجد (مسجد طوبی) جو سیکٹر E-11 میں واقع ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ آپ ایک عالمی طرز کا ادارہ اور جدید تعلیم اور دینی تعلیم ایک ہی چھت تلے دینے کے حوالے سے "دارالسلام کیمپلیکس” کے نام سے ایک ادارہ بنا رہے ہین جو اس وقت تعمیر کے مراحل میں ہے۔

اس وقت قاری صاحب شاہ فیصل مسجد کے سینئر امام و خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ مرکز اسلامی فیصل مسجد کے انچارج بھی ہیں اور شرعی فتوی کمیٹی کے ممبر بھی ہیں۔ اللہ آپکی کی دینی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *