وفاقی حکومت سندھ کو اپنے حصے کے پانی سے محروم کر رہی ہے : جام خان شورو

کراچی: ()صوبائی وزیر برائے محکمہ آبپاشی جام خان شورو نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تربیلا ڈیم پر جاری کام کا جھوٹا جواز بناکر صوبہ سندھ کو اسکے مقررہ حصے کے پانی سے محروم کیا جارہا ہے جس سے صوبہ سندھ میں زرعی پانی کا شدید بحران پیدا ہونے اور ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔

ان باتوں کا اظہار آج انہوں نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کیا ہے۔ صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت 1991 کے آبی معاہدے کے تحت صوبہ سندھ کو پانی نہ دیکر سزا دے رہی ہے، وفاقی حکومت کے اس ظالمانہ اور غیر قانونی عمل پر شدید احتجاج کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: اسپیکر قومی اسمبلی آئین و قانون کی دھجیاں اڑانے سے باز رہیں، شازیہ مری

صوبائی وزیر نے کہا کہ اگر تربیلا ڈیم میں پانی موجود نہیں ہے تو وفاقی حکومت اور ارسا حکام کو فوری طور پرصوبہ سندھ کو اسکے حصے کا پانی منگلہ ڈیم سے فراہم کرنا چاہیے کیونکہ اس وقت صوبہ سندھ کو 40 فیصد تک شدید پانی قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے صوبے میں پانی قلت سے زراعت کا شعبہ متاثر ہوگا اور کراچی سمیت صوبہ سندھ کے دیگر علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کا شدید بحران پیدا ہوسکتا ہے جبکہ پانی کی قلت کے باعث ابتدائی خریف کے سیزن میں روہڑی ، نارا کینالز و دیگر علاقوں میں فصلوں کی بوائی بھی شدید متاثر ہوگی۔

جام خان شورو کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت 1991 کے آبی معاہدے کے تحت سندھ صوبے کو حصے کا فوری پانی فراہم کرے تاکہ جلد پانی بحران پر قابو پایا جاسکے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *