علامہ عبد الحمید رحمتی شہید ؒ کا قتل عظیم سانحہ ہے، قاتلوں کو گرفتار کیا جائے، اہلحدیث ایکشن کمیٹی

کراچی : اہلحدیث جماعتوں اور اداروں کے مشترکہ پلیٹ فارم ”اہلحدیث ایکشن کمیٹی“ کے تحت گذشتہ روز کراچی پریس کلب کے سامنے پشاور میں ممتاز عالم دین شیخ الحدیث علامہ عبد الحمید رحمتی شہید ؒ کے بہیمانہ قتل اور قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف پُر امن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور مقتول کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہلحدیث سندھ کے امیر مفتی محمد یوسف قصوری، جماعت غرباء اہلحدیث کے نائب امیر حافظ محمد سلفی، مولانا افضل سردار، مولانا ضیاء الرحمن مدنی، مولانا داؤد شاکر، مولانا ابراہیم طارق، محمد اشرف قریشی، مولانا یوسف کاظم، قاری خلیل الرحمن جاوید، شیخ ارشد علی، سید عامر نجیب، مولانا احسن سلفی، مولانا انس مدنی، مولانا کامران سلیم، مفتی رفیق سلفی،مولانا نصیب شاہ سلفی، حکیم ناصر منجا کوٹی، مولانا ابراہیم جونا گڑھی، ڈاکٹر مقبول احمد مکی، مولانا نعمان اصغر، ڈاکٹر فیض الابرار صدیقی، ایم مزمل صدیقی،چوہدری خالد محمود ادریس، مولانا رحمت اللہ کاکڑ اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ پشاور میں شیخ الحدیث علامہ عبد الحمید رحمتی شہید ؒ کا بہیمانہ قتل حکومت کی نامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ علامہ رحمتی شہید ؒ معتدل مزاج عالم دین اور داعی کتاب و سنت تھے انہوں نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بات کی اور اپنے ہزاروں طلباء کو بھی اسی بات کی نصیحت کی۔

رہنماؤں نے کہا کہ علامہ رحمتی قرآن و سنت کے داعی اور اخوت و محبت اور پیار کا درس دینے والی شخصیت تھے ان کی کسی سے دشمنی نہیں تھی، ان کی شہادت سے ملک بھر کے اہلحدیث عوام رنجیدہ ہیں۔ رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج پانچ روز گزرجانے کے باوجود قاتلوں کی گرفتاری کے لیے انتظامیہ نے تاحال کوئی پیش رفت نہیں کی اور صرف تسلیاں دی جا رہی ہیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ علامہ رحمتی ؒ کا قتل ایک سانحہ ہے لیکن انتظامیہ بلخصوص پشاور پولیس ابھی تک قاتلوں کو پکڑنے میں ناکام ہے۔ رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد مجرموں کو گرفت میں لاکر قرار واقعی سزا دے بصورت دیگر ہم اپنے احتجاج کا دائرہ بڑھا دیں گے۔

بعد ازاں کراچی پریس کلب کے سامنے شیخ الحدیث علامہ عبد الحمید رحمتی شہید ؒ کی مفتی محمد یوسف قصوری کی امامت میں نماز جنازہ ادا کی گئی اورمرحوم کے لیے دعائے مغفرت بھی کی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *