متروکہ وقف املاک کیجانب سے کرایوں میں 100% فیصد اضافہ، کرائے داران کا احتجاج

کراچی( )متروکہ وقف املاک کی جانب سے اپنی زیرِانتظام جائدادوں کے کرایوں میں 100% فیصد اضافے کے نوٹسز کے اجراء کے بعد کرائے داران نے احتجاج کا اعلان کردیا۔

نوٹس واپس لینے کے اعلان تک جائدادوں کے کرایوں اور ہر قسم کے واجبات کی ادائیگی بند، انسپیکٹرز کو مارکیٹوں میں داخل نہیں ہونے دینگے، احتجاج کے دائرہ کار کو ملک گیر سطح تک وسیع کیا جائیگا، کرائے داران اور تاجران کی احتجاجی ریلی تاجر رہنما عتیق میر کی قیادت میں 17جنوری 2022دوپہر 12بجے آرام باغ فرنیچر مارکیٹ سے روانہ ہوگی۔

متروکہ وقف املاک کے دفتر واقع پرانی نمائش پر دھرنا دیا جائیگا، یہ اعلان گذشتہ روز آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین اور انجمنِ کرائے داران متروکہ وقف املاک کے صدر عتیق میر کی زیرِ صدارت کرائے داران اور تاجروں کے ایک ہنگامی اجلاس میں کیا گیا جس میں تاجر نمائیندگان خواجہ خاور امین، حنیف گھانچی، انجم موسانی، فرحان سعید، سید شرافت علی، سعید آگریا، ریاست لودھی، محمد علی، سید غالب حسن، طیب علی، امین ٹی، سلمان عبدالخالق، ندیم احمد،افضل ملک، زید عیسیٰ اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید پڑھیں: جماعت اسلامی: دھرنے کا بارہواں روز، شہر کے اہم مقامات پر دھرنے، مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں

اس موقع پر عتیق میر نے کہا کہ محکمہ گزشتہ 15سال سے جائدادوں کے کرایوں میں 8 فیصد سالانہ کے حساب سے اضافہ کررہا ہے جبکہ فروری 2006کے ترمیمی آرڈیننس کے مطابق محکمے کے افسران ہر چھ سال بعد اپنی مرضی کے مطابق جائدادوں کے کرایوں میں مزید اضافہ کرسکیں گے،۔

انھوں نے کہا کہ ذیادتی اور ناانصافی پر مبنی اس ترمیمی آرڈیننس کے خلاف 2005میں ملک بھر کے کرائے داران متروکہ وقف املاک کے شدید احتجاج کے بعد اس پر عملدرآمد روک دیا گیا تھا جبکہ پندرہ سال کے وقفے کے بعد محکمے نے حال ہی میں کرائے داران کو دس دس گنا اضافی کرایوں کے نوٹس جاری کیئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ افسران جن جائدادوں کے کرایوں میں اضافہ کرینگے ان کی وصولی 2006سے کی جائیگی جس کے نتیجے میں ہر کرائے دار لاکھوں روپے بقایاجات کے بوجھ تلے دب جائیگا جبکہ اس طریقہ کار سے ماضی کی طرح رشوت کا سلسلہ شروع ہوجائیگا، انھوں نے کہا موجودہ بدترین مہنگائی اور مخدوش کاروباری حالات میں ظلم اور ناانصافی پر مبنی یہ غیرمنصفانہ نظام ناقابلِ قبول اور ناقابلِ برداشتے۔

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم نے لوکل گورنمنٹ بل کے حوالے سے FPCCI کی حمایت مانگ لی

انھوں نے کہا کہ اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا، محکمے کی نئی کرایہ داری پالیسی کی اس شق کی قبولیت خود اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہے، انھوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیرِ اعظم پاکستان کی توجہ متروکہ وقف املاک کے زیرِانتظام ملک بھر میں 50ہزار سے زائد جائدادوں کی حالتِ زار اور کرائے داران کی مشکلات کی جانب مبذول کرواتے ہوئے اپیل کی ہے کہ کرائے داران کو وقف کے من مانے اور ظالمانہ قوانین اور راشی عملے و افسران سے نجات دلائی جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *