مولانا فضل الرحمن یا مولانا شیرانی۔۔۔۔ فیصلہ آپ کریں!

تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

دنیا میں آدمی کو روز طرح طرح کے اتفاقات سے واسطہ پڑتا ہے۔۔۔ کچھ خوشگوار اتفاقات ہوتے ہیں، کچھ تلخ اور کچھ عجیب و غریب۔۔۔ کہ آدمی حیرت کے سمندر میں غوطے کھاتا رہ جائے کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔ میرے ساتھ بھی گزشتہ دن کچھ ایسا اتفاق ہوا کہ اب تک میں اسے کوئی نام دینے سے قاصر ہوں۔۔۔ اور کبھی تو سوچتا ہوں کیا میں واقعی اس عجوبہ قسم کے اتفاق کا مستحق تھا؟

ہوا یہ کہ گزشتہ دن ملک کے اطراف شمال کے ایک گوشے سے ایک بزرگ دوست کا فون آیا۔۔۔ سلام علیک کے بعد چہکتے ہوئے فرمانے لگے کہ آپ کیلئے ایک بہت ہی اہم "موقع” لیکر حاضر ہوا ہوں۔۔۔۔ یہ سن کر دل و دماغ میں طرح طرح کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔۔۔ موقع؟؟؟۔۔۔۔ ذہن کی فضا میں دور دور تک صدائے بازگشت بے شمار سوالیہ نشانات کے بلبلوں پر سوار ہوکر تیرنے لگی۔۔۔ سراپا تحیر ہوکر اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے عرض کیا حضور کیسا موقع؟۔۔۔ موصوف کے انداز سے اندازہ لگا کر سوچا کہ ہو سکتا ہے کسی اچھے سفر مثلا عمرہ شریف اور زیارت حرمین شریفین کے کسی موقع کی بات کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ یا پھر دین کی خدمت سے متعلق میرے لائق کسی اہم موقع کا ان کو سراغ لگا ہے۔۔۔ سو تحیر و تجسس میں ڈوب کر کسی واقعی اہم موقع کی امید پر پوچھا کہ کیسا موقع؟؟؟ مگر موصوف مجھے مزید تجسس میں ڈالے رکھنا چاہتے تھے۔۔۔ چنانچہ مجھے سراپا اشتیاق سمجھتے ہوئے میرے شوق کو مزید بڑھانے کیلئے فرمانے لگے بھئی ایسا شاندار موقع ہے کہ آپ کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔۔۔ آپ سے بڑھ کر کوئی بھی اس اہم موقع کو ریزرو نہیں کرتا۔۔۔

مزید پڑھیں: یمن میں عرب اتحاد نے حوثیوں کا ہیلی کاپٹر تباہ کردیا

میں نے عرض کیا کہ جی فرما بھی دیجیے کہ وہ ایسا شاندار اور سنہری موقع ہے کیا جس سے میں مالامال ہو جاؤں گا اور خدا جانے کیا کچھ ہو جاؤں گا۔۔۔ فرمایا کہ وہ۔۔۔ وہ شیرانی صاحب ہیں نا۔۔۔ عرض کیا جی ہاں ہیں۔۔۔ کہنے لگے سن تو لو یار۔۔۔ میں نے عرض کیا کہ جی جی میں ہمہ تن گوش ہوں، سنا بھی ڈالئے۔۔۔ اب انہوں نے اپنے اس "شاندار موقع” کی تشریح سنانا شروع کردیں کہ شیرانی صاحب نے ماشاءاللہ بہت ہی زبردست اور اعلی کام شروع کیا ہے۔۔۔ وہ کراچی آ رہے ہیں۔۔۔ کراچی میں آپ سے اچھا انہیں کوئی نہیں مل سکتا۔۔۔ ماشاءاللہ آپ کو اللہ نے بڑی خوبیاں دی ہیں۔۔۔ اپنا مدرسہ بھی ہے۔۔۔ آپ ایک دوسرے کے دست و بازو بن کر زبردست کام کرو گے۔۔۔۔

یہ سن تو کچھ دیر کیلئے تو سن ہو کر رہ گیا۔۔۔ اندر کی حالت پر بڑی مشکل سے ضبط کا پتھر رکھا اور عرض کیا حضور بس بس۔۔۔ بہت ادب سے عرض کر رہا ہوں کہ آخر آپ نے کیا سوچ کر میرا اس کام کیلئے انتخاب کیا؟ یہ موقع میری ذات یا میرے دین کے کے فائدے کا ہے یا گھاٹے اور خسارے کا؟؟ غصہ تو بہت آیا تھا مگر ضبط بہرحال لازم تھا۔۔۔ سو حد ادب میں رہتے ہوئے عرض کیا کہ حضور مجھے ایسی کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینے کا کوئی شوق نہیں جس سے امت اور جماعت کے افتراق کو بڑھاوا ملتا ہو۔۔۔ خواہ وہ سرگرمی کیسے ہی خوشنما اور دلکش عنوان سے کیوں نہ ہو۔۔۔ میں نے کہا بصد معذرت آپ نے غلط نمبر پر رابطہ کیا ہے۔۔۔ اس نمبر پر وہ خدمات بالکل دستیاب نہیں، جن کی آپ نے توقع لگا رکھی ہے۔۔۔

مزید پڑھیں: ناظم جوکھیو قتل کیس، ملزمان کے فرار ہونے میں پولیس ملوث ہونے کا شبہ

اب تک سوچ رہا ہوں اس عجوبہ اتفاق کو کیا کہوں۔۔۔ اب تک ذہن و مزاج اس "عظیم پیشکش” سے شدید پراگندہ ہیں۔۔۔ بزرگ موصوف سے عرض کی کہ حضرت آپ اور میں عمر اور زندگی کے جس موڑ پر ہیں، اس میں تو کم از کم ہمیں ایسی سرگرمیوں سے دور رہنا چاہئے جو معاشرے اور بالخصوص علمائے حق کے اجماع اور اتحاد و اتفاق کو نقصان پہنچائیں۔۔۔ اور انتشار و خلفشار کو ہوا دیں۔۔۔

میں نے عرض کیا کہ محترم۔۔۔ حضرت مولانا محمد شیرانی صاحب دامت برکاتہم ہمارے معزز بزرگ ہیں۔۔۔ وہ آج مقام پر ہیں۔۔۔ انہیں جو پہچان خدا نے دی ہے۔۔۔ وہ آج تک جن جن اہم جماعتی، قومی اور سیاسی مناصب پر فائز رہے۔۔۔ یہ سب علمائے حق کی جماعت جمعیت علمائے اسلام کی بدولت ہی تو انہیں حاصل ہوا۔۔۔ بہت ادب سے عرض ہے کہ حضرت مولانا شیرانی صاحب دامت برکاتہم کو آج اگر چاہنے والوں کی جس قدر تعداد میسر ہے، وہ جمعیت علمائے اسلام کی بدولت ہی ہے اور جب تک وہ جماعت کے دائرے میں مرکزی دھارے کے ساتھ رہے، ان کے چاہنے والوں کی تعداد آج سے کئی گنا زیادہ ہی رہی۔۔۔ آج وہ مقبولیت کی اونچائی سے گنے چنے افراد کے ایک چھوٹے سے حلقے تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں تو آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

میں نے عرض کیا حضرت مولانا شیرانی صاحب دامت برکاتہم اور ان کے چند ساتھیوں نے گزشتہ ڈیڑھ دو سال الگ رہ کر بہتیری کوششوں کے باوجود کیا حاصل کیا؟ کیا وہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب حفظہ اللہ کو جھکا سکے، انہیں ذرا بھی نقصان پہنچا سکے؟ ہرگز نہیں، اس کے برعکس ہی ہوا ہے۔۔۔ آج مولانا فضل الرحمٰن صاحب حفظہ اللہ کی مقبولیت اور محبوبیت پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے۔۔۔ جس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے فکر و عمل، ان کے بیانئے، ان کے نظریے، ان کے طرز و انداز اور ان کی پالیسیوں پر خیر غالب ہے۔۔۔ ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے محبوب رکھتے ہیں اپنے بندوں میں اس کی مقبولیت کی ہوا چلا دیتے ہیں۔۔۔ اب خود دیکھیے کہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم مقبولیت کے کس مقام پر ہیں۔۔۔

مزید پڑھیں: کراچی میں غیرت کے نام پر خاتون سمیت 2 افراد قتل

مفکر اسلام، قائد جمعیت حضرت مولانا مفتی محمود رحمت اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ نے جس جس مقام، شان، عظمت، اعتبار اور اعتماد سے نوازا اس کے آئینے میں ہم دیکھتے ہیں تو آج ان کا عظیم فرزند بھی ان تمام مقامات سے گزرتے نظر آ رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مفکر اسلام علیہ الرحمہ کو عطا فرمائے تھے۔۔۔ حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ اپنے دور میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کے بڑے اتحاد پی این اے (قومی اتحاد) کے سربراہ کے منصب پر فائز تھے، آج ان کے لائق و فائق بیٹے حضرت قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر نشین ہیں اور اپنی سیاسی وجاہت، قد کاٹھ اور حکمت و بصیرت سے علمائے حق کا وقار بڑھانے میں مصروف ہیں۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت قائد جمعیت سے جو عظیم الشان کام لئے وہ تاریخ دعوت و عزیمت کا شاندار باب ہیں۔۔۔ آج ہر طرف مولانا فضل الرحمٰن کی مقبولیت اور بصیرت کا سکہ رواں ہے۔۔۔ عوام بھی انہیں اپنے درد کا مداوا سمجھتے ہیں اور ہر طرف سے مایوس ہو کر ان پر اعتماد کر رہے ہیں جس کی جھلک ہم نے خیبر پختونخوا کے حالیہ ضمنی انتخابات میں دیکھ لی ہے۔۔۔ اس کے علاوہ آج ان کے سخت دشمن بھی ان کی دانائی اور سیاسی فہم و فراست کے قائل ہوگئے ہیں۔۔۔ اور انہیں ملک و قوم کا معتبر رہنما سمجھنے پر مجبور ہیں۔۔۔

پھر یہ بھی دیکھیے کہ حدیث شریف میں ہے کہ لن تجتمع امتی علی الضلالہ۔۔۔ یعنی میری امت ضلالت اور گمرہی پر کبھی جمع نہیں ہوگی۔۔۔ آج علمائے حق کا سواد اعظم حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے بیانیہ، نظریہ اور فکر و نظر کے ساتھ ہے اور جی جان سے ان کی پشت پر ہے تو یہ واضح دلیل ہے کہ وہ حق پر ہیں اور وہ اکیلے بھی نہیں کہ خدا نخواستہ گمراہ ہوجائیں۔۔۔ یا شیطان کے بہکاوے میں آ جائیں۔۔۔ الحمد للہ جمعیت علمائے اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عاملہ میں سینکڑوں اہل علم، اہل تقوی اور اہل اللہ کی مشاورت اور رہنمائی حضرت کو حاصل رہتی ہے۔۔۔

میری ان گذارشات سے فون کرنے والے بزرگ موصوف کو کچھ افاقہ ہوا یا نہیں، مگر یہ ضرور ہوا کہ وہ سمجھ گئے میں نے "شاندار موقع” کیلئے غلط نمبر پہ رابطہ کیا ہے۔۔۔

اس کے ساتھ ہی میں حضرت مولانا شیرانی صاحب مدظلہ اور ان کے تمام ساتھیوں اور چاہنے والوں سے گزارش کروں گا کہ یہ وقت افتراق اور انتشار کا ہرگز نہیں ہے۔۔۔ یہ ایک دوسرے کے دست و بازو بننے کا وقت ہے۔۔۔ امت کو، جماعت کو متحد رکھنے کا وقت ہے۔۔۔ آپ حضرات کی عزت و عظمت اسی میں ہے کہ اپنے گھر میں واپس تشریف لائیں۔۔۔ گلے شکوے گھر میں اور بھائیوں میں ہی ہوتے ہیں، مگر اس کی بنیاد پر تعلق توڑ کر دشمنی اختیار نہیں کی جاتی۔۔۔ ساتھ ہی میری جمعیت علمائے اسلام کے حضرات سے بھی گزارش کروں گا کہ وہ شیرانی صاحب اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں سخت رویہ اختیار مت کریں۔۔۔ ہر ممکن کوشش کرکے انہیں سینے سے لگائیں۔۔۔ ایک دوسرے کا احترام کریں اور پہلے کی طرح ایک ہو کر قوم اور ملت کی درست سمت میں رہنمائی کریں۔۔۔ اللہ تعالیٰ سب کو اخلاص کے ساتھ ملک و ملت کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *