انڈسٹری 4.0 منزل نہیں پڑاؤ ہے

تحریر: ریسرچر محد اشفاق

انڈسٹری 4.0 کا تصور چند برس قبل جرمنی سے نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری صنعتی دنیا پہ چھا گیا۔ یہ منزل نہیں پڑاؤ ہےجس کی جان یا روح آٹومیشن ہے۔ خام مال کی پروکیورمنٹ سے لے کر اینڈ یوزر تک اپنی پیداوار پہنچانے تک کے تمام مراحل کو چھوٹے چھوٹے انڈیپنڈنٹ پراسیسز میں کنورٹ کرنا اور ان تمام پراسیسز کو ممکنہ حد تک آٹومیٹ کر دینا۔

انڈسٹری 4.0 کی سب سے ایکسائٹنگ بات یہ ہے کہ اس میں آپ کو تمام کی تمام ایمرجنگ ٹیکنالوجیز جن کا آپ ادھر ادھر تذکرہ سنتے پڑھتے رہتے، ایک ساتھ بروئے کار دکھائی دیتی ہیں۔ آٹومیشن کیلئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس، مشین لرننگ، روبوٹکس، میکاٹرانکس مل کر کام کرتی ہیں، ڈیزائننگ اور ویژولائزیشن کیلئے آگمنٹڈ رئیلٹی اور مکسڈ رئیلٹی استعمال ہوتی ہے۔ ایک ایک مرحلے کے درجنوں یا سینکڑوں پراسیسز کی آٹومیشن کے نتیجے میں جو ماسیو ڈیٹا جنریٹ ہوتا ہے اس کیلئے کلاؤڈ سرورز، اس ڈیٹا کی انٹرپریٹیشن کیلئے ڈیٹا سائنس اور اینالٹکس، سرورز کو زیادہ بوجھ سے بچانے کیلئے ایج کمپیوٹنگ اور ڈیوائسز کو ہر وقت سرور سے پیغام رسانی میں لگے رہنے سے بچانے اور سمارٹ بنانے کیلئے ٹائنی مشین لرننگ۔

ان سب کاموں کیلئے آپ کو درکار ہے تیز ترین کنیکٹیویٹی تو اس کیلئے 5G انٹرنیٹ، اور ان سارے پراسیسز سے ملنے والی معلومات کا مستقبل کی پالیسی سازی میں فائدہ اٹھانے کیلئے بزنس انٹیلیجنس، ڈیزائن انٹیلیجنس۔ اب یہ سب کچھ انٹرنیٹ پہ چل رہا تو اسے محفوظ بنانے کیلئے سائبر سکیورٹی۔ اور اس سارے عمل کو پر لگانے کیلئے دو تین سال میں اس مسکچر میں کوانٹم کمپیوٹنگ بھی پوری طرح شامل ہو جائے گی۔

مزید پڑھیں: کیا تم کہانی ہو

غرضیکہ انڈسٹری 4.0 آپ یوں کہہ لیں کہ تمام ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کا باہمی اشتراک ہے۔ سوائے ویب تھری یا بلاک چین کے۔ اسی لئے میں اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ یہاں ایک اور پوائنٹ ذہن میں رکھیں کہ انڈسٹری 4.0 میں زراعت بھی شامل ہے۔ ہم لوگ عموماً صنعت اور زراعت کو مختلف بلکہ متضاد سمجھتے ہیں۔ دنیا نے عرصہ ہوا ایسا سمجھنا چھوڑ دیا۔ تو اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انڈسٹری 4.0 کے نالائق طالب علموں کو روزانہ کیا کچھ پڑھنے، سننے اور سمجھنے کو ملتا ہوگا۔ دماغ ماؤف ہونے لگتا ہے اور بندہ باؤلا سا ہو جاتا ہے، یہ سوچ کر کہ اگلے آٹھ دس برسوں میں دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔

خیر، اب دنیا سے واپس مملکت خداداد میں آتے ہیں۔ ہماری زراعت میں آٹومیشن بمشکل دس فیصد کے قریب ہو گی، زیادہ سے زیادہ۔ جو ہماری لیڈنگ انڈسٹریز ہیں۔ ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، آٹو اسمبلنگ، لیدر، سرجیکل اینڈ سپورٹس، شوگر اینڈ فلور انڈسٹری۔ ان میں آٹومیشن تیس سے چالیس فیصد ہے۔ انڈسٹری 4.0 کے نقطہ نظر سے یہ بہت سادہ سی انڈسٹریز ہیں اور ان میں نوے پچانوے فیصد پراسیسز کی آٹومیشن ممکن ہے۔ ہم سو فیصد آٹومیشن کی طرف کیوں نہیں جا رہے؟ بہت سی وجوہات میں سے یہ دو بڑی وجہ ہیں۔

1- ہمیں لیبر بہت سستی پڑتی ہے۔
2- ہمیں ٹیکنالوجی بہت مہنگی پڑتی ہے۔

مزید پڑھیں: ہری پور کا 27 سالہ خوبرو جوان کراچی میں حادثے کا شکار

لیبر سستی اور ٹیکنالوجی مہنگی ہونے کی وجوہات کو چھوڑتے ہوئے، آپ یوں سمجھ لیں کہ ہم نے اپنی زراعت اور صنعت میں سٹیٹس کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ اس سٹیٹس کو کا فائدہ یہ ہے کہ ہماری ورک فورس کا بڑا حصہ ان سکلڈ یا سیمی سکلڈ ہے۔ اسے ہم نے کسی نہ کسی طرح کام پہ لگایا ہوا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ ہم بڑی تیزی سے دنیا سے مقابلہ کرنے کی استعداد کھو رہے ہیں۔ آٹومیشن ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ ہمارے انڈسٹریلسٹس زیادہ دیر اس سے دور نہیں رہ پائیں گے۔ مسابقت برقرار رکھنے کے علاوہ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔

1- لیبر روز بروز مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔
2- ٹیکنالوجی دن بدن سستی ہوتی جا رہی ہے۔

لیبر مہنگی اور ٹیکنالوجی سستی ہوتے چلے جانے کی بھی کئی وجوہات ہیں۔ فیسبک کے مضمون میں بندہ کیا کچھ گھسیڑے، انہیں بھی جانے دیجئے۔

اب آ جائیں آٹو میشن کے ممکنہ نتائج کی جانب۔ اگر ہم اپنی زراعت اور صنعت کو کم از کم اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہی بنائے رکھنا ہچاہتے ہیں تو اس کیلئے آٹو میشن ناگزیر ہے۔ دوسری طرف آٹومیشن ہماری ورک فورس سے اس کا روزگار چھین لے گی۔ کسی نہ کسی سطح پر یہ پراسیس شروع ہو چکا۔ آنے والے برسوں میں یہ عروج پر پہنچ جائے گا۔

سان ٹیاگو اے آئی کے ان ایکسپرٹس میں سے ہیں جنہیں میں فالو کرتا ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2025 تک اے آئی دنیا سے 85 ملین یا ساڑھے آٹھ کروڑ نوکریوں کا خاتمہ کر دے گی۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ 2025 تک ہی اے آئی سے ریلیٹڈ 97 ملین یعنی نوکروڑ ستر لاکھ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

مزید پڑھیں: کے الیکٹرک نے ایس ایس جی سی سے گیس سپلائی بحال کرنے کا مطالبہ کردیا

کہنے کا مقصد یہ کہ ٹیکنالوجی جہاں بہت سی فرسودہ اور سادہ نوکریوں کو ختم کرتی جا رہی ہے وہیں نت نئی فیلڈز، نت نئے جہاں، اور نت نئے امکانات کے دروازے بھی کھولتی چلی جا رہی ہے۔ گلوبل ویلج میں یہ نئے جہاں، امکان اور مواقع ہر ملک کی یکساں رسائی میں ہیں۔ جو زیادہ فائدہ اٹھا لے۔

پاکستان کے پاس بھی بے شمار مواقع ہیں۔ اپنی نئی نسل کو ہم ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ انہیں دنیا میں اپنا اصل مقام حاصل کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ ان کیلئے روزگار کے لامتناہی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

لیکن مواقع جتنے بڑے ہیں، ان سے فائدہ اٹھانے کا وقت اتنی ہی تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے پاس صرف سات آٹھ برس کی ٹائم ونڈو بچی ہے۔ ان سات آٹھ برسوں میں ہمیں انسان کا بچہ بننے کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کے حوالے سے کچھ لانگ ٹرم پالیسیاں بنانے اور نوجوانوں کو بہت بڑے پیمانے پر تربیت مہیا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ ایک آدھ انسٹیٹیوٹ یا ڈیجی سکلز جیسے ایک آدھ آن لائن پلیٹ فارم کے بس کی بات نہیں ہے۔ ہمیں اپنے پورے تعلیمی ڈھانچے کو استعمال کرنا ہوگا۔

ہم عربوں کو لعنت ملامت کرتے تھے کہ یہ اپنے وسائل سائنس اور ٹیکنالوجی پہ صرف نہیں کرتے۔ پچھلے دس بارہ برس میں انہوں نے یہ گلہ کافی حد تک دور کر دیا ہے۔ خصوصاً قطر، یو اے ای اور سعودی عرب میں جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ اور نئی نسل کو ان سے ہم آہنگ کرنے کے ضمن میں بہت کام ہو رہا ہے۔ ترکی، ملائشیا اور بنگلہ دیش غیرعرب مسلم ممالک میں ٹیکنالوجی کو ایڈاپٹ کرنے والے نمایاں ملک ہیں۔

بھارت میں سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کروڑوں بچوں کی تعلیم کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے سال ڈیڑھ سال کی محنت اور مائکروسافٹ کے تعاون سے بچوں کیلئے مشین لرننگ کا سلیبس تیار کیا ہے۔ یہ چھٹی سے بارہویں جماعت کے طالب علموں کیلئے ترتیب دیا گیا ہے۔ اور یہ بتدریج آسان سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جو بچہ پانچ سال اسے پڑھ کر نکلے وہ مشین لرننگ کے میدان میں انٹری لیول کی جاب حاصل کرنے کے قابل ہو۔

مزید پڑھیں: ایک مدرس و منتظم اور عاشق قرآن کی رحلت

اسے بچوں پر جبری مسلط کرنے کی بجائے اس کی ویب سائٹ بنا دی گئی ہے۔ جس پر بھارت کے کسی بھی سکول کا طالب علم نام، رول نمبر، کلاس اور سکول کے نام سے خود کو رجسٹرڈ کروا سکتا ہے۔ پچھلے سال جب اسے لانچ کیا گیا تو میں نے پڑھا تھا کہ پندرہ لاکھ بچوں نے داخلہ لے لیا۔ آپ تصور کر لیں کہ پانچ سال بعد انڈیا کا سکول سسٹم ہر سال پندرہ بیس لاکھ بچے ایسے نکال رہا ہوگا جو اس وقت کے سب سے ان ڈیمانڈ پروفیشن میں فوری جاب حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔

کیا ہم اس وقت بھی بچے کو بارہ پڑھا کر سر جوڑ کر سوچ رہے ہوں گے کہ اب اسے کہاں داخل کروایا جائے؟ مطلب اس کے مقابلے میں آپ دیکھیں کہ ہمارا سب سے بڑا صوبہ ستر ہزار عربی اساتذہ بھرتی کرنے کے چکر میں ہے تاکہ پیدائشی مسلمانوں کو مزید مسلمان بنایا جا سکے۔ اس سے کیا ہوگا؟

اور اگر یہی کرنا ہے تو ستر ہزار بندے بھرتی کرنے کی بجائے ستر لاکھ لگا کر ایک اچھی سی ویب سائٹ بنا دیں جس پر پاکستان کے بہترین عربی دان قرآن فہمی اور عربی کی تعلیم دیں۔ سکول کے بچوں کیلئے یہ لازمی اور مفت کر دیں۔ باقی جو چاہے ایک مناسب فیس دے کر اس سے استفادہ کر سکے۔ ہم بڈھے طوطے بھی ہو سکتا ہے عربی سیکھ لیں۔ حکومت ہر ماہ کروڑوں تنخواہ پر خرچ کرنے کی بجائے لاکھوں کمانے لگ جائے۔

مطلب ایک بیکار کام ہی کرنا ہے تو وہ بھی ڈھنگ سے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ ٹامک ٹوئیاں مارنے کی بجائے سائنس اور ٹیکنالوجی پہ توجہ دیں تو ہم پہ احسان ہوگا۔ ٹارگٹ یہ ہونا چاہیے کہ اگلے پانچ برس میں ہم نے پچاس لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو ان ایمرجنگ ٹیکنالوجیز میں ہنرمند بنانا ہے۔ اس میں ترجیح دیہی اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو دینی ہے۔ حکومت نیت کرے، وسائل اور راہیں خود کھلتی چلی جائیں گی۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *