وفاقی وزیر مراد سعید کا مڈل کلاس ہونا نہیں بلکہ مڈل مین ہونا مسئلہ ہے، عبدالقادر پٹیل اور آغا رفیع اللہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل اور آغا رفیع اللہ نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر مراد سعید کا مڈل کلاس ہونا ان کا مسئلہ نہیں بلکہ مڈل مین ہونا مسئلہ ہے، ٹیکسوں میں اضافہ، مہنگائی اور کوئی اس کے خلاف بات کرے تو اسکے خلاف کیسز دائر کرنا اگر یہ حکومت ہے تو یہ کوئی بھی چلا سکتا ہے۔ محسن بیگ کی گرفتاری دراصل پیٹرول کی قیمتوں میں 12 روپے کے تاریخی اضافہ سے عوام کو میڈیا کے ذریعے بے خبر رکھنے کی کوشش کا حصہ تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ اب اسمبلی میں توہین مراد سعید یا تحفظ مراد سعید بل عمران خان کی ایماء پر لایا جاسکتا ہے۔ مراد سعید کی کارکردگی ایک سے دو لوگوں تک محدود ہے اس کو چیک کرنے کا حق پارلیمنٹ کے تمام ارکان کو ہونا چاہیے۔ مراد سعید کی ہمت، جرآت اور برداشت پر انہیں صرف سرٹیفکٹ نہیں بلکہ نشان پاکستان دینا چاہیے۔

مزید پڑھیں: ایف آئی اے کا حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی کا کاروبار کرنیوالوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ آج ہم وفاقی وزیرمراد سعید کی جانب سے دو روز قبل اپنی پریس کانفرنس میں ہمارے نام لے کر جو الزامات انہوں نے لگائے ہیں ہم ان الزامات کاجواب دینے آج یہاں آئے ہیں تاکہ میڈیا کے ذریعے اس ملک کے عوام کو حقائق سے آگاہ کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ مراد سعید کی پریس کانفرنس نہیں تھی بلکہ ان کی اپنی آپ بیتی تھی، جس میں انہوں نے تین حصوں میں یہ بیان کی۔پارٹ ون میری کردارکشی اورپارٹ ٹوکارکردگی اورپارٹ تھری پی ٹی آئی کی راگنی نہیں چھوڑوں گاتھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کردار کی بات کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی کردار کشی کے لئے اس کا کردار کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اسمبلی کے وجود میں آنے کے ڈیڑھ سال تک حکومتی ایوان بالخصوص اس وزیر موصوف و دیگر وزراء کی جانب سے ہماری پارٹی کی قیادت اور دیگر پارٹی کی قیادتوں پر الزامات اور القابات لگائے جاتے رہے لیکن ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ہمیں سخت ہدایات تھی کہ اس ایوان کا تقدس پامال نہ ہو اس کی ہمیں کوشش کرنا ہے کیونکہ اس ایوان کے تقدس کے لئے بی بی شہید نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی پریس کلب کا اطہر متین کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا مطالبہ

قادر پٹیل نے کہا کہ ڈیڑھ سالہ تاریخ اور اسمبلی کا ریکارڈ اس بات کا گواہ ہے کہ ہماری جانب سے کسی قسم کی کوئی الزام تراشی یا القابات نہیں دئیے گئے لیکن جب پانی سر سے اونچا ہونا شروع ہوا اور جب ہماری قیادت کو ایوان میں اور ایوان سے آتے جاتے الزامات لگانے کا سلسلہ حد سے بڑھ گیا تو ہم نے ان کی ہی زبان میں ان کو جواب دینا شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ سال تک ہمارے صبرکوکمزوری سمجھاگیا، یہ سمجھتے تھے کہ ہم بڑے مقرر ہیں، اسپیکربھی غیرجانبدارنہیں، انہیں گھنٹوں بولنے کی اجازت دی جاتی ہے اور ہم ابھی بات شروع نہیں کرتے تو ہمارے مائیک بند کردئیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر مواصلات کے کردار کی بات کی جائے تویہ بھی تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے صدر پرحملہ آورہونا اورجب تک وہ صدر صاحب کی گود میں نہیں گرے تب تک خاموش نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ محسن بیگ نے تو صرف کتاب کا حوالہ دیا تو انہیں تشدد کرکے گرفتار کرلیا جاتا ہے تو بھائی یہ کتاب تولندن میں چھپی ہے اس پرپابندی بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مراد سعید کا اصل مسئلہ مڈل کلاس ہونا نہیں بلکہ ان کا مڈل مین ہوناہے۔

انہوں نے کہا کہ پرفارمنس کی بات کی جائے تو سندھ کاجامشوروسیہون روڈ اورسکھرحیدرآباد موٹروے آپ سے بن نہیں سکے۔ پوسٹ آفس میں 114ارب کااسکینڈل آیاایمنسٹی نے حکومت کوخط لکھا۔ ٹول ٹیکس میں 300 روپے کا 1300 روپے کردیا کے ظلم کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس لگاکرکوئی بھی حکومت کرسکتاہے، اس کے لئے پھرکسی ویژن یاپارٹی کی ضرورت نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ پرفارمنس کوآپ نے ایک دولوگوں تک محدود کررکھاہے،آپ توسیع دیں۔

مزید پڑھیں: کے ای کی غیر قانونی خطرناک کنڈوں کے خلاف کاروی ، 1650کنڈوں کا خاتمہ

آپ نے پینل بناکرنمبرلیا،ہم ممبران یااسمبلی سے نہیں پوچھاگیا، قادر پٹیل نے کہا کہ ایف آئی اے سائیبرکرائم ایمبولینس سے بھی تیزتھا۔ ہم اسمبلی میں سوال چھوڑ رہے ہیں کہ اب تک سائیبرکرائم میں کتنے کیسزآئے،کیاکارروائی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے حلقوں کاکے پی سے گہراتعلق ہے۔ایک بھائی یہاں تودوسراکے پی کے میں رہتاہے۔ ہمیں سب خبرہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت پرسب سے زیادہ بات کی گئی۔ ان کے والد آسٹریلیامیں گرفتارہوئے، آج تک تردید نہیں آئی۔

قادر پٹیل اور آغا رفیع اللہ نے کہا کہ ہم سب کے اہلخانہ کااحترام کرتے ہیں،ہم سندھ والے ایسانہیں کرتا،ہماراکلچر بھی اس کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن ہماری بہن فریال ٹالپور کورات کے بارہ بجے جیل منتقل ہوئی ہمیں یاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت نے ایسی تربیت نہیں دی، جب یہ جملے کستے تھے توچیئرمین بلاول بھٹومنع کرتے تھے۔ ان دونوں رہنماؤں نے کہا کہ آج ہم برملا کہتے ہیں کہ آپ لوگ لائے گئے لوگ ہیں اور گھٹیا لوگ ہو۔آپ سے کچھ اچھائی کی امید نہیں۔

مزید پڑھیں: اطہر متین کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے 72 گھنٹے کا الٹی میٹم

انہوں نے کہا کہ مذاق بات میں بھی پوچھاگیاتھا کہ آپ فارغ وقت کہاں گذارتے ہو۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب شاید اب اسمبلی میں توہین مراد سعید یا تحفظ مراد سعید بل عمران خان کی ایماء پر لایا جاسکتا ہے۔نیوز ون چینل کی بندش کے سوال پر انہوں نے کہا کہ نیوزون کے پروگرام میں ایساذکرنہیں ہواتھا، انہوں نے کہا کہ جب آپ نمبردیں گے توبحث توہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز خان صاحب نے سیاسی قیادت کوڈیزل کہا تو اب پیمرا کہاں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں قادر پٹیل نے کہا کہ سندھ میں گیس آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہیں دی جارہی ہے۔ ہم نے نیٹی جیٹی پرآٹھ نوگھنٹے دھرنادیا۔ ہم نے اسمبلی میں گیس اورمہنگائی سمیت ہراشیوپربات کی ہے اور اب انشاء اللہ 27 فروری کا عوامی مارچ تاریخی ہوگا، بلاول بھٹوکی قیادت میں مظلوم عوام آواز اٹھائی جائے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے تو کہا تھا کہ مراد سعید کی ہمت، جرآت اور برداشت پر انہیں صرف سرٹیفکٹ نہیں بلکہ نشان پاکستان دینا چاہیے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *