"صدارتی نظام” دراصل ہے کیا

اس نظام کے تحت ملک کا سربراہ صدرِ مملکت ہوتا ہے

اور تمام تر اختیارات کا مالک ہوتا ہے

جس کے بعد قومی اور صوبائی اسمبلیاں ختم ہو جاتی ہیں وفاق میں صدر اور صوبوں میں گورنر سربراہ ہوتا ہے ۔ اور تمام صوبوں کے گورنر براراست صدر کو جواب دہ ہوتے ہیں

قانون سازی صرف سینٹ کے زریعے ہوتی ہے ۔ صدر تمام تر کابینہ خود چنتا ہے اور غیر ضروری اور غیر مخلص لوگوں کی نظام میں گنجائش نہیں رہتی ۔ اس لئے سرکاری خرچوں پر عیاشی کرنے والے گھر بیٹھ کر تبصرے کرنے تک محدود ہوتے ہیں ۔ اگر سینٹ میں واضع اکثریت ہو تو سمجھو صدر کا ہر دستخط قانون کا درجہ رکھتا ہے۔ اس نظام کے ثمرات بہت ہیں

سب سے پہلا فائدہ 18 ویں ترمیم کے زریعے جو صوبائی تعصب کا بیج بویا گیا ہے اس پودے کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا ملک کا ہر گوشہ وفاق کے زیر نگرانی آجائے گا ۔ اور وسائل اور حقوق کے نام پر کرپشن کا راستہ بند ہوجائے گا ۔ صوبوں کا تمام ٹیکس کولیکشن وفاق کے پاس ہوگا درآمدات برآمدات بھی صوبوں کے ہاتھ س نکل کر وفاق کے پاس ہوگا ۔ تمام سرکاری محکمے جو اس وقت صوبائی تقسیم کی وجہ سے غیر فعال ہیں فعال ہوجائیں گے ۔ صوبوں میں انتظامی معاملات گورنر کے انڈر ہوں گے جبکہ ہر ضلع کا کمشنر اس ضلع کی تعمیر و ترقی اور ٹیکس کولیکشن کا زمہ دار ہوگا ۔ پولیس اور دیگر ادارے ڈسٹرکٹ کمشنر کے ماتحت ہوں گے اور ضلع کونسل کا صدر یا ناظم ڈسٹرکٹ کمشنر کی اجازت کے بغیر نہ تو فنڈ ایشو کر سکے گا نہ ہی پولیس اور اداروں پر دباؤ بنا سکے گا

وزیراعظم اور قومی اسمبلی دونوں فارغ ہوجائیں گے ۔اور شاید یونیورسٹی بنا دینے کا عمل شروع کرنے کا واحد زریعہ یہی ہے۔ ۔

اب اس نظام کی مخالفت کرنے والے کون ہیں

یہ جان لینا بھی ضروری ہے ۔ سب سے پہلے تو بدعنوان سیاست دان کیونکہ ان کے مفاد کے خلاف ہے اور ان کی چوری اور کرپشن لوٹ مار کا موقع ختم ہو جائے گا

دوسرے وہ سرمایہ دار جنہوں نے اربوں کھربوں جمہوریت کے زریعے بنائے ان کو اگلنا پڑے گا سب کچھ

تیسرے وہ کام چور سرکاری اہلکار جو صرف تنخواہیں اور مراعات وصول کرنے ہی دفتر کا رخ کرتے ہیں

اور چوتھے وہ صحافی جو لفافہ صحافت سے بینک بھر رہے ہیں اور دشمنوں کا ایجنڈا لے کر چل رہے ہیں ان سب کو صدارتی نظام میں اپنی موت نظر آ رہی ہے ۔ ہر دوسرے دن بلاول زرداری کیوں کہتا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کو نہ چھیڑا جائے ورنہ یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے ۔ درحقیقت ان کو خبر مل چکی ہے کہ پاکستان اب صدارتی نظام کی طرف جا رہا ہے اور شاید عمران خان پاکستان کا آخری وزیر اعظم اور صدارتی نظام کا پہلا صدر پاکستان ہو

پاکستان کا مستقبل ہی صدارتی نظام ہے اس کو ایک دن آنا ہی آنا ہے ۔ عمران نہ لا سکیں تو کوئی اور لے آئے گا لیکن یہ نظام آئے گا ضرور کیونکہ جمہوریت کا بوسیدہ اور سڑا ہوا غلیظ نظام اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے ۔ اس کا تعفن ملک کے طول و عرض میں سانس لینا مشکل کر رہا ہے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *