شہر کا مشہور اخبار’’امت ‘‘مشکل میں، ملازمین کے نام ایک اور کھلا خط۔

میرے بیٹوں ،بھائیوں اور بہنوں دو دن پہلے میرے (مرحوم) بھائی رفیق افغان کے بیٹے حمزہ افغان نے ایک کھلا خط آپ کو لکھا جس میں اس نے میرے بارے میں جو باتیں لکھیں ان کی وضاحت بہت ضروری ہے ۔امت صرف ایک کمرشل کاروبار ہی نہیں بلکہ مذہبی بنیادوں پر ا ستوارایک ادارہ ہے ۔جہاں ہر کام انصاف سے ہوتا ہے ۔جہاں مالکان ایک دوسرے کا اور ملازمین کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں ۔اس سوچ کے پیش نظر میں نے اپنے بھتیجے حمزہ کو یہ ہدایت دی کے ملازمین اور اپنی دوسری ماﺅں اور بچوں کے حقوق ادا کرے ۔

میرے بھائی رفیق افغان (مرحوم )کی 3بیویاں اور ان کے بچے ہیں ۔جو وراثت کے دعوے دار ہیں ۔حمزہ پچھلے 5ماہ سے امت اخبار کا انتظام چلا رہا ہے ۔اپنی چھوٹی ماﺅں ،بہن ،بھائیوں اور ملازمین کا خیال رکھنا اسی کی ذمہ داری ہے۔ اگر میں نے اسے یہ اچھی نصیحت کی تو اس میں کیا قباحت ہے ۔جب مجھے یہ محسوس ہوا کہ میری چھوٹی بھابھیوں اورانکے بچوں کے حقوق ادا کرنے میں غیر ضروری تاخیر ہورہی ہے تو میں نے انھیں اس ادارے کا حصہ دیا تاکہ ان کی عزت نفس اور انکے حقوق محفوظ رہیں۔لیکن حمزہ کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا۔میں ایک اہم بات آپ کے گوش گزار کردو ں کہ گزشتہ ساڑھے پانچ ماہ سے حمزہ امت کے تمام فیصلوں اورسیاہ وسفید کے مالک ہیں۔اور میں نے ان کے کسی کام میں مداخلت نہیں کی جس سے ان کے کام میں فرق پڑے۔

مزید پڑھیں: بلاول بھٹو کی قیادت میں کراچی کو ترقی اور عوام کو بااختیار بنا ئینگے۔ نثار کھو ڑو

تمام فنانشل فیصلے اب بھی عارف بھائی کے پاس ہیں اور تمام بینک کے دستخط حمزہ کی مرضی سے عارف بھائی سائن کرتے ہیں۔ تنخواہ وقت پر ادا کرنے کی وہ کوشش کرتے ہیں۔اگر میں نے انہیں کبھی کوئی مشورہ بھی دیا ہے تو انہوں نے قبول نہیں کیا اور میں ان فیصلوں میں کبھی کوئی اختلاف اور مداخلت نہیں کرتا اور نہ اس میں میراکوئی کردار رہا ہے۔انہوں نے مجھے مطلع کئے بغیر17سے18لاکھ کی مشینیں فراخت کی اور مجھے اس سے متعلق کچھ بتانا گوارہ نہیں کیا۔ جب میں نے پوچھا آپ نے مجھے بتائے بغیر مشینیں فروخت کردیں تو حمزہ نے جواب دیا کہ شاید میں آپ کو بتانا بھول گیا۔

لہذا اس طرح کی الزام تراشیاں کرکے بتانا کہ میں نے انہیں فیصلے کی کوئی طاقت نہیں دی یہ گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔حمزہ پہلے ہی امت کا ڈی فیکٹیو چیف ایگزیکٹیوں ہے اور اس کا سب سے بڑا شیئر ہولڈر ہے اور حقوق اس نے ادا کرنے ہیں ۔اپنی ماﺅں اور بہنوں بھائیوں کے بھی اور ملازمین کے بھی ۔میرا کام اس کے چچا اور ادارے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے یہ ہے کہ میں اس سے یہ کام جلد از جلد کرنے کی ترغیب دو ں۔بھابھیوں کو ادارے میں شامل کرنا اسی کوشش کا حصہ تھا۔

مزید پڑھیں: شہر کا مشہور اخبار’’امت ‘‘مشکل میں، علی حمزہ افغان کا کارکنان امت کے نام خط

ملازمین کے واجبات ادا کرنے کے لئے کہنا بھی اسی کوششوں کا حصہ تھا پر ابھی تک میں ان کوششوں میں ناکام رہا ہوں۔طرفہ تماشہ یہ ہے کہ جو امت کے مسند اقتدار پہ بیٹھے ہیں اور ملکیت کے فوائد بلا شرکت غیر ے حاصل کر رہے ہیں ،وہ مجھے ہی اس بات کا الزام دے رہے ہیں کہ میری وجہ سے وہ باقی سب لوگوں کے حقوق ادا نہیں کر رہے ہیں۔یہ ہوسکتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانی کا شکار ہو۔

مگر مجھے اس بات کا پختہ یقین ہے کہ اعمال سے بہتر نیتوں کا گواہ کوئی نہیں ۔اس لئے میں آپ کے سامنے بھی وہی بات دہر اﺅنگا جو میں حمزہ کو کئی بار کہہ چکا ہو ۔میرا امت کی ملکیت پر کوئی حق نہیں ۔جس دن میرے (مرحوم) بھائی کی فیملی آپس میں معملات طے کر لے گی میں اپنے شیئرز بھی ان میں تقسیم کردونگا ۔میرے بھائی (مرحوم)رفیق افغان نے مجھے یہ شیئرز امانت کے طور پر ٰ دیئے تھے ۔یہ امانت میں خیانت ہوگی ۔اگر میرے(مرحوم ) بھائی کی وراثت عدل سے تقسیم نہ ہوئی اور میں کچھ بھی نہ کر وں ۔ہاں اگر میری کسی بھی کوشش سے مجھے کوئی ذاتی فائدہ لینا ہوتو یہ میرے لئے حرام ہے۔آپ لوگ ملازمین ہی نہیں اس معاملے میں منصف بھی ہیں ۔

اگر میں نے اپنے لئے (امت )سے کوئی ذاتی فائدہ اٹھایاہو تو آپ لوگ مجھ سے جواب طلبی کر سکتے ہیں ۔اور اگر آپ کے اور رفیق بھائی (مرحوم )کے چھوٹے بچوں اور بیویوں کے حقوق انہیں ملیں تو آپ جانتے ہیں کہ آپ کو کس سے جواب طلب کرنا چاہئے ۔’ہم اہل امت ‘معاشرے میں ظلم کے خلاف جہاد کر رہے ہیں ۔تف ہے ہم پر اگر ہم ایک دوسرے پر ہی ظلم کریں ۔چاہے وہ ظلم کسی کے حقوق نہ دینے کی شکل میں ہو یا دوسرے کہ غلط بہتان لگانے کی صورت میں ۔

نوٹ: ادارے کا تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں، یہ بلاگ مصنف کی اپنی رائے پر مبنی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *