سپریم کورٹ، نیا MDواٹر بورڈ تعنیات کرنے کاحکم،,DMDکا عہدہ ختم

کراچی(رپورٹ۔اسلم شاہ) سپریم کورٹ نے مینجنگ ڈائریکٹر اسد اللہ خان کو ہٹانے کا حکمنا جاری کرتے ہوئے عارضی طور پر تقرری کرنے سے روک دیا ہےاور 60 روز میں نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری تک ادارے میں سینئر ترین افسر کو مینجنگ ڈائریکٹر تعینات کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔

اس افسر کو صر ف روزانہ کے امور اور معاملات دیکھنے کا اختیار ہوگا، سول پیٹیشن نمبر491.491,494,284-K,285-K 2022 اور اپیل نمبر 968/2022 ایک جیسی چھ درخواستیں نمٹادی۔8 مارچ 2022ء کو جسٹس اعجازالحسن، جسٹس منیب اختر اور جسٹس سید مظہر علی اکبر نقوی پر مشتمل فل بینچ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیلیں میں صلاح الدین رضوی،احمد پنجوائی اور ایڈوکیٹ جنرل سندھ کے نمائندہ پیش ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں: مرغی اور بکرے کے گوشت کی قیمتیں مقرر

محمد اسلم اعوان کی جانب سے کوئی وکیل پیش نہیں ہوا۔وکلاء کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ نئے چیف ایگز یکٹو آفیسر کی تعیناتی پر کام جاری ہے۔اس مقصد کے لیئے سعادت اینڈ حیدر چارٹر اکاونٹنٹ کمپنی کی خدمات حاصل کیا گئی ہیں اور تجربہ کار افسر کی تقرری کا معاملہ جلد مکمل کرلیا جائے گا۔مینجنگ ڈائریکٹر اسد اللہ خان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا حکمنامہ موصول نہ ہوا،جیسے ہی سرکاری طور پر ملے گا نئے مینجنگ ڈائریکٹر کو چارج دے دیا جائے گا۔

کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے گریڈ 20 کی سینئر ترین افسر محترمہ فریدہ سلیم,امیتاز احمدہیں۔وہ چاہ ماہ بعد ملازمت سے ریٹائرڈ ہو رہی ہیں،جبکہ اسداللہ خان یکم مئی 2022ء کو ملازمت سے ریٹائرڈ ہوں گے۔سندھ ہائی کورٹ نے ایک حکم نامہ کے تحت مینجنگ ڈائریکٹر اسداللہ خان کو عہدے سے ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا اور 15روز میں نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کی ہدایت کی تھی۔

دوسری جانب کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ آئینی ترمیم کے بغیر عالمی مالیاتی ادارے(ورلڈ بینک) کی نگرانی میں دینے کے لئے مینجنگ ڈائریکٹ کی جگہ چیف ایگز یکٹو آفیسر اور ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر ٹیکنکل سروسز کی جگہ چیف آپریشن آفیسر کی تقرری کے لیئے اشتہار کے ذریعہ درخواستیں طلب کر لی ہیں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی بابراعظم کو مبارکباد، فائٹ بیک کرنے پر قومی ٹیم کی تعریف

اسے ادارے کو پرائیویٹائز کرنے کا پہلا قدم قرار دیا جارہا ہے، واٹر بورڈ میں ادارہ کا تمام تر اختیارات مینجنگ ڈائریکٹر کو حاصل ہے۔چیف آپریشن آفیسر پانی، سیوریج، فلٹر پلانٹ، ٹرٹمنٹ پلانٹ کے ساتھ تمام الیکٹریکل، میکنیکل کے تمام امور کے نگراں ہوں گے۔ مقامی اخبارات میں جاری ہونے والے اشتہار میں سول، الیکٹریکل،میکنکل انجینئرز،ماسٹر ڈگری بزنس مینجمنٹ، فنانس،کامرس مقامی یا انٹریشنل یونیورسٹیز،یا پروفیشنل اکاونٹنٹ کی ICAP/AP/CMAPD ڈگری یافتہ اہل ہوں گے۔20سالہ تجربہ رکھنے والے سرکاری، ریٹائرڈ،تجربہ کار افراد 29 مارچ تک اپنی درخواستین دے سکیں گے۔

ان کی حد 62سال تک، چارسال ملازم ہونے اور تین سال ملازمت میں توسیع ہونے کی توقع ہے۔نئے آفیسر کی تقرری کے بعد مینجنگ ڈائریکٹر اور ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر ٹیکنکل سروسز کا عہدہ ختم ہوجائے گا۔ان کے تمام تر اختیارات منتقل ہونے کے لئے قانون سازی کے بغیر ممکن نہیں،واٹر بورڈ کو ورلڈ بینک کے دباو پر پرائیویٹائز کرنے کی تیاری۔حکومت سندھ سونے کی کان سے محروم نہیں ہونا چاہتی۔اسی لیئے نت نئے حربے استعمال کیئے جارہے ہیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ مینجنگ کی تقرری کا سیکشن (1)5 کے تحت حکومت سندھ کے سپرد ہیں،لیکن آئیں پاکستان کی شق 140-A جس کی تشریح یکم فروری کو سپریم کورٹ نے کر دی ہے اب یہ تقرری منتخب میئر کو حاصل ہوں گی۔بورڈ کے ایکٹ 1996 میں ترامیم کے بغیر اس کی افادیت ختم نہیں ہوسکتی۔بورڈز پانچ سال کے لیئے پانی اور سیوریج کے بزنس پلان بنائیں گے اور دیگر بنیادی ذمہ داریوں میں مینجنگ ڈائریکٹر، انٹر آڈٹ،ریفامز ڈائریکٹر اور مختلف بورڈ کی کمیٹیوں کا قیام، سالانہ بجٹ پر نظرثانی اور منظوری،پانی اور سیوریج کے ٹیرف کی منظوری کا اختیارات سلب ہونے کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں: ڈیوڈ وارنر کی وائرل ویڈیو پر اہلیہ کا دلچسپ جواب

بورڈز کو 10 کروڑ روپے (100ملین)تک کے اخرجات کی منظوری دینے کا اختیار ہوگا۔اس سے قبل بورڈ کو لامحدود اختیارات حاصل تھے۔کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کی تمام فیصلہ سازی بورڈ کے ذریعے کی جائے گی۔چیئر مین آرٹیکل(1)6 C کا استعمال بند کردے گا۔ایسے تمام معاملات بورڈ کے سامنے بروقت پیش کیے جائیں گے۔بورڈ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ایکٹ 1996ء پر نظرثانی کرے گا اور تعاون کی واسبتگی کمٹمنٹ آف کارپوریشن کی دستاویزات میں اتفاق رائے کی بہتری کی تجویز کرئے گا۔

اسد اللہ خان 31ویں مینجنگ ڈائریکٹر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ بن گئے۔یہ غلام عارف، مصباح الدین فرید، قطب شیخ، ہاشم رضازیدی, خالد محمود شیخ دو مرتبہ مینجگ ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات ہوئے اور اسداللہ خان تیسری مرتبہ تعینات ہونے والے پہلے خوش نصیب بن گئے۔ رمضان اعوان، عمران آصف، سلمان چانڈیو، بریگیڈئر افخارحیدر،شاہد سلیم، بریگیڈئیر آصف غزالی، بریگیڈئیر ریٹائرڈسردار جاوید اشرف، بریگیڈئر بہرام خان، بریگیڈئر منصور احمد، بہادر حسن رضا صدیقی، عبدالباقی، اے کے قاضی، عبدالقیوم صدیقی اور ذاکر علی خان بھی مینجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات رہے تھے۔

علاوہ ازیں عہدے کے منتظر گریڈ 20 کے مخدوم شکیل الزمان (مرحوم مخدوم امین فہیم کے بھائی)کو کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے سب سے اہم منافع بخش عہدہ ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر فنانس تعینات کردیا گیا ہے۔چیف سیکریٹری سندھ ممتاز علی شاہ کی جانب سے خط نمبرNO.SO1(SGA&CD)-3/10/2008 بتاریخ 11مارچ 2022ء کو جاری کیا گیا تھا۔ پانچ روز بعد ان کا حکمنامہ اجراء ہونے سے ادارے میں ہلچل پید اہوگی ہے۔

مزید پڑھیں: محمد صلاح لیور پول کو چھوڑنے کی غلطی نہ کرے، جوزاینریک

ان کے قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ انہوں نے دوستوں اور دیگر افسران سے صلاح مشورہ کیا تھا کہ اس عہدے پر جوائننگ کروں یا کسی اور عہدے پر تقرری کی درخواست دوں۔تاہم بعض دوستوں سے مشورہ کے بعد جوائننگ کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر، ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر فنانس اور سیکریٹری بورڈ کے تین عہدے گورٹمنٹ کی جانب سے تعینات کی منظوری دی گئی تھی۔تین سال بعد پہلی بار ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر فنانس کے عہدے پر تعینات کا حکمنامہ جاری ہوا ہے ممینجنگ ڈائریکٹر اور سیکریٹرن بورڈ کے عہدے پر بھی تقرری تاحال نہ ہو سکی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *