حکومتی عدم توجہی سے کلاسیکل موسیقی زوال پذیر ہوئی: غلام علی

غلام علی

لاہور (انٹرویو: محمد قیصر چوہان/ عنصر اقبال) راگ اور ان میں موجود سُروں کی مخصوص ترتیب اور ردھم سے سننے والے کے تصور میں نیرنگی خیال اور جمالیاتی تاثیر کی آمیزش سے ایک ایسی تخیلاتی دنیا تخلیق ہوتی ہے جو کسی رنگ یا زبان اور الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی۔ گانے والے کے گلے اور سازوں سے نکلنے والے سُر جب اپنی ہم آہنگی سے فضا میں بکھرتے ہیں تو پورا ماحول اس موسیقی سے معطر ہوجاتا ہے اور سامعین کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

پھولوں کی خوشبو، قوس قزاح کے رنگ، قدرتی مناظر کا حسن اور انسانی جذبات ان سُروں کی لہروں کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں اور یہ سُرجب سننے والے کے کانوں میں رس گھولتے ہیں تو ان کے تخیل کی پرواز مخصوص سمت میں اُڑان بھرتی ہے اور جمالیاتی احساس انسان کو وہ لطف دیتا ہے جو کوئی بھی دوسرا ذی روح محسوس نہیں کر سکتا۔ موسیقی کی دھن، اس کا ردھم اور سب سے بڑھ کر اس کا رس اور رچاؤ ہی وہ اجزائے ترکیبی ہیں جن سے فنکار اپنے فن کا جادو جگاتا ہے اور پھر سُروں میں لپٹی ہوئی خوبصورت آواز اپنے سننے والے کو سحر میں گرفتار کر لیتی ہے۔

ایسی ہی جادو بھری آواز کے مالک اُستاد غلام علی بھی ہیں جنہوں نے اپنی بے پناہ ریاضت اور اپنی لگن کے باعث موسیقی سے جیسے دشوار اور مشکل کام کو آسان بنا دیا۔غلام علی نے اس مشکل کام کونہ صرف اپنے لیے آسان بنایا بلکہ عدیم النظیر فن کاروں کی موجودگی میں اپنے آپ کو منوانے کے ساتھ ساتھ غزل گائیگی کی تاریخ میں بھی اپنا نام امر کر دیا اور گائیکی کا ایک نیا انداز متعارف کرایا۔ غلام علی کی آواز، فن اور مہارت بے نظیر اور ناقابل فراموش ہے۔

5 دسمبر 1941ء کو ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے گاﺅں کالیکے ناں گرے میں جنم لینے والے اُستاد غلام علی صاحب کی گائیگی کا خاصہ یہ ہے کہ وہ کسی ایک راگ میں غزل گاتے ہوئے اس راگ کے قریب کے سُروں کی آمیزش سے اپنی غزل کو خو بصورت بناتے ہیں۔ غزل گائیگی کے حوالے سے یہ رنگ خالصتاً پنجاب کے گانے والوں کا طرہ امتیازہے۔ بھیرویں، تلنگ اورپہاڑی کو جب پنجاب کے گائیک اپنے مخصوص انگ سے گاتے بجاتے ہیں توموسیقی سے محبت کرنے والے لوگ اس مخصوص ”پنجابی انداز“ کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے اور یہی راگ جب پورب اور دلی والے گاتے ہیں تو ان کا انداز مختلف ہوتا ہے۔

اُستاد بڑے غلام علی خاں صاحب بھی اپنے اسی مخصوص پنجابی انگ کے باعث ہندوستان بھر میں نمایاں رہے ہیں اور یہی وجہ تھی کہ ان کے انگ کے سامنے کسی دوسرے گائیک کی دال نہیں گلتی تھی۔اُستادبڑے غلام علی خاں صاحب کے شاگرد غلام علی صاحب نے بھی اپنے اسی مخصوص پنجابی انگ، چھوٹی چھوٹی مرکیوں، زمزموں، تانوں سے اُردو غزل کو ایک نئی جہت اور سمت عطا کی ہے۔

غلام علی نے درباری، مالکونس، پہاڑی، تلک کامود، میگھ، اڈانا اور جونپوری سمیت بیشتر راگ گائے۔ غلام علی کی خاص بات یہ ہے کہ ایک ہی غزل کو اگر وہ دس الگ محفلوں میں گائیں تو دس کی دس محفلوں میں سامعین کو نیا پن سنائی دے گا۔ وہ ہمیشہ اپنی پرانی غزلوں میں سامعین کے لیے کچھ نہ کچھ نیا ضرور پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح غلام علی لفظوں کو مقدس اور معتبر گردانتے ہیں اور انہیں سمجھنے، محسوس کرنے اور ان کی درست ادائیگی میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔

غزل ادائیگی کے دوران ان کے چہرے کے تاثرات بھی کافی دیدنی ہوتے ہیں۔ ادائیگی کے ساتھ ساتھ وہ چہرے پر ایسے دلکش تاثرات رکھتے ہیں  کہ مدھر سُروں میں چاشنی اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ہارمونیم کے ساتھ ساتھ غلام علی صاحب طبلہ نوازی کی بھی تعلیم رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے گانے میں ”لَے کاری“ کے اچھوتے نمونے ملتے ہیں۔ غزل گاتے ہوئے ”لَے“ سے کھیلنے کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے میاں نبی بخش کالرے والے کے مایہ ناز شاگرد اُستاد اللہ دتہ بہاری پوری (لقب پری پیکر) سے باقاعدہ طبلہ نوازی کی بھی تربیت حاصل کی ہے اور وہ خود بھی بہت اچھا طبلہ بجاتے ہیں۔

ابتداء میں پاکستان کے مایہ ناز طبلہ نواز عبدالستار تاری اور غلام علی صاحب کی جوڑی بہت مشہور ہوئی تھی۔غلام علی صاحب گفتگو کے دوران عجز اور انکسار کا اظہار کرتے ہیں وہ موسیقی کے اساتذہ، اپنے سینئرز اور بزرگوں کا بے پناہ احترام کرتے ہیں۔

آواز میں موسیقیت کی طبعی استداد کے ساتھ سانس کے اُتار چڑھاﺅپر اختیار اور ہارمونیم پر انگلیوں کے سحر نے موسیقی کا ایک ایسا امتزاج بخشا جس نے اُستاد غلام علی کو ” غزل کا سلطان“ بنایا۔ غلام علی غزل کو ایسا بناتے اور سنوارتے ہیں کہ اشعار کا مفہوم سننے والے پر عیاں ہوتا جاتا ہے اور تشریح کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ احساس اور فکر دونوں کو چھیڑتے چلے جاتے ہیں اورسامع کے پردہ تخیل پر شاعری بصورت تمثیل عیاں ہوتی جاتی ہے۔

غلام علی صرف ظاہری خوبصورتی کو ہی نہیں دیکھتے کیونکہ ظاہر کو تو سبھی دیکھ لیتے ہیں، بلکہ وہ تو سادہ الفاظ سے خوبصورتی کو تراشتے ہیں، اسے آواز سے سنوارتے ہیں اور سامع کے پردہ تخیل پر یوں بکھیر دیتے ہیں کہ وحیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ وہ الفاظ کی منظر کشی ایسے کرتے ہیں کہ ہر لفظ کا مفہوم الگ سے واضح بھی ہو جاتا ہے اور الفاظ کا باہمی ربط بھی نہیں ٹوٹتا۔ بالکل ایسے ہی جیسے پردہ سمیں پر ایک کے بعد دوسرا منظر بنتا جاتا ہے اور شاہکار تخلیق ہوتا جاتا ہے۔

غلام علی صاحب نے گمک اور لے کاری کہ ساتھ ساتھ اپنی ادائیگی یعنی بول، سرگم اور آکار کومزید نکھارا، منجھی ہوئی بول تان ان کا خاصہ ہے، متنوع اور پیچیدہ تانوں کو کمال فن سے ایسا مترنم بنایا کہ ”غزل کے سلطان“ قرار پائے۔ غلام علی کا سُر اُونچا اٹھانا اور پھر ہارمونیم کی آواز میں مدغم کر دینا ایسا لگتا ہے جیسا کوئی طائر نورس آسمان تک اُڑان بھرے اور پھر غوطہ مار کر سمندر کے نیلے پانے کے ساتھ یکجان ہو جائے۔ غلام علی پاکستان اور بھارت کے علاوہ مشرق وسطیٰ، امریکہ، برطانیہ ، جرمنی اور دیگر بہت سے ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں، اس دوران وہ متعدد ایوارڈزاور اعزازات بھی حاصل کر چکے ہیں۔

حکومت پاکستان کی جانب سے اُستاد غلام علی کی فنی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سے نوازا جا چکا ہے۔ گزشتہ دنوں اپنی سریلی آواز سے غزل گائیکی کے فن کو عروج بخشنے والے ”غزل کے سلطان“ اُستاد غلام علی سے ان کی رہائش گاہ پر ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں موسیقی سے بے پناہ لگاﺅ اور سمجھ بوجھ رکھنے والے معروف صحافی عنصر اقبال اور سُرساگر سنگیت اکیڈمی کے سربراہ مشتاق احمدپراچہ بھی موجود تھے۔ اس ملاقات میں ”غزل کے سلطان“اُستاد غلام علی سے جو گفتگو ہوئی وہ قارئین کی خدمت میں حاضر ہے:

سوال: سب سے پہلے تو آپ ہمارے قارئین کو اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟

غلام علی: میرے دادا جی کا نام نواب دین صاحب اورمیرے والد محترم کا نام دولت علی جعفری تھا، دادا جی اور میرے والد صاحب کو موسیقی سے عشق تھا اور دونوں ہی سارنگی بجاتے تھے، بعد میں والد صاحب نے ہارمونیم بجانا شروع کر دیا تھا۔ ہمارا تعلق سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے گاﺅں کالیکے ناں گرے سے ہے۔

سوال: غلام علی صاحب پٹیالہ گھرانے سے آپ کا تعلق کس طرح جڑا ؟

غلام علی: بڑے غلام علی خاں صاحب، اُستاد عاشق علی خاں صاحب کے شاگرد ہوئے۔ عاشق علی خاں صاحب کا تعلق پٹیالہ گھرانے سے تھا۔ جبکہ اُستاد بڑے غلام علی خاں صاحب کا تعلق قصور گھرانے سے تھا۔ان کے والد اُستاد علی بخش خاں صاحب اور چچا کالے خاں صاحب بہت بڑے کلاسیکل گائیک تھے۔ اُستاد بڑے غلام علی خاں صاحب شروع دن سے ہی بہت اچھا گاتے تھے، ان کے والد صاحب نے کہا تھا کہ بیٹا اگر تم اُستاد عاشق علی خاں صاحب کے شاگرد نہ ہوئے تو میں تم سے ناراض رہوں گا، یوں اُستاد بڑے غلام علی خاں صاحب نے والد کی خواہش پر اُستاد عاشق علی خاں صاحب کی شاگردی اختیار کی۔ اور وہ پٹیالہ گھرانے سے منسلک ہو گئے، اسی طرح جب میں اُستاد بڑے غلام علی خاں صاحب کی شاگردی میں آیا تو میرا تعلق بھی پٹیالہ گھرانے سے جڑ گیا۔

سوال :آپ نے گائیکی کا آغاز کس عمر سے کیا؟

غلام علی: کلاسیکل گائیکی تو مجھے ورثے میں ملی ہے، میرے خون میں شامل ہے۔ میرے والد محترم دولت علی خاں صاحب بھی کلاسیکل گائیک تھے تو اُن کی بڑی خواہش تھی کے اُن کا بیٹا (غلام علی) بھی اسی شعبے میں آئے اور کلاسیکل گائیکی کے فن میں کا میابیاں حاصل کرے۔ اسی لیے والد محترم نے مجھے بچپن ہی میں کلاسیکل گائیکی کی تعلیم دینا شروع کر دی تھی۔ میری پیدائش 5 دسمبر 1941ء ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے ایک گاؤں کالیکے ناں گرے کی ہے۔

میں ابھی چھوٹا ہی تھا کہ والد صاحب گوجرانولہ کے قریب نندی پورکے پڑوس میں واقع گاﺅں گلوٹیاں خورد میں آکر آباد ہوگئے، یہاں میرے والد محترم کا ننھیال رہائش پذیر تھا۔ آٹھ سال کی عمر میں والد محترم نے مجھے باقاعدہ ریاض کرانا شروع کر دیا تھا۔ ہارمونیم کی تعلیم دی اور انہوں نے مجھے پوریا دھناسری راگ کے نشان لگا کر دیئے اور یوں میں گھنٹوں اس کی پریکٹس کرنے لگا۔

ایک ہفتے کی مشق کے بعد میرا ہاتھ کافی اچھا ہو گیا تھا، ایک دن میں ریاض کر رہا تھا تو میری آنکھیں سُرخ ہو گئیں اسی دوران میری دادی کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ میرے والد صاحب سے مخاط ہو کر کہنے لگیں کہ لگتا ہے تم اس بچے کو مار دو گے،جس پر انہوں نے کہا ماں جی میں نے غلام علی کو اللہ تعالیٰ سے مانگا ہی گانے کے لیے ہے لہٰذا آپ اس کی کامیابی کی دُعا کریں۔

جب میں اپنے گاﺅں کے سکول میںدوسری کلاس میں پڑھ رہا تھا تو ایک دن اُستاد جی بچوں کو پڑھا رہے تھے اس دوران میں نے گنگنانا شروع کر دیاجب ماسٹرجی نے مجھ سے پو چھا کی یہ کیا کر رہے ہو ؟تو میں ڈر گیا ، اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ڈرو نہیں مجھے بھی سناﺅ۔ ماسٹر جی کی فرمائش پر جب میں نے گایا تو وہ بولے کہ کل سے صبح کی اسمبلی میں حمد اور نعت تم ہی سنایا کرو گے۔

یوں حمد و نعت سے میرے سفر کا آغاز ہوا، میں جب سکول کی اسمبلی میں حمد و نعت سناتا تو آس پاس کے لوگ اسے سننے کے لیے جوق در جوق چلے آتے اور مجھے خوب داد دیتے، جس سے میری بڑی حوصلہ افزائی ہوتی۔ میں آئینے کے سامنے کھڑا ہوکر سجنے سنورنے کی بجائے گانے کی کوشش کرتا تھا۔

سوال: غلام علی نام رکھنے کی کیا کوئی خاص وجہ تھی؟

غلام علی: میرے والد محترم دولت علی جعفری صاحب کو اُستاد بڑے غلام علی خاں صاحب سے بڑی محبت اور ان کے فن سے عشق تھا تو اسی نسبت سے میرے والد محترم نے میرا نام غلام علی رکھا۔ میرے والد محترم نے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو کر دُعائیں مانگیں جس کے نتیجے میں رب کائنات نے مجھے ” سُر“ اور ”لَے “ کی سمجھ عطا کر کے مجھ نہ چیز پر اپنا خاص فضل و کرم کیا، جس پر میں اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے۔

میرے والد صاحب اور میرا ماننا ہے کہ اُستاد بڑے غلام علی خاں صاحب سے بڑا کلاسیکل گائیک اس دنیا میں کوئی نہیں ہوا۔ ان کے بعداُستاد امیر خاں صاحب اندور والے اوراُستاد عاشق علی خاں صاحب ایسے گائیک تھے جن سے پوری دنیا نے استعفادہ کیا۔

سوال: ریڈیو پاکستان سے وابستگی کس طرح ہوئی؟

غلام علی: علی پور چٹھہ کے رہائشی چوہدری ریاست علی ایڈووکیٹ میرے والد محترم کے بڑے اچھے دوست تھے۔ ان کا ریڈیو پاکستان لاہور کے اعلیٰ آفیسرز کے ساتھ بڑا یارانہ تھا۔ ان کی وساطت سے پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان میں انٹری ملی۔ ان دنوں میری عمر تقربیاً 15 سال تھی۔ آغا بشیر صاحب اسٹیشن ڈائریکٹر اور ایوب رومانی صاحب اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہوا کرتے تھے۔ جب میرا آڈیشن شروع ہوا تو جیسے ہی میں نے’ آ‘ کہا آغا بشیر صاحب نے مجھے وہیں پر روک دیا۔ جس پر میں پریشان ہو گیا اور سمجھا کہ انہوں نے مجھے رجیکٹ کر دیا ہے، لہٰذا میرا کیریئر ختم۔

ایوب رومانی صاحب بڑے جہاندیدہ انسان تھے، انہوں نے مجھے مایوسی کا شکار دیکھا تو پوچھنے لگے کیا ہوا بیٹا، میں نے کہا سر جی آپ نے تو مجھے سنے بغیر ہی رجیکٹ کر دیا ہے۔ جس پر وہ کہنے لگے کہ بیٹا آغا بشیر صاحب نے لکھا ہے (Excellent)۔ اس طرح میرا ریڈیو کا سفر شروع ہوا۔

دو ماہ بعد مجھے سی کلاس سے بی کلاس مل گئی، پھر چھ ماہ بعد ا ے کلاس دی گئی۔ ریڈیو کی وجہ سے ہی صوفی تبسم صاحب، ناصر کاظمی صاحب ،فیض احمد فیض صاحب، سلیم گیلانی صاحب ،عشرت رومانی صاحب جیسے ہیروں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ناصر کاظمی صاحب ،ایوب رومانی صاحب مجھ سے بڑی محبت کرتے تھے۔

سوال: ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کے اُ س کا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا آفیسر بنے، جب آپ نے ہارمونیم تھام کر گانا شروع کیا تو آپ کی والدہ محترمہ کا کیا ردعمل تھا؟

غلام علی: والدہ میرے گانے کے شوق پر بے حد خوش تھیں، میں جب گانے کے لیے گھر سے روانہ ہونے لگتا تو والدہ محترمہ مجھے جھولی اُٹھا کر ڈھیروں دُعائیں دیتیں، ماں جی کہتیں کہ جا بیٹا جہاں تمہارا پاﺅں پڑے گا، اللہ وہاں خیر و برکت کردے گا۔ پھر ایسا ہی ہوا، میں دنیا کے جس ملک بھی گیا اللہ تعالیٰ نے مجھے بڑی عزت دی۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک عورت کا ہا تھ ہوتا ہے۔ اور میری کامیابی کے پیچھے میری والدہ محترمہ کا ہاتھ ہے۔

 سوال:ابتدائی دنوں میں کلاسیکل گائیکی کن اساتذہ سے سیکھی؟

غلام علی: گائیکی کے بنیادی اسرارورموز میں نے اپنے والد محترم دولت علی جعفری صاحب سے سیکھے تھے اسی لیے میرے پہلے اُستاد میرے والد صاحب ہی ہیں۔ اس کے بعد میں نے گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے اُستاد ملنگ حسین سے بھی کلاسیکل گائیکی سیکھی ۔ان دنوں میں اٹھارہ گھنٹے زمین پر بیٹھ کرریاض کیا کرتا تھا، میرا ناشتہ ہی ریاض سے ہوتا تھا۔

سوال :آپ اُستاد بڑے غلام علی خاں صاحب کے شاگرد کس طرح بنے تھے؟

غلام علی: اُستاد بڑے غلام علی خاں صاحب انڈیا سے کابل گئے ہوئے تھے، واپسی پر وہ لاہور آئے اور ہیرا منڈی لاہور میں زیارت نوگزا کے سامنے اُستاد برکت علی خاں صاحب اور اُستاد مبارک علی خاں صاحب کی موسیقی کی بیٹھک ہوا کرتی تھی۔ یہ دونوں اُستاد بڑے غلام علی خاں صاحب کے بھائی تھے وہاں آکر ٹھہرے ۔میرے والد محترم دولت علی جعفری صاحب نے اُستاد بڑے غلام علی خاں صاحب سے ملاقات کی اور انہیں درخواست کی کہ میں اپنے بیٹے غلام علی کو آپ کا شاگرد کرنا چاہتا ہوں ، اُستادبڑے غلام علی خاں صاحب کہنے لگے میں تو انڈیا میں رہتا ہوں، یہاں بہت ہی کم آتا ہوں، میں کیسے اس کو گائیکی کا فن سکھا پاﺅں گا؟۔

اس کے بعد میرے والد صاحب نے انہیں پھر سے دلی درخواست کی تو وہ مان گئے اور کہنے لگے کہ چلو پھر کل شاگردی کی رسم ہو گی اور یوں میں اُستاد بڑے غلام علی خاں صاحب کا شاگرد بن گیا۔پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے تینوں بھائیوں اُستاد برکت علی خاں صاحب، اُستاد مبارک علی خاں صاحب اور استاد امان علی خاں کے ہاتھوں میں دے دیا، اور کہنے لگے کہ اب یہ آپ کے حوالے ہے۔

اُستاد بڑے غلام علی خاں صاحب کا شاگرد بننے پرمیں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر شکر ادا کیا تھا۔ میں اتنا خوش تھا کہ بتانے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں، خوشی کی وجہ سے ساری رات نیند نہیں آئی تھی۔ پھر میں نے دس سال تک اُستاد برکت علی خاں صاحب اور اُستاد مبارک علی خاں صاحب سے گائیکی کا فن سیکھا۔

ان دنوں معاشی مسائل کی وجہ سے کئی مرتبہ بھوکا رہ کر بھی گھنٹوں ریاض کیا۔ میں پانچ وقت اللہ تعالیٰ کی بارگا ہ میں ہاتھ اُٹھا کر اپنے والدین سمیت اُستاد بڑے غلام علی خاں صاحب، اُستاد مبارک علی خاں صاحب، اُستاد برکت علی خاں صاحب، ناصر کاظمی صاحب، صوفی تبسم صاحب اور سلیم گیلانی صاحب کی مغفرت کے لیے دُعا کرتا ہوں۔

سوال :آپ نے ہار مونیم اور طبلہ کس سے سیکھا؟

غلام علی: بچپن میں جب گلا خراب ہو ا تو میں نے طبلہ سیکھنا شروع کر دیا، کراچی سے تعلق رکھنے والے اُستاد اللہ دِتہ خاں صاحب سے میں نے طبلہ بجانے کا فن سیکھا۔ طبلے کا بھی موسیقی میں ایک اپنا مقام ہے لیکن گانے کے بعد ۔میں عبدلستارطاری خاںصاحب کے ساتھ مل کر طبلہ بھی بجایا کرتا تھااورطاری خاں صاحب نے ایک عرصہ میرے ساتھ سنگت بھی کی ،طاری خاں صاحب لاجواب طبلہ بجاتے ہیں۔

سوال: کلاسیکل موسیقی ایک باریک کام ہے اس میں الفاظ کی ادائیگی اور تلفظ بڑی اہمیت کے حامل ہیں، اس حوالے سے کس نے آپ کی رہنمائی کی؟

غلام علی: ناصر کاظمی صاحب، صوفی تبسم صاحب اور سلیم گیلانی صاحب نے مجھے لفظوں کی اہمیت بتائی اور میرا تلفظ بھی درست کرانے میں بڑی مدد کی۔میں لکھنﺅ میں پرفارم کر رہا تھا،شو کے اختتام پر مجھے ایک شخص نے کہا کہ غلام علی صاحب جب آپ بولتے ہیں تو لگتا ہے آپ پنجابی ہیں لیکن جب آپ گاتے ہیںتو آپ کا تعلق لکھنﺅ سے لگتا ہے۔

سوال: فلم کے لیے بہت ہی کم گانا گانے کی وجہ کیا تھی؟

غلام علی: میرے والد محترم کو میرا فلموں کی لیے گانا پسند نہیں تھا۔ بخشی وزیر صاحب ہمارے محلے دار تھے انہوں نے مجھے فلم میں گانے کے لیے کہا، میں نے اپنے والد محترم سے اجازت مانگی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ والد صاحب فلموں میں گائیکی کے سخت مخالف تھے لیکن موسیقار بخشی وزیر نے میرے والد محترم کو بڑی مشکل سے راضی کیا اور اس کے بعد میں نے فلموں کے لیے بھی گیت گائے، میں نے فلم کے لیے بہت کم گایا البتہ جتنا بھی گایا وہ اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم سے سپر ہٹ ہوا۔

سوال: ماضی میں گانا مشکل تھا یا آج کے دور میں؟

غلام علی: ماضی میں گلو کاروں کی آدھی زندگی تو ریاض کرتے ہوئے گزر جاتی تھی لیکن وہ جتنا بھی گاتے تھے سر اور لے میں گاتے تھے، اسی لیے برسوں پہلے گائے ہوئے گانے آج بھی لوگ پسند کرتے ہیں۔ جب سے میوزک میں نئے انسٹرومنٹ آئے ہیں تب سے گانا کم اور بجانا زیادہ ہو گیا ہے۔ ”سُر“ اور ”لَے“ سے محبت کرنے والے لوگ پیچھے رہ گئے ہیں جبکہ بے سُرے آگے آگئے ہیں۔

سوال: ایک وقت تھا کہ پاکستان اوربھارت میں یکساں طور پر کلاسیکل موسیقی عروج پر تھی، پھر رفتہ رفتہ پاکستان میں کلاسیکل موسیقی کی اہمیت کم ہوتی گئی، آپ کے نزدیک کلاسیکل موسیقی زوال پذیر ہونے کے اسباب کیا ہیں؟

غلام علی: ” سُر“ اور ”لَے“ سے نا آشنا لوگ اور حکومتی عدم توجہی کلاسیکل موسیقی کے زوال کا سبب ہے۔ انڈیا میں موسیقی اُن کے مذہب کا حصہ ہے اس لیے وہاں کے حکمران میوزک کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں۔ انڈیا میں میوزک سے وابستہ لوگوں کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

انڈیا میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا گلوکاروں سمیت میوزک سے وابستہ افراد کو پروموٹ کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ انڈیا میں مختلف کمپنیاں میوزک سے وابستہ افراد کی مالی معاونت کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میںگلوکاروں سمیت میوزک سے جڑے ہوئے لوگوں کے ساتھ حکمرانوں کا رویہ توہین آمیز ہے۔ پاکستان میں میوزک کو فروغ دینے کے لیے حکمران طبقے نے اپنا کردار ادا نہیں کیا۔

پاکستان میں موسیقی کا بے پناہ ٹیلنٹ ہے جو حکمرانوں اور میڈیا کی عدم توجہی اور بے رُخی کے سبب ضائع ہو رہا ہے۔ اگر ہمارے حکمران میوزک کو فروغ دیتے تو آج پاکستان کانام اس شعبے میں سب سے آگے ہوتا۔ پاکستان میں آج کلاسیکل موسیقی گانے اور سننے والے لوگ نایاب ہیں۔

سوال : سُروں کی ملکہ لتا منگیشکر سے پہلی ملاقات کیسے ہوئی تھی؟

غلام علی: میں جب انڈیا گیا تو وہاں کے میڈیا نے مجھے بھر پور کوریج دی۔ میرے آنے کی خبر جب لتا جی نے پڑھی تو انہوں نے گلوکار مہندر کپور کی ڈیوٹی لگائی کہ غلام علی صاحب کو تلاش کرو، میں انہیں سننا چاہتی ہوں۔ مہندر کپور نے مجھ سے ملاقات کی اور مجھے کہا کہ لتا دیدی آپ کو سننا چاہتی ہیں لہٰذا آپ کوئی ٹائم دیں، میں نے کہا کہ میں توخود لتا جی کا بہت بڑا پرستار ہوں۔

مہند رکپور سے میں نے کہا کہ میں کولکتہ جا رہا ہوں واپس آکر لتا جی سے ضرور ملاقات کروں گا۔ لتا جی نے میرے اعزاز میں ممبئی کے تاج پیلس ہوٹل میں تقریب رکھی اور اس میں موسیقار نوشاد صاحب، لکشمی کانت پیارے لعل جی، کلیان جی آنندجی، ساحر لدھیانوی صاحب سمیت میوزک اور فلم سے وابستہ لوگ شریک تھے۔ میں نے مائیک پکڑ کر کہا کہ گانا، گانا اور بات ہے لیکن آج مجھے گانا پڑ گیا ہے لہٰذا اگر کوئی غلطی کوتاہی ہو جائے تو میں اس کی پیشگی معافی مانگتا ہوں۔

پھرجیسے ہی میں نے آلاپ مکمل کیا تو لتا جی نے مجھے روک دیا، مائیک پکڑ کر کہنے لگیں، غلام علی صاحب آپ کی باتوں میں معذرت تھی لیکن آپ کے گلے میں معذرت نہیں ہے۔ جب میں نے غزل ختم کی تولتا جی نے نوشاد صاحب کو مخاطب کر کے پوچھا کہ کیا ایسے بھی غزل گائی جاتی ہے، اس کے بعد میں نے مختلف غزلیں گائیں اور حاضرین سے خوب داد تحسین سمیٹی۔

سوال: انڈین غزل گائیک جگجیت سنگھ سے آپ کی دوستی کب ہوئی؟

غلام علی: میں 1980ء میں لند ن گیا، وہاں پر ایک محفل موسیقی کے دوران جگجیت سنگھ سے ملاقات ہوئی جو دوستی میں بدل گئی۔ میں جب بھی بھارت جاتا، تو ممبئی میں اُن کے گھر ضرور جاتا تھا۔ ہم دونوں موسیقی کے بارے میں بھی خوب گفتگو کرتے تھے، اس کے علاوہ خاندان کے بارے میں بھی بات چیت ہوتی تھی۔ جگجیت سنگھ با کمال غزل گائیک اور ایک بہترین انسان تھے۔

سوال: جنرل ضیاء الحق جب صدر پاکستان تھے تو انہوںنے ایک تقریب میں آپ سے کیا کہا تھا؟

غلام علی: 1987ء کی بات ہے میں ایبٹ آباد میں آرمی کی ایک محفل میں ”ہنگامہ ہے کیوں برپا“ گا رہا تھا۔ تو بعد میں جنرل ضیاء الحق صاحب نے مجھ سے کہا کہ واہ بھئی راگ درباری بہت خوب گایا ہے آپ نے۔ جنرل ضیاءالحق صاحب کو موسیقی سے بے انتہا شغف تھا اور کافی حد تک سُروں کی اونچ نیچ سے بھی واقف تھے۔ ایک اور تقریب میں جنرل ضیاءالحق نے مجھے کہا کہ” آپ بہت سریلا گاتے ہیں“۔ جنرل پرویز مشرف بھی کلاسیکل موسیقی کو بڑی بارک بینی سے سمجھتے تھے اورمیرے فن کے بہت قدردان تھے۔

سوال: آپ کے خیال میں کلاسیکل گانے والے فن کار کو کن اوصاف کا حامل ہونا چاہئے؟

غلام علی: کلاسیکل موسیقی گانے والے فنکار کو چاہیے کہ وہ راگوں کے بارے میں تحقیق کرے، پھرگھنٹوں ریاض کرے ،گانے کا اسلوب ہے، سُر کا لگاؤ، راگ کی بڑھت، تانوں کی تقسیم، فنکار کا لہجہ، آواز کی تراش خراش، الاپ کا انداز، لے کاری اور سب سے بڑھ کر راگ کے رس اور مزاج کے مطابق تخلیقی بندشیں ،ان سب کے بارے میں ایک گلو کار کو پتہ ہونا چاہیے۔

موسیقی کی فیلڈ میں اچھی تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے، پھر فن کار کے اندر ایک تجسس ہونا چاہئے، ریاض سے ہی گلوکار بنتا ہے ، ریاض سے ہی بگڑتا ہے، اچھا استاد مل جائے اور اچھی ریاضت ہو جائے تو پھر بات بن جاتی ہے۔ اس لیے اچھا رہبر بہت ہی ضروری ہے بغیر رہبر کے موسیقی کے فن میں راستہ نہیں ملتا اور فن کار ساری زندگی الجھا ہی رہتا ہے۔ جن لوگوں نے اچھی تعلیم کسی اچھے اُستاد سے حاصل کی، ریسرچ کی اور اچھا ریاض کیا وہ ضرور کامیاب ہوئے۔

سوال:آپ غزل گائیکی کا مستقبل کیا دیکھ رہے ہیں؟

غلام علی: ری مکِس کے زمانے میں گائیکی دم توڑ رہی ہے۔ پاکستان میں باصلاحیت گلوکاروں کی کمی نہیں ہے لیکن چمک دمک کے اس دور میں اصل گلوکار کا آگے آنا مشکل ہے۔ موسیقی ایک وسیع موضوع ہے۔ اس کی اپنی ریاضی اور گرائمر ہے۔ جب تک کسی کو یہ سب پتہ نہیں ہوتا، وہ ایک اچھا گلوکار نہیں بن سکتا۔ غزل کے حوالے سے ہمارے ہاں اچھی غزل گانے والے بھی کم ہیں اور غزل گائیکی سکھانے والے بھی۔ اس شعبے میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے اور ہم جیسے سینئرز کو اس سلسلہ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *