خطرات کے سائے میں بیجنگ اولمپکس کا کامیاب اختتام

بیجنگ اولمپکس

اِس بار بیجنگ میں ہوئے سرمائی اولمپکس 2022ء کے بروقت اور کامیاب انعقاد کو دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے کیونکہ کورونا وبا کے دوران اتنے بڑے ایونٹ کا انعقاد کسی چیلنج سے کم نہ تھا۔

اتوار کو ایک شاندار اختتامی تقریب کے ساتھ یہ گیمز اپنے انجام کو پہنچے۔ اِن ونٹر اولمپکس کو اس لیے بھی یاد رکھا جائے گا کہ ان میں آئلن گؤ جیسے بہت سے نئے ستاروں نے بھی اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا۔

اختتامی تقریب میں سماجی فاصلے کے ساتھ اور سرخ لالٹینوں کے درمیان صدر شی جن پنگ نے بھی شرکت کی جبکہ عالمی اولمپک کمیٹی کے صدر تھوماس باخ نے بیجنگ ونٹر اولمپکس کو ایک ناقابل فراموش تجربہ قرار دیتے ہوئے انہیں سراہا۔

عالمی اولمپکس کمیٹی کے صدر اور بیجنگ کے میئر نے اولمپک پرچم مستقبل کے میزبان ملک اٹلی کے شہر میلان اور آئندہ سرمائی اولمپکس 2026ء کے مقام کورٹینا ڈے امپیسو کے میئرز کے حوالے کر دیا۔

بیجنگ ونٹر اولمپکس کی اختتامی تقریب کے موقع پر مدعو مہمانوں کا ہجوم بیجنگ کے برڈ نیسٹ اسٹیڈیم میں شریک کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے جوش و خروش اور خیر سگالی کا اظہار کر رہا تھا۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کے باوجود بیجنگ کے اس اسٹیڈیم کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی تھی جسے ایک دیو ہیکل بُلبلے میں تبدیل کر دیا گیا تھا تاکہ یہاں کورونا وائرس کے کم سے کم کیسز سامنے آئیں۔

یہی وجہ ہے کہ 23 جنوری سے 20 فروری تک اسٹیڈیم میں آنے والے شائقین کی تعداد ہزاروں میں ہونے کے باوجود کورونا وائرس کے کُل 463 کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

کئی مغربی حکومتوں نے کوئی سرکاری وفد نہ بھیج کر بیجنگ اولمپکس کا سفارتی بائیکاٹ کیا تاہم اُنہوں نے اپنے کھلاڑیوں کو مقابلوں میں حصہ لینے ضرور بھیجا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *