فیوچر سمٹ 2022کا کراچی کے مقامی ہوٹل میں انعقاد

کراچی۔سابقہ گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر نے کہا ہے کہ عالمی ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کے لئے ایک متاثرہ ملک ہے پاکستان 2019 میں 200 ملین ٹین گرین ہاوس گیس اخراج کیا جوکہ 2030 تک 540 ملین ٹن سالانہ ہو جائے گا ۔

گزشتہ 20 سال می۔ ماحولیاتی تبدیلیوں نے آدھا فیصد جی ڈی پی کا نقصان کیا جوکہ 3.8 ارب ڈالر ہے ۔ بطور ایک ووٹر کے میں ماحولیات کے لئے ووٹ دونگی۔

انہوں نے کہا کہ حال کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مستقبل کو داو پر نہ لگایا جائے ، پالیسی قانون سازی میں بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوگی ماحولیاتی پروگرام کے لئے فنڈز جاری کیئے جائیں گرین اور ماحول دوست منصوبوں کے لئے فنانسنگ کی جائے ۔پاکستان میں انفراسٹرکچر پر جی ڈی پی کا 4 فیصد استعمال ہورہا ہے،پاکستان جیسے ملک کوانفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کا 30 فیصد تک بڑھانا ہوگا ۔

مزید پڑھیں: ڈی جی رینجرز (سندھ) میجر جنرل افتخار حسن چوہدری کاڈی ایچ اے صفا یونیورسٹی کادورہ

انہوں نے مزید کہا کہ جلد از جلد اپنی معیشت کو کاربن سے پاک کرنا ہوگا کاربن کے بجائے متبادل ایندھن پر جانا چاہیئے پاکستان کی بڑی برآمدات کمپنیاں اپنے خریداروں کے دباؤ پر گرین انرجی اور ماحول دوست طریقہ کار پر منتقل ہورہی ہیں ماحول دوست انفراسٹرکچر کے لئے حکومت کو سستے قرضے اور فنڈز فراہم کرنا ہونگے ۔

شمشاد اختر نے کہا گرین فنانشل سسٹم دنیا میں فروغ پارہا ہے اور مرکزی بینکوں نے بھی اپنانا شروع کردیا ہے کئی سالوں سےاسلام آباد سے مطالبہ کررہے تھے کہ ماحولیات پر سستے قرضے فراہم کریں حکومت کو انشورنس کے شعبے کو زاد کرنا ہوگا ۔جبکہ پاکستان میں بڑی آبادی کو بیمہ کی سہولت دستیاب نہیں انشورنس پریمیم جی ڈی پی کا ایک فیصد سے کم ہے حکومت کو اپنی انشورنس کمپنیوں کو پی ایس ایکس میں اندراج کرنا ہوگا ۔

سال 2021 میں پی ایس ایکس کی کمپنیوں نے ریکارڈ منافع کمایا ہے میں بورڈ اور جیم بورڈ پر کمپنیوں کو مکمل شفافیت کرنا ہوتی ہے ۔ اسٹاک ایکس چینج میں اصلاحات کرنے ہوئے سرمایہ کاروں کو آسان موبائل اکاونٹ فراہم کرے گی ، کمپنیوں کی کارپوریٹ گورنسس کو اداروں کے ساتھ مل کر مذہد شفاف بنا رہے ہیں۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *