آخری ماہواری سے منسوب خط

آج جب اپنی بیساکھی کا سہارا لیکر کمرے سے نکلی ہوں تو شہر کا موسم عین اسی طرح ہے جس طرح میری آخری ماہ واری کے روز تھا
کہیں کہیں بادل ہیں اور کہیں چھٹ چکے ہیں
جس جگہ بارش ہوئی ہے وہاں ٹریفک جام میں اٹھتے شور، دھویں اور ہارن کی آوازوں کی سماعت میرے کمرے تک پہنچ رہی ہے
صحن میں ہمیشہ ٹی وی آن رہتا ہے
ساری خبریں اچانک بدل جانے والے موسم کی ہیں

پتہ ہے اس روز جب مجھے خون آنا بند ہوگیا یہ وہ آخری امید تھی جو کسی جسم کو چھوئے بغیر مر گئی
شوگر سے کٹی ہوئی ایک ٹانگ کے بعد جانے کتنے عضو ناکارہ ہوتے جارہے ہیں
اب ایک کمرے میں زمین پر بچھائے بستر کے سوا میں ہی ہوں جو کبھی دیوار سے ٹیک لگائے کبھی بیساکھی پر کپڑا مارتی محسوس ہوتی ہے

میرے بوسے کسی نرم ہونٹ کو چھوئے بنا برسوں سے بیکار پڑے پرزوں کی طرح ضائع ہوگئے
بچے جننے کی طلب کے مرنے نے پیٹ میں موجود تھیلی نمک لگائی کھال کی طرح اکڑاکر رکھ دی ہے
البتہ اب بھی اس کی کوئی نا کوئی تصویر کمرے سے نکل آتی ہے جس نے کئی بار میری رانوں پر سر رکھ کر اپنے بالوں میں مجھ سے انگلیاں پھر وائیں تھیں

آج یہ سب لکھنا اس کی 17ویں برسی کے لئے ہے
ایک بوڑھی اور بیمار عورت کے ادھ مرے لمس ہر سال کی اس تاریخ میں جاگ جاتے ہیں
ہونٹ نیم وا لبوں کی مانند بے دھڑک کھل جاتے ہیں جیسے وہ ہوا کا جھونکا بن کر مجھے چومے گا
میں بستر پر آس کی پتیوں کی طرح گر جاتی ہوں جیسے وہ شبنم کی پھوار سا ہوکر میرے جھرریوں بھرے بدن پر اپنے گیلے بوسے چھوڑ دیگا
ایسے تو کمرے میں کیا گھر میں بھی کوئی نہیں آتا بس سالہا سال کے بعد کچھ اداروں کی جانب سے معذوروں کو دیا جانے والا معاوضہ آجاتا ہے یا پھر ساتھ کے گھروں سے روز یا دو روز بعد کچھ کھانے کو بھیج دیا جاتا ہے
یا پھر ہفتوں بعد میرے اکلوتے بھائی کی جانب سے ایک لفافے میں کچھ تڑی مڑی رقم کے نوٹ کوئی دروازے کے نیچے سے کھسکا جاتا ہے

تمہیں لکھنا چاہتی ہوں میرے مردہ محبوب کہ کمپریسر کے شور میں کہیں دبی ہوئی فریج میں آج بھی اس مونگ دال کے کچھ لقمے پڑے ہیں جو میں نے پچھلے مہینے پیٹ کی جہنم بھرنے کے لئے بنائی تھی

بالوں میں کنگا کئے مہینوں بھرے ہفتے ہونے کو ہیں
میری ساری لکھی نظمیں ایسی ہیں جیسے وہ فقط ماہواری میں کہی گئی ہوں اب مجھ سے لکھا نہیں جاتا
آخر کتنے اور سال تمہاری برسی کے روز مجھے نا بھیجے جانے والے خط لکھنے ہونگے ؟؟
کیا جب جنت میں ملیں گے تو تم مجھے سالہا سال سے بند پڑا بوسہ کھول دوگے؟
میرے مرجھائے ہوئے پستانوں پر ہاتھ رکھو گے ؟
میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکی !
میں زندہ نہیں رہ سکی!!
مجھے تم سے جلد ملنا ہے!!!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *