سیاحت یا سوشل میڈیا کی لعنت

تحریر: علی ہلال

بات تلخ ہے مگر سچ ہے کہ دعاء یہی کرنی چاہیے کہ کسی کا علاقہ سیاحتی مقام نہ بنے۔ سوشل میڈیا کی ایک لعنت یہ بھی ہے کہ اس نے عام آدمی کے اندر مہنگے کھانوں اور سیر سپاٹے کی ہوس بھر دی ہے۔ ہر شخص اپنی اوقات سے بڑھ کر مہنگے ہوٹلوں اور سیاحتی مقامات کارخ کرتا ہے۔

کسی علاقے کی فطری خوبصورتی کو دیکھنا ایک فطرت ہے ۔کوئی بری بات بھی نہیں ہے ۔خلاف شریعت بھی نہیں ہے مگر سیاحت کے نام پر ہمارے ندیدوں اور شوھدے بازوں نے جو بازاری روش اختیار کر رکھی ہے یہ بھی کلاس کی ہے۔

مزید پڑھیں: ڈی جی رینجرز (سندھ) میجر جنرل افتخار حسن چوہدری کاڈی ایچ اے صفا یونیورسٹی کادورہ

جن افراد کا سیاحتی علاقوں سے متعلق مطالعہ ہے وہ جانتے ہیں کہ ان مقامات پر اخلاقیات کے جنازے کیسے نکلتے ہیں۔ سیاحت کے شوقین ہمارے بیشتر افراد سیاحت پر نکلتے ہی ہر چیز کو مباح سمجھنے لگتے ہیں۔ علاقے کے لوگوں کی پرائیویسی میں مداخلت ایک عام سی بات بن جاتی ہے۔ جبکہ اہل علاقہ بھی آ نے والوں کامزاج اور پسند وناپسند سمجھ کر گھاک ہوجاتے ہیں۔ سو ایسے میں دو طرفہ کشمکش شروع ہوجاتی ہے۔ عمومی طور پر پہاڑی اور دیہی لوگ مہمان نواز ہوتے ہیں۔ مگر کوئی بھی علاقہ جب بازار بن جاتاہے تو اخلاقیات چادر جھاڑ کر آہستہ آہستہ رخصت ہوجاتی ہیں ۔

مروت کم ہوجاتی ہے ۔ آنکھوں سے حیا چلی جاتی ہے۔دل بے رحم ہوجاتاہے۔ بے وفائی،خود غرضی اور زیادہ مال بنانے کا لالچ انسانی مزاج پر غالب آجاتا ہے۔ پاکستان کی بدقسمتی یہی ہے کہ سیاحتی مقامات تو درکنار ،یہاں تو شہری آبادی میں بھی پرائس کنٹرول اتھارٹی وجود نہیں رکھتی جس کی غفلت کا فایدہ اٹھا کر بازاروں میں انسانی استحصال ،موقع سے فایدہ اٹھانے اور دیگر اخلاقی جرائم جنم لینے لگتے ہیں۔

مزید پڑھیں: فیوچر سمٹ 2022کا کراچی کے مقامی ہوٹل میں انعقاد

اگرچہ کسٹمرز اور کلائنٹس ایک نعمت خداوندی ہے ان کے ساتھ بداخلاقی کرنا کفران نعمت ہے ۔جب کسی کو گھر بیٹھے ہی کمائی کے ذرائع مل جاتے ہیں انہیں لات نہیں مارنی چاہیے مگر اس کے باوجود مطالعہ سے یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ سیاحتی علاقوں کے باشندوں کے مزاج میں اخلاقیات کا تناسب کم ہوتا ہے جس کی وجہ باہر سے آنے والوں کا مزاج بھی ہوتی ہے۔ ہر وہ جگہ جہاں طلب بڑھ جاتی ہے انسانی مزاج میں زیادہ کمانے کا حرص بڑھ جاتا ہے۔

پھر بھی جانے کا اگر فیصلہ ہو جائے تو انسان کو سوشل میڈیا سے متاثر ہو کر یوں منہ اٹھاکر جانے کے بجائے ضروری چیزیں بھی لیجانا چاہیے۔ اپنے ساتھ مناسب کھانا پینا اور دیگر ضروری چیزیں لیجانا ایک لازمی امر ہے ۔بالخصوص جب کئی افراد یافیملی ہو ایسے میں ہوٹلوں پر انحصار کسی بھی طور درست نہیں ہے وگرنہ مری جیسے سانحات جنم لیتے دیر نہیں گزرتی ۔ اس ملک میں اگر نیک انسانوں کی بہتات ہے تو آپریشنز اور قدرتی آفات کے دوران نقل مکانی کرنے والوں کی مجبوریوں کیساتھ کھیلنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ لہذا احتیاط ہی بہتر ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *