کیا تم کہانی ہو

کہانی بھاگی بھاگی پھرتی تھی کبھی اس کمرے کبھی اس کمرے
کبھی دالان میں تو کبھی چھت پر چڑھ جاتی
گلی کے بچوں کے ساتھ کنچے کھیلتی اور پٹنگ کے پیچھے دوڑتی
کبھی کبھار کہانی کو چوٹ بھی لگ جاتی

کہانی نٹ کھٹ سی تھی اس کے بال لمبے تھے
کہتے ہیں برسوں پہلے کہانی کی ماں بھی کہانی تھی
لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آتے تھے
مگر اب وہ فسانہ بن چکی تھی

کہانی کی ماں اس کے بالوں میں تیل لگاتی اسے روز نیا سوٹ پہناتی
کہانی خوش رہتی
کہانی کے پاس گڑیا تھی
ایک بھالو تھا وہ ان دونوں کو ساتھ لیکر سوتی

کہانی سب کو پیاری تھی
اس کی باتیں چٹکلے کی طرح ہوتیں
جہاں وہ جاتی لوگ چاہتے وہ کچھ بولے
وہ اس سے اوٹ پٹانگ سوال کرتے تاکہ کہانی اپنی چھوٹی سی زبان سے کوئی مزے دار بات کرے
کہانی اپنی جیومیٹری باکس میں خوبصورت پینسلیں بڑی ہی ترتیب سے رکھتی

پھر اک روز کہانی نے ماں سے کہا
ماں مجھے خون آرہا ہے
ماں چپ رہی

کہانی نے محسوس کیا کہ اس روز کے بعد اس کی ماں چپ چپ رہنے لگی ہے
وہ نا تو کہانی سے نظریں ملاتی نا اسے اچھے کپڑے پہناتی
لوگ کہانی کو دیکھنے آتے
اس کھڑا کرتے، چلاتے، ہنساتے اور چلے جاتے
پھر کچھ لوگوں نے کہانی بیاہ دی
کہانی نئے گھر آگئی

اس نے سب کچھ جیومیٹری باکس میں ترتیب سے رکھنے کی طرح رکھا
اپنے بال، اپنا لہجہ، اپنا کمرہ اور اپنا (بھالو)
پھر کہانی کو کسی بات پر بھالو نے تھپڑ مار دیا
کہانی چپ ہوگئی

کہانی نے ایک نامکمل (گڑیا) جھولی سے گرادی
کہانی کو اور چپ لگ گئی
کہانی تو کہانی تھی
ایک روز کہانی مر گئی
کہانی ختم ہوگئی!!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *