مدینہ مسجد کیس۔ چیف جسٹس صاحب شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب سے بھی رائے لیں

تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود – ایڈووکیٹ

مدینہ مسجد طارق روڈ کا مسئلہ خاصی بدمزگی کی صورت اختیار کر گیا ہے۔۔۔ عدالت کے ہر مقدمے کے دو فریق ہوتے ہیں۔۔۔ فیصلہ آ جائے تو ظاہر ہے تو وہ ایک فریق کے ہی حق میں ہوتا ہے اور دوسرے فریق کے خلاف آتا ہے۔۔۔ جس فریق کے حق میں فیصلہ آئے وہ خوش اور جس کے خلاف آئے تو وہ نا خوش ہوتا ہے۔۔۔ مدینہ مسجد کے اس قضیے پر عدالتی فیصلے سے بھی ایک بڑا طبقہ نا خوش ہے اور اس کا یہ خیال ہے کہ اس کیس میں انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا ہے۔۔۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عدالت تقریبا چار عشروں سے قائم مدینہ مسجد کو ڈھانے کا فیصلہ واپس لے۔۔۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ مسجد تمام قانونی تقاضے پورے کرکے بنائی گئی ہے۔۔۔ یہ کہنا درست نہیں کہ غیر قانونی قبضہ کرکے بنائی گئی ہے۔۔۔ جبکہ عدالت کی ججمنٹ یہ ہے کہ یہ جگہ پارک کی ہے، اس جگہ کو کسی اور مقصد کیلئے بروئے کار لانا غیر قانونی ہے۔۔۔ لہذا مسجد سمیت جتنی بھی تعمیرات پارک کی اراضی پر ہوئی ہیں سب ختم کر دی جائیں۔۔۔

معزز عدالت کے اس فیصلے پر عوامی سطح پر شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔۔۔ مذہبی جماعتیں بالخصوص جمعیت علمائے اسلام کے رہنما پہلے دن سے مدینہ مسجد کو گرانے سے بچانے کیلئے مسجد کے دروازے پر پہرہ دیے ہوئے ہیں۔۔۔ علمائے کرام یہاں تک کہ اسلامی اور رائج عصری قانون کے ممتاز ماہر، عظیم فقیہ اور سابق جج شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے بھی دلائل کی بنیاد پر دوٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ اول تو مدینہ مسجد غیر قانونی قبضے پر قائم نہیں ہوئی ہے۔۔۔ تمام قانونی تقاضے پورے کرکے ہی بنائی گئی ہے۔۔۔ دوسری بات یہ ہے کہ مسجد ایک بار قائم ہونے کے بعد اسلام میں اسے دوبارہ منہدم کرنے اور کسی بھی دوسرے مقصد کیلئے زیر استعمال لانے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔

مزید پڑھیں: مدینہ مسجد ایشو پر عدالت عظمی کو دعوت فکر

یہ معاملہ آہستہ آہستہ انتشار کا سبب بن رہا ہے۔۔۔ عدالت اور علمائے کرام کے موقف ایک دوسرے کے بالکل خلاف ہیں۔۔۔ عدالتی حکم پر عمل درآمد کیلئے انتظامیہ کی مشینری کئی بار آ چکی ہے مگر عوامی دباؤ پر اسے پسپا ہونے پڑتا ہے۔۔۔ بلاشبہ یہ مسئلہ جتنی جلد مناسب اور پرامن انداز میں حل ہو اتنا ہی ریاست حکومت اور قوم کیلئے اچھا ہے۔۔۔ اس مقام پر مسجد بننے سے علاقے کے عوام کو کوئی پریشانی بھی نہیں ہے۔۔۔ بلکہ ایک دینی ضرورت پوری ہونے کے سبب سہولت ہے۔۔۔

اہل علاقہ مسجد کے ساتھ خوش ہیں۔۔۔ اور ان کا مطالبہ یہی ہے کہ مسجد رہنے دی جائے۔۔۔ اور وہ کسی صورت مسجد کو ڈھانے دینے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔۔۔ ساتھ ہی یہ معاملہ ملک گیر صورت اختیار کر چکا ہے اور اس مسئلے پر ملک بھر کے دیندار عوام میں بے چینی تشویش اور اشتعال پایا جا رہا ہے۔۔۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ خدا نخواستہ مسجد کو شہید کر دیا گیا تو اس سے پورے ملک میں اشتعال منظم ہو کر بے امنی اور قومی پریشان خاطری کا سبب بن سکتا ہے۔۔۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ایسی صورت حال یقینا ملک و قوم اور خود عدالت کے عزت و وقار کے حق میں بھی زیادہ مناسب نہیں ہے۔۔۔ ساتھ ہی اہل دین سے بھی گزارش ہے کہ ملک کا امن و سلامتی قائم رکھنا ہماری بھی ذمے داری ہے۔۔۔ چنانچہ مدینہ مسجد کے معاملے میں ہمیں صرف اور صرف جوش و جذبات کو ہی کام میں لانے کے بجائے احسن طریقے سے جسے قرآن کریم نے "و جادلھم بالتی ھی احسن” فرمایا ہے، اس معاملے کو حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔۔۔ طیش میں آنے اور مرنے مارنے کی باتیں کرنے سے الٹا ہمیں نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔۔۔

مزید پڑھیں: گھر میں آگ لگنے سے 7 افراد جھلس کر جاں بحق

میری نیازمندانہ اور عاجزانہ درخواست ہوگی کہ معزز چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس گلزار صاحب اس مسئلے پر شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ جو ماشاءاللہ اسلامی اور ملکی قانون پر مہارت رکھتے ہیں اور پریکٹکل جج رہنے کے باعث ملکی نظام و آئین کی باریکیوں اور عدالتی تقاضوں کو بھی بہتر سمجھتے ہیں، سے رائے لیں اور پھر ملک و قوم کے بہتر مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ فرمائیں۔۔۔ ان شاءاللہ العزیز امید ہے کہ ایسا ہوا تو وطن عزیز کے حق میں بہت ہی بہتر اور مبارک فیصلہ برآمد ہوگا۔۔۔ اس کے ساتھ ہی قوم کے دل میں عزت مآب چیف جسٹس صاحب کی عزت و وقار کے ساتھ عدلیہ پر اعتماد و اطمینان میں بھی اضافہ ہوگا۔۔۔ اور قوم چیف جسٹس صاحب کو اچھے لفظوں کے ساتھ یاد رکھے گی۔۔۔ اللہ تعالیٰ وطن عزیز کو ہر شر و آفت سے محفوظ رکھے۔۔۔ دن دگنی رات چوگنی ترقیاں دے۔۔۔ اور قدم قدم پر استحکام نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *