ایم کیو ایم نے لوکل گورنمنٹ بل کے حوالے سے FPCCI کی حمایت مانگ لی

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیق، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام امین الحق اور ایم پی اے جاوید حنیف خان نے ایف پی سی سی آئی کے عہدیداران کو کراچی کے سیاسی اور اقتصادی اسٹیک ہولڈرز کے مشترکہ اجلاس جو کہ کراچی کے مقامی ہوٹل میں بدھ، 12 جنوری 2022 کو ہو گا میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے ایف پی سی سی آئی کا دورہ کیا۔ حکومت سندھ کے کالے لوکل گو رنمنٹ قانون پر ایم کیو ایم کے کنوینر نے میئر اور لوکل گورنمنٹ سے صوبائی حکومت کو انتظامی اختیارات کی بتدریج منتقلی کے لیے لوکل گورنمنٹ قانون میں کی گئی تبدیلیوں کا پس منظر بتایا۔

انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کو پاکستان کے تجارت و صنعت اور سروس سیکٹر کی نمائندگی کرنے والا اعلیٰ ادارہ ہونے کے ناطے معیشت کے مختلف ذیلی شعبوں کو بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے ضروری ترامیم اور بورڈ آف گورنرز میں اپنی موجودگی فراہم کرنے میں موثر کردار ادا کرنا چاہیے اور مشاورتی کونسلوں میں سیاستدانوں کی رہنمائی کرنے کے لیے کہ کس طرح کاروبار کرنے میں آسانی کے لحاظ سے تاجروں کو بہترین خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں اور کاروباری افراد کو مطلوبہ کاروبار تک رسائی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔وفاقی وزیر امین الحق نے بتایا کہ آپ کے ووٹوں سے کراچی سے منتخب رکن اسمبلی ہونے کے ناطے میں منی بجٹ اقدامات سے متعلق مسائل اٹھا رہا ہوں جس سے تاجر برادری بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اتحادی ہیں لیکن پھر بھی ہم یہ نہیں بھول سکتے کہ ہم آپ کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں اور ہم ایوان زیریں اور ایوان بالا میں آپ کے نمائندے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایم کیو ایم نے مخصوص آئی ٹی ایکوپمنٹ میں سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کے حوالے سے مختلف امور پر اپنے تحفظات پیش کیے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم وفاقی حکومت کے زیر انتظام تجارت کو متاثر کرنے والے مسائل کے سلسلے میں پائیدار بنیادوں پر آپ کے ساتھ بات چیت کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ لہذا ہم آپ کو ضروری معاشی اسٹیک ہولڈرز کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے حکومت سندھ کے کالے لو کل گورنمنٹ قا نون پر بحث میں آپ کی شرکت کے خواہاں ہیں۔

جاوید حنیف، ایم پی اے نے کراچی کی اہمیت کے بارے میں بات کی تاکہ ترقی کے لیے 1500 ارب کے تر قیا تی وسائل کے میرٹ کا حقدار کو صر ف 26 ارب روپے تک محدود کر دیا گیا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی میاں ناصر حیات مگوں نے دعوت کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایم کیو ایم کی قیادت کی جانب سے ہمیں ضروری اقتصادی اسٹیک ہولڈرز کے طور پر تسلیم کرنے کو مثبت انداز میں لیتے ہیں۔انجینئر ایم اے جبار سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے اس موقع پر کہا کہ بہترین حکومت عوام کے دروازے پر ہوتی ہے اور جمہوری معاشروں میں عالمی سطح پر کام اور طاقت مقامی گورننس کو سونپی جاتی ہے اور جس کا آغاز تقریباً دو دہائیاں قبل ہوا تھا اور مقامی طرز حکمرانی کا اصول میئرز کے ذریعے انتظام کا ہے۔

حنیف لاکھانی، نائب صدر ایف پی سی سی آئی، خرم سعید،سابق نائب صدر، شوکت اومرسن، منتخب نائب صدر،حاجی یعقوب، منتخب نائب صدر، جمال الدین اچکزئی منتخب نائب صدر اور سلطان رحمان، کوآرڈینیٹر ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس کراچی نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ایم کیو ایم حکومت سندھ کے مجوزہ کالے لو کل گورنمنٹ قانون اور مطلوبہ قانون کے درمیان موازنہ کو اجاگر کرنے والا ریسرچ پیپر فراہم کرے گی جس کے تحت قانون کے ذریعے تاجروں کو تجارتی سہولت فراہم کی جا سکے اورجس میں تاجر اور منتخب افراد بشمول شہروں کے میئر مل کر اس مقصد کے لیے کام کریں گے؛ جس کی وجہ سے مقامی حکومت سے رابطہ کرنا آسان ہو جائے گا اور لو کل گورنمنٹ کے اختیارات شہروں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوں گے تاکہ کاروبار کو چلانے کے لیے حوصلہ افزا ماحول فراہم کیا جا سکے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *