عبادت کے ارکان اور قسمیں

عبادت کے ارکان:

 
عبادتیں جن کو اللہ نے بجا لانے کا حکم دیا ہے وہ تین اہم ارکان پر قائم ہیں۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو مکمل کرتی ہے۔
 
انتہا درجے کی انکساری اور خوف
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے بے انتہا محبت
امید اور حسن ظن
 
اللہ نے اپنے بندوں پر جس عبادت کو فرض کیا اس میں اللہ کے لیے مکمل عجز و انکساری اور اس کا ڈر ہونا ضروری ہے ساتھ میں کمال محبت ورغبت اور اس سے ثواب کی امید،وہی اس کا مقصود ہو۔
 
بنا بریں جس محبت میں خوف اور انکساری نہ ہو، جیسے کھانے اور مال سے محبت کرنا، وہ عبادت نہیں، اسی طرح وہ خوف جو محبت سے عاری ہو، جیسے خوفناک جانور اور ظالم حکمران کا ڈر عبادت نہیں ہوگا‎۔ جب کسی عمل میں خوف ومحبت جمع ہوجائیں تو وہ عبادت بن جائیگا اورعبادت سوائے اللہ کےکسی اور کے لیے نہیں ہوگی۔
 
چنانچہ جب ایک مسلمان نماز پڑھتا ہے یا روزہ رکھتا ہے اور وہ ایسا اللہ کی محبت کے لئے اس سے ثواب اور بدلے کی امید کرتے ہوئے اور اس کے انجام سے ڈرتے ہوئے عمل کرتا ہےتو وہ عبادت میں ہوتا ہے۔ اللہ نے ا پنے انبیاء کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا : ( وہ بھلائی کے کاموں کی طرف جلدی کرتے ہیں اور ہم سے شوق اور ڈر کے ساتھ مانگتے ہیں اور ہمارے ليے انکساری اختیار کرتے ہیں۔)
 

عبادت کی قسمیں:

 
1: خالص عبادات: اس سے مراد وہ عبادت ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے کہ اسے ایک مخصوص طریقے سے ادا کیا جائے اور وہ صرف عبادت ہی قرار پائے۔ مثال : صلاۃ، صوم، حج، دعا، طواف، اس کو غیراللہ کے لئے انجام دینا ہرگز درست نہیں ہے۔
اس کی درستگی اور قبولیت کے ليے دو شرطیں ہیں :
 
عبادت کو اللہ وحدہ لاشریک کے ليے خالص کیا جائے۔
اللہ کے رسول ﷺ کی سنت کی موافقت اور متابعت۔
 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:((فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاء رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدً)) (پس جو اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے اسے چاہيے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے) (الکہف: 110) جو اللہ اور آخرت کے گھر کا طلب گار ہے اس کے ليے ضروری ہے کہ وہ اللہ کی عبادت آیت کریمہ میں مذکور ان دونوں شرطوں کے مطابق انجام دے۔
 
اللہ رب العالمین کا قول [وَلا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَداً] اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، عبادت کو اللہ وحدہ لاشریک لہ کے ليے اس کے علاوہ سے خالص کرنے پر دلالت کرتا ہے۔
 
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان :[عَمَلاً صَالِحاً](عمل صالح) یعنی درست اور یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب وہ عمل کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ میں وارد طریقوں کے موافق ہو۔
 
2: اخلاق فاضلہ: اس سے مراد ایسے امور ہیں جن کا اللہ نے لوگوں کو حکم دیا یا لوگوں کے ليے محبوب بنایا، جیسے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، لوگوں کے ساتھ احسان کرنا، مظلوم کی مدد کرنا اور اس کے علاوہ دیگر اچھے عادات و اطوار اور اخلاق جن کا اللہ نے عمومی طور پر حکم دیا اور مسلمان اس کے چھوڑنے پر گنہگار ہوتا ہے۔
اور اس قسم کی عبادات میں اللہ کے نبی ﷺ کی تفصیلی متابعت ضروری نہیں ہوتی ہے۔ اس میں صرف اتنا ہی کافی ہے کہ وہ عمل اللہ کے رسول ﷺ کے طریقے کے خلاف نہ ہو اور انسان حرام میں واقع نہ ہوتا ہو۔
 
یہ وہ اعمال ہیں کہ جب ان کا کرنے والا اپنی نیت کو درست رکھتا ہے اور اللہ رب العالمین کی اطاعت چاہتا ہے تو ان کو کرنے والا اجر کا مستحق ہوتا ہے۔ اور اگر ان کو کرنے والا اللہ کی خوشنودی کا طالب نہیں ہوتا تو اسے اجر نہیں دیا جاتا ہے ساتھ ہی ساتھ وہ گنہگار بھی نہیں ہوتا ہے۔
 
اور اس کے ساتھ دنیوی امور بھی جوڑے دئے جاتے ہیں۔ مثلا : سونا، کام کرنا، تجارت کرنا، دیگر سر گرمیاں انجام دینا وغیرہ۔
 
ہر نفع دینے والا عمل جس سے اللہ کی خوشنودی کا قصد کیا جائے اس کے کرنے والے کو اجر ملتا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: اچھے کام کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے ہیں۔
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *