عقیدتوں محبتوں بھرا سفر

10 مارچ بروز جمعرات دن 10 بجے فیصل آباد جی سی یونیورسٹی میں اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان کے زیر اہتمام نوجوان لکھاریوں اور مصنفین کے اعزاز میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں شرکت کے ارادے سے رات گئے سفر شروع کیا ایک تو وجہ یہ تھی کہ صبح نکل کر پہنچنا مشکل تھا دوسرا اس دورانیے میں کچھ وقت نکال کر مادر علمی جامعہ امدادیہ فیصل آباد اساتذہ کی خدمت میں حاضر ہونا تھا۔

صبح 6 بجے فیصل آباد پہنچنے پر جامعہ کا رخ کیا اور نماز فجر ادا کی، بعد از نماز حضرت الاستاذ شیخ الحدیث مشفق و مربی مفتی محمد طیب صاحب زید مجدہ کے حکم پر ایک طالب علم نے مہمان خانہ کھولا اور آرام کے لئے کمرہ فراہم کیا جبکہ حضرت الاستاذ زید مجدہ کا پیغام پہنچایا کہ ابھی آرام کا ارادہ ہے، بعد میں ان شاء اللہ ملاقات ہوگی۔

تقریب میں شرکت کے لئے بھائی شماس شاہد نے یونیورسٹی پہنچایا جہاں اسلامک رائٹرز موومنٹ کے روح رواں بھائی حفیظ چوہدری صاحب اور مولانا اسامہ قاسم صاحب استقبال کے لئے موجود تھے، گرم جوشی سے استقبال کیا اور نشست پر بٹھایا گیا۔

تقریب میں سردار مظہر جاوید، حافظ عمار خان یاسر، سر ندیم ظفر سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔ پروگرام کے آخر میں ادبی خدمات سرانجام دینے والے اور کتابیں لکھنے والے نوجوان مصنفین کو اعزازی اسناد اور شیلڈ پیش کی گئی جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی شامل تھیں۔ حال ہی میں شائع ہونے والی ہماری کتاب سیرت النبی اور معوذات کو پذیرائی دیتے ہوئے ہمیں بھی اس اعزاز سے نوازا گیا۔ اسلامک رائٹرز موومنٹ کا یہ قدم ایک انقلابی ہے جو اس انحطاط کے دور میں جہاں پڑھنے اور لکھنے کا ذوق ناپید ہوتا جا رہا ہے، وہاں نوجوان لکھاریوں کو ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا اور ان کی داد و تحسین کرنا قابل صد ستائش ہے۔ اللہ تعالٰی یہ خدمات قبول فرمائے اور مزید ترقی عطا فرمائے آمین۔

خواتین لکھاریوں میں سے ایک نمایاں نام بنت ایوب مریم صاحبہ تھیں، جنہوں نے کالم نگاری کے ساتھ ساتھ حال ہی میں رب ذو الجلال کی محبت پر کتاب لکھی جس کو جہاں دوست سے موسوم کیا۔ تقریب کے آخر میں انہوں نے اپنے والد گرامی کے ذریعے ہمیں بھی اپنی کتاب کا قیمتی تحفہ عنایت کیا۔ اللہ تعالٰی ان کے قلم میں مزید اضافہ فرمائے اور معاشرے کی اصلاح میں اپنا مؤثر کردار ا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

تقریب سے فراغت کے بعد بھائیوں جیسے عزیز دوست شماس شاہد پھر دوبارہ لینے کے لئے آ گئے تھے، انہی کے ہمراہ جامعہ میں واپسی ہوئی اور شیوخ حدیث سے ملاقات ہوئی۔ تمام اساتذہ کرام کی خدمت میں اپنی حالیہ کتاب سیرت النبی اور معوذات کا نسخہ پیش کیا اور کتاب کے ظاہر و باطن کے ساتھ موضوع کو بھی خوب سراہا اور اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کندھے پہ تھپکی دی اور ڈھیروں دعاؤں سے نوازا، اساتذہ کی خوشی کا یہ منظر دیکھ کر قلبی کیفیات کو قرطاس پہ منتقل کرنا شاید کسی کے بس میں نہیں اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔ حضرت الاستاذ مفتی محمد طیب صاحب زید مجدہ نے خوب داد دی اور سراہا اور مشورہ دیا کہ ان دعاؤں کو جو آخر میں جمع کی گئی ہیں، ترجمہ سمیت پاکٹ سائز کتابچہ میں الگ سے چھپوائیں اور آخر میں تفصیل کے لئے مراجعت کرنے کے لئے اسی کتاب کا حوالہ دے دیں تو اس طرح مزید نافع ہو جائے گی۔ رخصت چاہی تو حضرت نے اصرار کیا کہ آپ کو دروازے تک چھوڑ آؤں تو حد سے زیادہ شرمندگی ہوئی اور عرض کی کہ آپ تشریف رکھئے بس آپ کی دعاؤں کا طالب ہوں تو ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔ کل اس بات کا عینی مشاہدہ کیا کہ اپنے شاگردوں کا کام دیکھ کر اساتذہ کو کتنی خوشی ہوتی ہے کہ ان کا بس چلے تو خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔ بندہ اپنے اساتذہ کے ان احسانات اور شفقتوں کے تحت ہمیشہ دبا رہتا ہے اور ان کی محبتوں کا مقروض رہے گا۔ بندے کو بلا تکلف اس بات کا ہر لمحہ احساس رہتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے جو توفیق عنایت کی ہے وہ انہی اساتذہ کی شفقت اور دعاؤں کا نتیجہ ہے ورنہ:
من آنم کہ من دانم
اللہ ان اساتذہ کرام کا سایہ شفقت ہمارے سروں پر تادیر قائم و دائم رکھے اور ان کی دعائیں ہمارے حق میں قبول فرمائے آمین۔

آخر میں بھائی شماس شاہد جو ہمارے مشفق و مربی مولانا شاہد لطیف صاحب زید مجدہ کے صاحبزادے ہیں، شکریہ ادا نہ کرنا زیادتی ہوگی جو ہر جگہ جانے میں معاونت کرتے رہے اور پھر دوپہر کے وقت بریانی کے ساتھ خوب ضیافت کا اہتمام کیا۔ اللہ تعالٰی جزائے خیر عطا فرمائے اور علم و عمل میں ترقی سے نوازے آمین۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *