مری ، سیاحوں کا قاتل کون؟

تحریر: گلزار کڑلال

مری میں سیاحوں کی بڑی تعداد ویک اینڈ پر برفباری کا نظارہ کرنے پہنچ گئی ، جہاں ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں مری اور گلیات میں داخل ہوئیں۔ خبروں کے مطابق مری گلیات کے برفانی طوفان میں پھنسے بیس سے زیادہ سیاح جان کی بازی ہار گئے۔

جبکہ ہزاروں سیاح ہنوز برف کے طوفان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مقامی لوگ ان سیاحوں کو گاڑیوں سے نکال نکال کر گھروں میں لے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن نے دریا گلی بانسرہ گلی، راوت ،سہر بگلہ، مری شہر اور علیعوٹ کے مقامات پر ان سیاحوں کے طعام و رہائش کا بندو بست بھی کیا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان پوری دنیا کو سافٹ ویئر ریسورسز فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، صدر مملکت

تاہم عوام کے ٹیکسوں پر عالیشان محلات میں آرام دہ رہائش کے مزے لوٹنے والی ییوڑو کڑیسی ابھی تک سوئی ہوئی ہے ۔سوال یہ بھی ہے کہ اس برفانی طوفان کی قبل از وقت اطلاع کے باوجود ایبٹ آباد اور مری کی سول انتظامیہ نے ہاتھ کھڑے کرکے بروقت پاک فوج جو ہر مصیبت میں اپنے ہم وطنوں کی جان بچاتی ہے کو طلب کیوں نہیں کیا؟ جو کہ موسم صاف ہوتے ہی پاک فوج کا ہیلی کاپٹر مری گلیات میں پھنسے سیاحوں کی مدد کیلیے فضائ آپریشن شروع کر دے گا۔

سوال یہ بھی ہے کہ ٹھٹھر کر دم توڑتی ان جانوں اور تاحال اس برف میں پھنسے ہزاروں سیاحوں کے مصائب کا ذمہ دار ہے کون؟ اسکا تعین ہونا چاہیے۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *