ایف پی سی سی آئی کے چیئر مین کا فر ی لانسرز کے لیے پیکج کا خیر مقدم

کراچی() ایف پی سی سی آئی کی مینجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین عرفان اقبال شیخ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر منحصر سروسسز (ITeS) کے سیکٹرز میں کمپنیوں اور فری لانسرز کے لیے اعلان کردہ مراعات پر اپنے اطمینان اور مسرت کا اظہار کیا ہے؛ جن کا اعلان وزیر اعظم عمران خان نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی تجاویز پر کیا ہے۔

انہوں نے اس سلسلے میں سال 2021 کے دوران ایف پی سی سی آئی کے حال ہی میں سبکدوش صدر میاں ناصر حیات مگوں کی طرف سے پاور کوریڈورز میں اپنی انتھک کوششوں اور مسلسل پالیسی ایڈوکیسی کا بھی اعتراف کیا۔ایف پی سی سی آئی کے چیئر مین نے وضاحت کی کہ مذکورہ پیکیج ٹیکس چھوٹ کے ذریعے انتہائی ضروری ریلیف فراہم کرے گا اور ساتھ ہی ساتھ فارن کرنسی کے لین دین میں آسانی؛ آئی ٹی کمپنیوں اور فری لانسرز کی غیر ملکی کرنسیوں میں کمائی کا تحفظ؛ آئی ٹی خدمات فراہم کرنے والوں کو ڈاکیومنٹ کرنے اور ان کو فروغ دینے اور مستقبل میں آئی ٹی کی برآمدات کو 50 بلین ڈالر تک لے جانے کے وزیر اعظم کے وژن کو پورا کرنے میں بھی مدد فراہم کرے گا۔

مزید پڑھیں: چیف اکرام الدین کا سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کے انتقال پر اظہار افسوس

عرفان اقبال شیخ نے مزید کہا کہ ایف پی سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے تاجر برادری نے ہمیشہ فری لانسرز اور آئی ٹی انڈسٹری کی کمپنیوں کے لیے مراعات کا مطالبہ کیا ہے؛کیونکہ وہ ایکسپورٹ کی شرح نمو کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں اور سروس انڈسٹریز کی تر قی کا بھی باعث بنیں گیں اور ساتھ ہی ساتھ لاکھوں ملازمتیں پیدا کی جا سکتی ہیں اور تجارتی توازن، کرنٹ اکاؤنٹ اور فارن ایکسچینج ریزرو پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کے چیئر مین نے پاکستان ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپ فنڈ کے قیام کو بھی سراہا ہے؛ جو کہ آئی ٹی کے اسٹارٹ اپس کے لیے وینچر کیپیٹل فنڈ کے طور پر کام کرے گا اورایک ارب روپے کی سیڈ منی سے سر مائے کی فراہمی کو ممکن بنائے گا۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں اسپیشل ٹیکنالوجی زونز (STZs) کے قیام کے لیے بھی اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا؛ کیونکہ بنیادی انفرااسٹر کچر نئے کاروباروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے ضروری حیثیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: اللہ سے روکر دعا کی تھی کہ جائے نماز تک جانے کی توفیق دے: نوشین شاہ

انجینئر ایم اے جبار نے کہا کہ مجوزہ پیکج سیلز ٹیکس کو کم کر کے 2 فیصد تک کر دے گا اور 2030 تک آئی ٹی برآمدات پر انکم ٹیکس کی چھوٹ مل جا ئے گی۔اس کے ساتھ ساتھ فری لانسرز کو آسانی کے ساتھ فارن کرنسی اکاؤنٹس (FCYs) کھولنے اور چلانے کے لیے بااختیار بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) کے پاس اب فری لانسرز اور کمپنیوں کا درست، قابل عمل اور مارکیٹنگ کاڈیٹا ہوگا اور اس سے معیشت کی تیز رفتار ماڈرنائزیشن اور ڈیجیٹلائزیشن کے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے؛ جس کے لیے اس ملک کے نوجوان کئی دہائیوں سے ترس رہے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *