محمد ہزیر اعوان (ننھا کمپیوٹر بابا)

وہ پاکستانی سپوت جس نے آئی ٹی کے میدان میں قدم قدم پر دنیا کوحیران کرنے کی قسم اٹھائی تھی اور پھر اس نے ارفع کریم کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ جی ہاں ۔ ۔ وہ سات سال کا تھا جب اس نے ماءیکر و سافٹ کے 4 سرٹیفیکیشنز حاصل کیں جبکہ ارفع کریم نے یہ اعزاز 9 سال کی عمر میں حاصل کیا تھا ۔ میڈیا کے لیے یہ ایک دھماکے دار خبر تھی ، چنانچہ نیشنل اور انڈنیشنل میڈیا میں اس کے چرچے ہونے لگے اور ہرطرف اس کی دھوم مچ گئی ۔ سب سے بڑی حوصلہ افزائی اس کی تب ہوئی جب ارفع کریم فاؤنڈیشن نے بھی اس کو گولڈ میڈل سے نوازا۔

کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ 5 سال کی عمر کا بچہ ،

 Windows XP

 جیسے مشکل سافٹ وئیر کو سمجھ سکتا ہو اور اس کو انسٹال بھی کر سکتا ہو!! لیکن یہ سب اس ننھے بابے نے کر دکھایا۔ راوی روڈ لاہور کے ایک مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھنے والے محمد ہزیر اعوان نے چار سال کی عمر میں ہی کمپیوٹر کے ساتھ کھیلنا شروع کرلیا تھا۔ والد نے اس کا شوق و ذوق دیکھا تو اس کو یہ سوچ کر کھلا میدان دے دیا کہ اگر اس میں آ کے ساتھ لگن ہوگی تو ضرور کچھ کر دکھائے گا ۔  وہ اپنے والد کی فیس بک آئی ڈی سے لاگ ان ہوتا اور ان کے دوستوں اور کزنز کے ساتھ Angry Birds کھیلتا رہتا۔ خاندان والوں نے اعتراض بھی کیا لیکن والد نے اس کو بھر پور سپورٹ کیا اور اس کو الگ سے ایک کمپیوٹر لے کر دے دیا۔ وہ بچہ جو لیپ ٹاپ کو اپنی توتلی زبان میں لے ٹوٹ‘‘ کہتا تھا ، آنے والے دنوں میں

پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کر نے والا تھا۔ دوسری جماعت میں اس کو مقامی اکیڈمی میں اس لیے داخل کرایا گیا کہ وہاں اپنے سلیس کے مطابق کمپیوٹر کی کتاب پڑھے لیکن وہاں اس نے سب کو حیران کر دیا۔ وہ اپنی کلاس میں بیٹھتا ہی نہیں تھا بلکہ وہ تو گیارہویں میں، بارہویں میں اور بی ایس سی کی کمپیوٹر کلاس میں جا کر بیٹھتا اور ان کے سلیس کے مطابق پریکٹس کرتا رہتا۔ پرنسپل نے اس کے شوق کو دیکھتے ہوۓ اس کے والد سے کہا کہ اسکول کا کام اس کو گھر میں کرائیں اور ہمارے پاس صرف کمپیوٹر سیکھنے کے لیے بھیجیں ۔

محمد ہزیر اعوان گرمیوں کی چھٹیوں میں آٹھ گھنٹے تک اکیڈمی میں رہتا ۔ اس کے سیکھنے کی تڑپ دن بدن بڑھتی جارہی تھی ۔ وہ جب بھی کسی نئے سافٹ وئیر کے بارے میں پوچھتا تو اس کے ٹیچر کو اندازا ہو جا تا کہ اب یہ سیکھ کر ہی رہے گا، چنانچہ و مزاح میں اس کو بلیک میل کرتے کہ اس کو سیکھنے کے لیے آپ کو کیلے کھانے پڑیں گے ۔ اس پر یہ جنون اس حد تک سوار تھا کہ ایک دفعہ اس نے ابلا ہوا انڈا بھی کھا لیا جو کہ اس کو بالکل پسند نہیں تھا۔

محمد ہزیر اعوان نے اب کمپیوٹر فاؤنڈیشن کی کلاسز پڑھنی شروع کیں ۔ وہ جس کلاس میں بھی کسی نئی چیز کی بو سونگھتا تو وہاں پہنچ جاتا۔ ایک رات اس کے والد کے کمپیوٹر میں ایک سافٹ ویئر خراب ہوا ، رات کا ایک بیچ رہا تھا ۔ اس وقت یہ سافٹ وئیر کہیں سے بھی ملنے والانہیں تھا لیکن وہ حیران رہ گئے جب ہنر میر نے اپنی یوایس بی سے دو سافٹ وئیر انہیں انسٹال کر

 کے دے دیا۔

محمد ہزیر اعوان آجاؤ میری جگہ پر اور

 MS Word کی کلاس پڑھاؤ‘‘۔

ایک دن اچانک محمد ہزیر اعوان کے ٹیچر نے کہا اور ایک لمحے کے لیے محمد ہزیر اعوان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ ایک بچہ  MS word

 کیسے کلاس پڑھا سکتا ہے؟ کیا محمد ہزیر اعوان ہمت ہار کر کہہ دے گا کہ سر میں

نہیں پڑھا سکتا۔

سب کے ذہنوں میں یہیں چل رہا تھا لیکن وہ حیران رہ گئے جب ننھا استاد ان کے سامنے آیا

MS word

اور بڑے اعتماد سے انہیں کے سارے فنکشن اور ٹولز پڑھانے لگا ۔ دراصل اس سب کے پیچھے اس کی وہ محنت تھی جو اس نے گرمیوں کی چھٹیوں میں کی تھی ۔ پہلی کلاس پڑھانے کے بعد اس کے اعتماد میں اضافہ ہو گیا اور اس نے پرنسپل سے مزید کلاسز پڑھانے کی درخواست کی ۔ اکیڈی میں کوئی اس سے اپنی ونڈ و انسٹال کر واتا تو اس کی وہ با قاعدہ’’ فیس وصول کرتا ۔ یہ فیس شوار ما، پیزا اور چاکلیٹ کی صورت میں ہوتی جولڑ کے اس کو خوشی خوشی دیتے ۔ اکیڈی والے بھی اس کی موجودگی سے بہت خوش تھے کیونکہ ایک بچہ کئی سارے لوگوں کے کام کر رہا تھا۔

میں چاہتا ہوں کہ ہر پر مائکروسافٹ کا امتحان دے۔۔ پرنسپل نے محمد ہزیر اعوان کے والد سے کہا لیکن وہ تذبذب میں تھے، کیونکہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ محمد ہزیر اعوان کی اس قدر تیاری بھی ہو چکی ہے یا نہیں لیکن پھر بھی جون 2013 میں محمد ہزیر اعوان نے مائکروسافٹ کا امتحان دیا اور بہترین انداز میں پاس بھی کر لیا ۔ وہ دن والد ین اور گھر والوں کے لیے ایک بڑی خوشی کا دن تھا۔ اس کے نیچرز اور پرنسپل صاحب کی بھی خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا۔ پرنسپل بلال صاحب کو اس کی کا میابی کا اس قدر یقین تھا کہ رزلٹ آنے سے پہلے ہی اس کی کامیابی کے بینر لگوادیے تھے ۔ اس کامیابی کے بعد محمد ہزیر اعوان کومختلف اسکولوں سے اسکالرشپ کی آفر آنے لگیں ۔ اس کو پہلی دفعہ نظریہ پاکستان کے عنوان سے منعقد ہونے والے پروگرام میں لیکچر دینے کا موقع ملا ۔ جہاں مجید نظامی صاحب نے اس کو شیلڈ سے نوازا۔ ایک دن اس نے اخبار میں خبر پڑھی کہ ملک دشمن عناصر نے راولپنڈی پولیس کی ویب سائٹ

ہیک کر لی ہے ۔ محمد ہزیر اعوان نے اس وقت ٹھان لی کہ میں

IT Security کے متعلق سیکھوں گا اور وطن عزیز کی حفاظت میں اپنا حصہ ڈالوں گا ۔ اس نے اپنے پیر حافظ بلال کی مدد سے اور انٹرنیٹ سے استفادہ کرتے ہوۓ سکیورٹی کورس

پڑھنا شروع کیا اور بہت کم وقت میں اس میں کا میابی حاصل کی ، چونکہ آگے بڑھنے کا جنون تھا ، اس

لیے وہ وقت بھی آیا جب

 IT Security

کا پیپر دینے کے لیے محمد ہزیر اعوان

 ICDL

 کے امتحانی سنٹر میں

بیٹھا تھا۔ اس دفعہ سر بلال اور محمد ہزیر اعوان کے والد اس کی کامیابی کے بارے میں زیادہ پر یقین نہیں تھے کیونکہ آئی ٹی سکیورٹی کا امتحان کوئی بچوں کو کھیل نہیں تھا لیکن محمد ہزیر اعوان نے تو دنیا کو حیران کر نے کی گو یا قسم اٹھائی ہوئی تھی ۔ 8 سال کی عمر میں ہی اس نے یہ کامیابی بھی حاصل کر لی اور اب کے بارکسی کار ریکارڈ تو نہیں تو ڑالیکن خود ہی ایک انوکھاریکارڈ قائم کرلیا ۔ ڈیڑ ھ سوملکوں اور 1 کروڑ 20لاکھ طلبہ میں محمد ہزیر اعوان پہلا اور سب سے کم عمر پاکستانی اسٹوڈنٹ قرار دیا گیا۔ اس بات کا اعتراف

ICDL

 نے اپنی ویب سائٹ پر

 Youngest Pakistani ICDL IT Security Certified

 کے ٹائٹل سے گیا۔ یہ خبر ایک بار پھر میڈیا کی زینت بن گئی ۔ ہر طرف سے محمد ہزیر اعوان کی کامیابی کو سراہا گیا اور اس کےلیے شاباش کے نعرے لگنے لگے ۔ محمد ہزیر اعوان نے کمپیوٹر پروگرامنگ میں

++HTML, JAVA SCRIPT, CSS, C

پر کافی مہارت حاصل کر لی ہے ۔ وہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور انٹر نیٹ آف تھنگر کی فیلڈ میں کام کرنا چاہتا ہے ۔ اب تک اس کے کئی روبوٹک پراجیکٹ سائنس میلہ اور مختلف یونیورسٹیز میں نمائش کے لیے پیش ہو چکے ہیں ۔ عام بچوں کی طرح وہ بھی کارٹون دیکھتا ہے ۔ وہ باسکٹ بال اور بیڈمنٹن کو پسند کرتا ہے ، فارغ وقت میں گٹار بجا تا ہے لیکن اپنے ٹائم کو بہترین انداز میں منظم کرتا ہے اور اس کی کامیابی کا راز بھی یہی ہے ۔

محمد ہزیر اعوان ا پنی کامیابی کا کریڈٹ اپنی فیملی اور خاص طور پر والد اور چچا اور اپنے ٹیچر کو دیتا ہے کہ ان کے تعاون کے بغیر اس کی آج پہچان ممکن نہ ہوتی ۔ وہ اسکول پڑھنے جاتا ہے ۔ اسکول انتظامیہ نے اس کی ذہانت کو دیکھتے ہوۓ تیسری جماعت سے چھٹی جماعت میں اس کی پروموشن کر دی ہے ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ امی کے ہاتھ سے کھانا اور جرابیں پہننے والا بچہ آج یو نیورسٹی کے طلبہ کو پڑھارہا ہے ۔ وہ کئی یونیورسٹیز میں گیسٹ اسپیکر کے طور پر جا چکا ہے ۔ اقبال ڈے کے موقع محمد ہزیر اعوان نے بچوں سے خطاب کر تے ہوۓ کہا: ’’اقبال نے ایسے ہی ہمیں شاہین نہیں کہا۔ شاہین کی پرواز اور اس کی خودداری بے مثال

ہے

شاہین کی زندگی 70 سال ہوتی ہے اور 40 سال کی عمر میں جا کر اس کی چونچ مڑ جاتی ہے، اس کے پر ٹیڑھے ہو جاتے ہیں اب اس کے پاس دو راستے ہوتے ہیں یا تو و ہ اسی حالت میں رہے اور سسک سسک کر مر جائے یا پھر ایک نئی زندگی شروع کرے لیکن نئی زندگی حاصل کرنے کے لیے اس

کوایک نا قابل برداشت تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے ۔ وہ اپنی چونچ کو چٹان سے مار مار کر اکھاڑتا ہے اور پروں کے ایک ایک بال کو نوچ نوچ کرنکالتا ہے ۔ جب وہ اس پراسیس کو مکمل کر لیتا ہے اور اس تکلیف کو برداشت کر لیتا ہے تو پھر اس کی نئی

زندگی شروع ہو جاتی ہے ۔ اس کی نئی چونچ اور نئے پر نکل آتے ہیں اور دو ایک بار پھر آسمان کی

فضاؤں سے باتیں کر رہا ہوتا ہے ۔

دوسری بات

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود بچ جتھے بتا تیری رضا کیا ہے

 صرف اس شعر کواگر ہم بچے سمجھ جائیں تو ہماری زندگی سنور جاۓ گی ۔ محمد ہزیر اعوان نے اس چھوٹی سی عمر میں ہی بڑے بڑے اعزازات حاصل کر لیے ہیں : • 2014 میں گورنر پنجاب نے محمد ہزیر اعوان کو گورنر ہاؤس مدعو کیا اور اعزازی شیلڈ سے نوازا۔

  • ڈاکٹر اے کیو خان گولڈ میڈل فرام نظریہ پاکستان ٹرسٹ

 سپیشل اچیومنٹ ایوارڈ فرام ایجوکیشن منسٹر رانا مشہور علی خان

 نیشنل آئی کون ایوارڈ فرام چیف منسٹر یوتھ موبیلائزیشن کمیٹی

 فخر پاکستان ایوار ڈ فرام امیر جماعت اسلامی

محمد ہزیر اعوان کا جذ بہ بھی ماند نہیں ہواوہ مزید آگے جانا چاہتا ہے اور آئی ٹی کی فیلڈ میں پاکستان کا نام روشن کرنا چاہتا ہے ۔ کمپیوٹر میں مہارت حاصل کرنے والا یہ بچہ نہ صرف ماں باپ اور اپنے اسا تذہ کا فرماں بردار ہے ، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ وطن کی محبت کے جذبے سے بھی سرشار ہے ۔ محمد ہزیر اعوان ر جیسے بچے حقیقی طور پر پاکستان کا فخر اور اثاثہ ہیں ۔ زندہ قومیں اپنے ایسے سپوتوں پر ہمیشہ ناز کرتی ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *