ایک مدرس و منتظم اور عاشق قرآن کی رحلت

ہم نے بچپن سے جن شخصیات کو گھر میں کثرت سے آتے جاتے دیکھا، ان میں بانی جامعہ حمادیہ پیر طریقت مولانا عبد الواحد صاحب نور اللہ مرقدہ اور استاذ الحدیث مولانا افتخار احمد اعظمی صاحب نور اللہ مرقدہ ہیں۔ حضرت والد صاحب زید مجدہم نے جامعہ حمادیہ میں درجہ کتب میں داخلہ لیا اور اصول الشاشی حضرت مولانا افتخار احمد اعظمی رح سے پڑھی۔ فضلاء جب بھی تذکرہ کرتے تو والد صاحب فرماتے کہ آپ نے تو بڑھاپا دیکھا ان کی جوانی تو دیکھی ہی نہیں۔

بعد ازاں گھریلو حالات کی بنا پر تعلیمی سلسلہ منقطع کر کے پڑھانے کا ارادہ کیا، اس وقت حضرت پیر طریقت مولانا عبد الواحد رح کے اصرار پر وہیں حمادیہ میں پڑھانا شروع کیا۔ اس زمانے میں جامعہ حمادیہ کے ناظم تعلیمات استاذ الحدیث مولانا افتخار احمد اعظمی رح تھے۔ وہیں سے حضرت والد ماجد کا ان شخصیات سے تعلق گہرا سے گہرا ہوتا چلا گیا جو گھریلو نوعیت میں بدل گیا۔حضرت والد ماجد کی برکت سے ہمیں بھی ان شخصیات سے استفادے کا موقع ملا۔ پیر طریقت رح تو ہماری شعوری زندگی سے قبل ہی اللہ کے حضور پیش ہو گئے لیکن مشفق و مربی بزرگ حضرت مولانا افتخار احمد اعظمی رح متعدد بار ملاقات اور بارہا طویل نشست کا موقع ملا۔

حضرت مولانا افتخار احمد اعظمی رح مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی رح کے براہ راست شاگرد اور تربیت یافتہ تھے۔ کچھ عرصہ دار العلوم کراچی پڑھانے کے بعد جامعہ حمادیہ میں تشریف لے گئے اور وہاں تدریس و انتظامی امور سنبھالے۔ حضرت رح جتنا عرصہ ناظم تعلیمات رہے، اس وقت تک بہترین اور منظم انداز میں جامعہ کا نظام چلایا اور خاص طور شعبہ حفظ و تجوید کو جس لگن اور محنت کے ساتھ پروان چڑھایا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس زمانے میں پورے کراچی میں جامعہ حمادیہ کا شعبہ حفظ کی ایک مثال اور نام تھا۔ بعد ازاں کچھ وجوہات کی بنا پر حمادیہ سے واپس دار العلوم کراچی تشریف لے گئے اور وہاں سال کے درمیان میں ہی آپ کو اسباق دئیے گئے اور ساتھ ساتھ شعبہ دار القرآن اور طعام کی انتظامی ذمہ داری بھی دی گئی۔

حضرت رح ایک بہترین اور مایہ ناز مدرس تھے، عرصہ دراز سے مسند حدیث پر فائز تھے اور صحیح مسلم پڑھا رہے تھے۔ دوران سبق مختلف چٹکلے، محاورے اور جملے اپنے مخصوص انداز میں سناتے تھے جس سے سبق کا لطف دوبالا ہو جایا کرتا تھا۔

حضرت رح کتب حدیث کے ساتھ ساتھ تجوید و قرأت پر بھی خاصا عبور رکھتے تھے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آپ نے پہلے حمادیہ میں شعبہ حفظ کا مثالی نظم قائم کیا اور پھر اسی طریقے پر دار العلوم کراچی میں دار القرآن کو بطریق احسن چلاتے رہے۔ حضرت کے زیر اثر پڑھانے والے تمام اساتذہ کرام ایک ماہر اور شعبہ تحفیظ کے مایہ ناز استاذ بنے۔ والد صاحب کے شعبہ تحفیظ میں اس قدر انہماک اور شوق میں بھی حضرت کی تربیت کا بہت بڑا حصہ داخل ہے۔

مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین منتظم بھی تھے۔ اپنی حیات کے آخری لمحات تک جامعہ کے مطبخ و مطعم کی ذمہ داری نبھاتے رہے اور اس نظم میں جس خوش اسلوبی اور احسن طریقے سے آپ نے خدمات سرانجام دی ہیں، وہ ایک زندہ و جاوید باب ہے۔

قرآن کریم کے ساتھ ایک والہانہ تعلق تھا سفر و حضر میں تلاوت کا اہتمام ہوتا تھا۔ ایک چھوٹے بیگ میں جہاں دیگر سفری ضروریات ہوتی ہیں وہاں قرآن کریم کا نسخہ لازمی رکھا ہوتا تھا۔

یاد پڑتا ہے کہ لڑکپن کے زمانے میں ہماری پوری فیملی کراچی گئی تو اس وقت حضرت مولانا افتخار احمد اعظمی نور اللہ مرقدہ نے بھی دعوت کا اہتمام کیا۔ اس وقت حضرت رح والد صاحب سمیت ہمیں بھی ساتھ لے کر دار العلوم کا وزٹ کرانے لے کر گئے۔ اس وقت دار العلوم کی مسجد زیر تعمیر تھی اور وہاں طلبہ داخلے کا امتحان دے رہے تھے۔ حضرت رح ہمیں خود سے ساتھ لے گئے اور دار الافتاء، مسجد، تعلیمی بلاک اور مطبخ سمیت مختلف عمارات کا وزٹ کرایا۔ بطور خاص مطبخ کا وزٹ کرایا اور ساری تفصیلات بتائیں کہ کھانے اور کھانا دینے کا نظم کیا ہے؟ کیونکہ اس وقت مطعم کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا۔ اس وقت ہی کچھ اندازہ ہو گیا تھا کہ حضرت کتنے بہترین منتظم ہیں۔ حضرت رح انتہائی با رعب شخصیت تھی، اس لئے ہمیں دیکھنے والا ہر ایک حیران تھا کہ آخر یہ کون لوگ ہیں جسے خود حضرت رح وزٹ کرا رہے ہیں۔

ایک موقع پر حضرت ہمارے ہاں تشریف لائے تو نماز عشاء کے بعد اچانک پوچھا کہ طلبہ نے کھانا کھا لیا؟ والد صاحب نے بتایا کہ ابھی کھا رہے ہیں۔ فرمایا کہ جہاں طلبہ کھانا کھا رہے ہیں وہاں جا سکتا ہوں؟ والد صاحب نے کہا کہ جی بالکل۔ پھر جا کر کھانا دیکھا اور اس کا معیار چیک کیا۔ معیار دیکھنے کے بعد بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ طلبہ کی خوراک کا انتظام اپنی استطاعت کے بقدر اچھا کرنا چاہئے، اللہ تعالٰی ان کی برکت سے ہی دیتا ہے۔

دو سال قبل والدہ سمیت کراچی جانا ہوا تو ارادہ تھا کہ کسی وقت دار العلوم کراچی حاضر ہو کر حضرت سمیت دیگر حضرات سے ملاقات کرنی ہے۔ اسی دوران حضرت رح کو ہمارے آنے کی اطلاع ہو گئی، پھر میرا نمبر لے کر رابطہ کیا۔ راقم عشاء کی نماز پڑھ کر کراچی کی معروف مسجد طوبی سے نماز پڑھ کر نکلا تھا کہ اسی دوران فون آیا تو اپنا تعارف کرایا کہ دار العلوم سے افتخار احمد عرض کر رہا ہوں۔ یہ سن کر یکدم دھچکا لگا اور حیرانی ہوئی کیونکہ ان نمبر محفوظ نہیں تھا۔ حضرت رح نے اسی وقت حکم فرمایا کہ ہمارے پاس بمع اہلخانہ کھانے کی ترتیب بنائیں۔ ارشاد حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اگلے دن ہی رات کا کھانا حضرت کے پاس طے ہوا۔

برادرم و عزیزم حذیفہ رحمانی کے ہمراہ ہم دار العلوم کراچی روانہ ہوئے جو اس وقت وہاں تخصص فی الافتاء کے آخری سال کے مراحل سے گزر رہے تھے۔ عشاء سے قبل پہنچے تو حضرت نے خود مرحبا کہا اور اپنے کمرے میں بٹھایا۔ چنانچہ مختلف عنوانات پر گفت و شنید ہوئی کہ اسی دوران عشاء کا وقت ہوا تو نماز کے لئے حضرت رح کے ہمراہ مسجد چلے گئے۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم حضرت کا انتظار کر رہے تھے، ہمیں ان کے معمول کا اندازہ نہیں تھا۔ بعد میں علم ہوا کہ اب تک معمول ہے کہ عشاء کے بعد ایک پارہ نفل میں تلاوت کرتے ہیں۔ سوچا کہ اس عمر میں ایک پارہ نفل پڑھنے کا کس قدر اہتمام ہے اور ہم اس نوجوانی میں بھی اس عمل سے غفلت اختیار کئے ہوئے ہیں۔ نماز کے بعد حضرت کی معیت میں ہی کھانا کھایا، مختلف نصائح کیں اور اس بات کی بار بار ترغیب دی کہ اسلامی سکول کے قیام کی کوئی ترتیب سوچیں اس کی اشد ضرورت ہے اور یہ کامیاب بھی ہے۔ فضلاء سے ہمیں حوصلہ افزا کارگزاری سننے کو ملتی رہتی ہے۔ فراغت کے بعد حضرت کے ہمراہ باہر آئے تو فرمانے لگے کہ یاد نہیں رہا آپ کو مطبخ اور مطعم کا وزٹ کراتے لیکن اب تو بند ہو چکا ہوگا۔ اس کے بعد قبرستان میں حاضری دی اور واپسی کی اجازت چاہی۔

سال قبل حضرت رح اپنے نواسے کی شادی کی تقریب میں پشاور تشریف لائے تو واپسی پر ہمارے ہاں بھی اہلخانہ سمیت تشریف لائے اور دو دن کا قیام فرمایا۔ اس قیام کے دوران حضرت کے ساتھ سفر و حضر میں طویل نشست کا موقع ملا۔ حضرت کو اپنی تالیف کردہ کتابیں دکھائیں اور زیر تالیف کتاب "قرآن کا مطلوب انسان” کا تعارف کرایا تو اس عنوان کے حوالے سے مختلف مفید مشورے دئیے اور کتب کی طرف رہنمائی فرمائی۔

فضلاء کرام بھی وقتا فوقتا مختلف مقامات سے ملاقات کے لئے حاضر ہوتے رہے، جبکہ مختلف اداروں میں بھی جانا ہوا۔ جن جامعہ محمدیہ اسلام آباد، جامعہ النذیر بہارہ کہو اور پھر البرھان اسلام آباد کی جانب عازم سفر ہوئے۔ حضرت نے دوران سفر سیدی و مرشدی مفتی عدنان کاکاخیل صاحب زید مجدہم پہ تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مفتی عدنان ماشاءاللہ بہت عمدہ گفتگو کرتے ہیں اور نوجوان ان کی بات دلجمعی سے سنتے ہیں اور ان کی زندگی میں انقلاب بھی آتا ہے۔ البرھان اسلام آباد پہنچے تو حضرت سیدی خود استقبال کے لئے باہر تشریف لائے اور پھر بعد اپنے دفتر میں بٹھایا۔ اسی دوران حضرت رح نے بڑی دلچسپی کے ساتھ البرھان کا تعارف اور أغراض و مقاصد پوچھے، کام کرنے کا نظم اور طریقہ کار کے حوالے سے مختلف نوعیت کے سوالات کئے اور انتہائی مسرت کے ساتھ اس کام و مشن کو سراہتے ہوئے دعائیں دیں اور اجازت لے کر رخصت ہوئے۔ سفر کے دوران دار العلوم کے تعلیمی و انتظامی امور زیر بحث آئے جس پہ حضرت رح نے تفصیلی روشنی ڈالی، اس سفر کے دوران بھی اپنے چھوٹے بیگ میں قرآن کریم کا نسخہ اپنے ہمراہ رکھا ہوا تھا، جہاں کہیں موقع ملتا تو تلاوت کا اہتمام کرتے۔

اگلے دن صبح نماز فجر اور راقم کے درس قرآن کے بعد والد صاحب کی فرمائش پر شعبہ حفظ کی درسگاہ میں تشریف لائے اور گردان کے دو بچوں کو بلا کر مختلف مقامات سے سنا تو بہت خوش ہوئے اور پھر دعا کرائی۔ بعد ازاں حضرت رح کو رخصت کیا تو الوداع کے وقت راقم کو دو ہزار روپے نکال کر دئیے کہ یہ آپ کے لئے ہدیہ ہے۔ انکار کے باوجود حضرت نے لینے کا حکم فرمایا۔ وہم و گمان بھی نہ تھا کہ یہ آخری بار ہم حضرت کو مل رہے ہیں اور ہمیشہ کے لیے ہی الوداع کر رہے ہیں۔

پہنچنے کے بعد رابطہ کر کے خیریت دریافت ہوتی رہی۔ کچھ ہی عرصہ بعد بیماری میں شدت آنا شروع ہو گئی۔ والد صاحب کی بار بار خواہش تھی کہ میں جا کر تیمار داری کر لوں کہ اب یہ میرے آخری استاذ ہی رہ گئے ہیں۔ جانے سے قبل حضرت رح نے اپنے صاحبزادے کے نمبر سے بات کی تو والد صاحب کو آنے سے منع فرمایا کہ طبیعت کچھ بہتر ہے، آپ آنے کی زحمت نہ کریں۔ لیکن والد صاحب پھر بھی تشریف لے گئے اور جس دن ملاقات کے لئے گئے تو انہیں دنوں میں حضرت بولنے اور بات کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہے تھے۔ حضرت رح بہت افسردہ ہوئے کہ آپ تشریف لائے اور مجھ میں بات کرنے کی ہمت نہیں ہو پا رہی تو والد صاحب نے تسلی دی کہ بس آپ کی زیارت کرنا مقصود تھی وہ ہو گئی۔ بس اسی بیماری کی کشمکش میں بالآخر اللہ کے حضور پیش ہو گئے۔ لیکن اس بیماری کے دوران بھی نماز اور قرآن کریم سے والہانہ عقیدت اور اہتمام نسل نو کے لئے ایک مشعل راہ ہے۔

والد صاحب کی شدید خواہش تھی کہ جنازہ میں شرکت ہو جائے، چنانچہ مہنگے داموں ہی سہی بہر حال ایک فلائٹ میں ٹکٹ مل گئی جس کے ذریعے جنازہ میں شریک ہوئے اور جنازہ کے موقع پر بھی حضرت شیخ الاسلام صاحب زید مجدہم نے حضرت رح کی تعلیمی و انتظامی خدمات کو سراہتے ہوئے مسجد کے ساتھ والہانہ تعلق کو بھی بطور خاص ذکر کیا۔ شخصیات تو چلی جاتی ہیں لیکن اصل چیز ان کا مشن ہے جو باقی رہتا ہے۔ ان اکابر کے واقعات اور حالات زندگی کا مطالعہ کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے راہ حق میں امر ہو جائیں تو یہ سستا قطعا مہنگا نہیں ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *