تاریخ سندھ اور انگریز تاریخ دان

تحریر: سیدسلیمان ندوی

انگریزوں نے اسلامی ہند کی جو تاریخیں لکھیں وہ بہت کم سیاسی اغراض سے خالی ہیں،ان کا مقصد ہندومسلمانوں میں منافرت پیدا کرنا،مسلمانوں کے دلوں سے ان کے نامور اسلاف اور شاندار ماضی کی وقعت گھٹانا اور اپنی حکومت کی عظمت و برتری کا نقش جمانا تھا،اس لئے ان کی لکھی ہوئی تاریخوں میں عموماً بڑی تحریف وتدلیس ہےاور ان مقاصد کے مطابق واقعات کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نمایاں کیا گیا ہے اور رائی کو پہاڑ بناکر دکھایا گیا ہے،ابتداء میں یہی کتابیں اسکولوں اور کالجوں میں داخل ہوئیں جن کے زہریلے اثرات سے آنے والی نسلیں متاثر ہوتی رہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود ہندوستانی مصنفین بھی اس غلطی میں مبتلا ہوگئے اور ان کی مرتب کردہ تاریخیں بھی عموماً اس اثر سے نہ بچ سکیں،صاحب نظر مسلمانوں نے بہت بعد میں اس کو محسوس کیا اور سب سے پہلے علامہ شبلی مرحوم نے اس کی اصلاح کی جانب توجہ کی اور سن 1910ء میں ” اصلاح اغلاط تاریخی”کے نام سے ایک سوسائٹی قائم کی جس نے کچھ کام بھی کیا لیکن آگے نہ بڑھ سکی۔

یہ ظاہرہےکہ کسی پوری کی پوری قوم کادامن خامیوں سے پاک نہیں ہوسکتا اورنہ کسی حکومت کے تمام حکمران عدل وانصاف کانمونہ ہوسکتےہیں ،ان سے غلطیاں بھی سرزدہوتی ہیں لیکن ان کو محض قومی ومذہبی تعصب کا نتیجہ قراردینا صحیح نہیں ہے،ایسےحکمرانوں کاخود اپنے ہم قوم محکوموں کے ساتھ کیا سلوک ہوتاہے،کیاان کے ہاتھوں ان پرزیادتیاں نہیں ہوتیں ،ان کے متعلق کیاکہاجائےگا اورکیا یہ دورجس کومذہبی تعصب سے خالی کہاجاتاہے ایسی مثالوں سے خالی ہے،درحقیقت حکمرانوں کی بہت سی بےعنوانیاں خود ان کی سرشت ،ذاتی مصالح اورحکومت کی سیاست کانتیجہ ہوتی ہیں جن کو مذہبی وقومی تعصب سے کوئی علاقہ نہیں ہوتا اوراس کا اثر بلاتفریق مذہب وملت سارے محکموں پریکساں پڑتاہے،پھرانصاف ودیانت کاتقاضایہ ہےکہ ان بے عنوانیوں اوربدنما واقعات کو ان کی حد کےاندرمحدود رکھاجائے،ان کو آب ورنگ دیکر قومی منافرت کاوسیلہ نہ بنایاجائےاور ان حکمرانوں کےعیوب اورخامیوں کے ساتھ ،مسلمان حکومتوں اورحکمرانوں کے محاسن،ان کےملکی خدمات اورکارناموں کابھی اعتراف کیاجائے،انہوں نے ہندوستان کوجو گوناگوں فوائد پہنچائے اوراس کوجو ابتدائی درجہ سے جس معراجِ کمال تک پہنچایا۔

اس سے کون انکارکرسکتاہے،پھراتحاد ویکجہتی پیداکرنےوالے واقعات کی بھی کمی نہیں،ان کو اجاگر کرنےکی ضرورت ہے اورقومی اتحاد کایہ زرین اصول بھی یادرکھنےکےلائق ہےکہ آگے بڑھنےمیں پچھلے واقعات پرنگاہ نہیں ڈالی جاتی۔اِس زمانے کی تاریخ محض واقعاتِ ماضی کی کھتیونی نہیں ہے بلکہ ا س کو قوموں کو بنانے اوربگاڑنےمیں بھی دخل ہے،اس لئے ہندوستان کے اس تعمیری دورمیں خصوصیت کے ساتھ تاریخ میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ان اہم مقاصد کے پیش نظر دارالمصنفین نے بارہا ہندوستان کی ایک مفصل تاریخ لکھنے کی تحریک کی ،جس میں تحقیق وصحت کے اہتمام کے ساتھ ان اعلیٰ مقاصد کابھی پورا لحاظ رکھا جائے اور خود اس کام کو شروع کیا،کئی سال کی محنت کے بعد اس کے بعض حصے تیار ہوگئےہیں،زیرِ نظر حصہ تاریخ سندھ سے متعلق ہے،سندھ کی تاریخ اس حیثیت سے بہت اہم ہےکہ ہندوستان کی سر زمین میں مسلمانوں کا پہلا قافلہ سندھ ہی میں اترا تھا اور یہیں ان کی پہلی حکومت قائم ہوئی تھی اوروہ ایک ہزارسال سے اوپر یہاں کے حکمران رہے،جس کے آثار آج بھی سندھ کے در و دیوار سے نمایاں ہیں،اس کے باوجود اردو میں سندھ کی کوئی مفصل محققانہ اور مستقل تاریخ موجود نہیں ہے۔

مولوی عبد الحلیم شرر کی کتاب محض فتوح سندھ کی تاریخ اوروہ بھی صرف فتوح البلدان بلاذری ،کامل ابن اثیر اور چچ نامہ کے بیانات کا خلاصہ ہے،مولوی ذکاء اللہ اور دوسرے مؤرخین ہند کی کتابوں میں سندھ کے حالات محض ضمنی ہیں ،اس لحاظ سے یہ کتاب اردو میں سندھ کی سب سے پہلی مفصل ،مستند اور مستقل تاریخ ہے،اس میں سندھ کا جغرافیہ ،مسلمانوں کے حملے سے پیشتر کے مختصر اور اسلامی فتوحات کے مفصل حالات ،خلافت راشدہ کے زمانہ سے لےکر آٹھویں صدی ہجری تک سندھ جن جن حکومتوں کے ماتحت رہا اور عباسیوں سے آزاد یہاں جو جو حکومتیں قائم ہوئیں ان کی پوری تاریخ اور ان تمام دوروں کے نظام حکومت کے علمی و تمدنی حالات اور رفاہ عام کے جو جو کام انجام پائے ان سب کی پوری تفصیل ہے،کتاب کے مباحث اور درجۂ اعتبار و استناد کا اندازہ اس کے مطالعہ سے ہوگا،اب سندھ کا جغرافیہ اور مقاموں کے پرانے نام اتنے بدل گئے ہیں کہ موجودہ جغرافیہ سے پرانی تاریخ کا پوری طرح سے سمجھنا مشکل ہے،اس لئے قدیم سندھ کے کئی نقشے مرتب کرکے کتاب میں شامل کردئیے گئے ہیں،امید ہےکہ ان سے پرانی تاریخ کے سمجھنے میں سہولت ہوگی۔

یہ کتاب ایسے وقت میں شائع ہورہی ہے جب سندھ کی تاریخ کا ایک نیاباب کھل رہاہے اور پاکستان کی ایک نئی حکومت کی بنیاد پڑرہی ہے ،یہ فالِ نیک تاریخ کا مبارک توارد ہے۔سیدسلیمان ندوی ناظم دارالمصنفین 5 اگست 1947/و17 رمضان المبارک 1366

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *