گذرتے وقت کیساتھ کتاب دوست لوگ بہت کم ہو گئے ہیں۔ مولانا غلام مرتضی

حسن ابدال: علاقہ بھر کے علماء کرام اور عوام الناس کو کتابوں کے حصول کے لیے شدیدمشکلات تھیں قرآن پاک، قاعدے، سپارے تو عام بک سنٹر سے مل جاتے تھے لیکن وہ کمپنیاں معیاری نہیں ہوتی تھیں البتہ درسی کتابوں کی دستیابی کے لیئے مشکلات تھیں چھوٹی سی کتاب علم نحو کے لئے بھی اکوڑہ خٹک (جو گھنٹہ کی مسافت پر ھے) یا راولپنڈی جانا پڑتا تھا۔ مقامی علمائے کرام خصوصا شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا عبدالسلام صاحب رحمہ اللہ کے حکم پر دینی کتب خانہ (مکتبہ فاروقیہ) کی ابتدا کی گئی جسکے بانی مولانا محمد صدیق صاحب ہیں اور اسکی ابتدا سن دو ہزار 2000ء میں ہوئی۔ یہ مکتبہ ابتداء میں مدرسہ میں ہی تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ساتھیوں کے اسرار اور ضروریات کے تحت بازار میں شروع کیا گیا لیکن راستے میں جی ٹی روڈ پر آنے جانے والے حضرات خصوصا ٹیکسلا واہ کینٹ ہری پور حویلیاں ایبٹ آباد مانسہرہ والوں کے لئے بازار کی وجہ سے کافی مشکلات تھیں گاڑی کھڑی کر کے پھر بازار میں جانا ۔۔۔ ان حضرات کی سہولیات کومدنظررکھتے ہوئے مین جی ٹی روڈ پر جگہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا انتخاب کیا گیا جس کی وجہ سے الحمدللہ اٹک کے ساتھی ہوں یا ٹیکسلا ترنول کے ہوں یا ہزارے کے ساتھی ہوں سب کے لئے سہولت ہے۔ کتابیں جن میں ہر قسم کی معیاری کمپنیوں کے قرآن پاک قاعدے سپارے اور اس کے علاوہ درسی کتابوں کے ساتھ ساتھ فقہ، تفاسیر، تاریخ، لغات ،علم طب اور اصلاحی کتابوں سے عوام و خواص فائدہ اٹھا رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ٹوپیاں پگڑیاں اعلی قسم کے عطریات مدارس کے طلباء کی ضروریات موزے رومال وغیرہ کی ورائٹی دستیاب ہوتی ہے ادارے کا مقصد محض اللہ کی رضا اور عوام الناس کا دینی فائدہ مدنظر ہے تاکہ دینی تعلیم عام ہو جائے ۔

مزید پڑھیں: مسلم سوسائٹی میں مسجد اور امام و خطیب کا کردار

علماء طلباء، عوام الناس کو انتہائی مناسب ریٹ پر دینی کتب دستیاب ہوتی ہیں۔ خصوصاً جو تفاسیر اور احادیث کے بڑے سیٹ ہوتے ہیں جو حضرات یکمشت ادائیگی نہیں کر سکتے ان کو ادھار قسطوں پر بھی دے دیتے ہیں لیکن ادھار ہو یا نقد لوجہ اللہ ریٹ وہی ہوتا ہے۔۔اس گئے گزرے دور جس میں عوام کیا خواص بھی موبائل کے ساتھ منسلک ہوگئے ہیں وہ ہاتھ جن میں کبھی کتابیں ہوتی تھی وہ آنکھیں جن کے سامنے کبھی دینی کتابیں ہوتی تھی آج ان ہاتھوں میں فون اور نظر سکرین پر پڑی ہوتی ہے ان حالات میں دینی کتب خانے اللہ کی بڑی نعمت ہیں۔۔دینی کتابوں کے عشاق الحمداللہ موجود ہیں اور جب ساتھی کتابیں لینے کے لئے آتے ہیں پھر پتہ چلتا ہے کہ دینی کتابوں کے قدر دان الحمداللہ ابھی بھی موجود ہیں خصوصا خطبائے کرام جب کسی کتاب سیرت کی ہو یا تاریخ کی ترغیب دیتے ہیں تو سامعیں میں نیا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے جو انکو مکتبہ تک لے آتا ہے۔۔۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالسلام صاحب رحمہ اللہ ہر جمعہ کو کتابوں یا رسائل کے حوالے سے اعلان ضرور فرمایا کرتے تھے باہر ساتھی رسائل لے کر کھڑے ہوتے تھے۔

مزید پڑھیں: فکری شبہات کی دلدل اور اربابِ علم و دانش کی ذمہ داری 

انہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مولانا غلام مرتضی صاحب کا کہنا تھا کہ کتاب بینی کا رجحان اب بہت کم ہو گیا ھے۔ لیکن اب بھی معاشرے میں ایسے افراد موجود ہیں جو صحیح معنوں میں کتاب دوست کہلانے کے لائق ہیں۔ 

ایک صاحب مکتبہ آئے کتابیں لینے کے لیے کہنے لگے میرے گھر میں بڑی لائبریری ہے لیکن کتاب کا چسکا ایسا پڑا ہوا ہے کہ خریدنے کے بغیر نہیں رہ سکتا اور میں نے اپنے بچوں کو بولا ہے کہ آپ لوگ صرف کتاب پڑھو مطالعہ کرو میں تمہیں انعام دوں گا۔ آجکل اہل علم اور کتاب دوست طبقہ نئی نسل کی کتاب سے بے رخی پر بہت پریشان ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے دینی ادارے اور دینی مکتبے ہر شہر میں کھولے جائیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور کتاب کی قدر کی کرتے ہوئے نسلِ نو کو مطالعے کی عادت ڈالی جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *