نظام قانون کا تعارف

علماء کرام جو معاشرے کی اصلاح و ترقی کا ایک اہم ستون ہیں، ان کو معاشرے میں رہتے ہوئے ایک مقتداء کی حیثیت سے کردار ادا کرنا ہوتا ہے اور معاشرے میں حقیقی معنوں میں اس فرض منصبی سے سبکدوش ہونا ممکن نہیں جب تک کہ آپ کو مروجہ قوانین اور عدلیہ کا بنیادی ڈھانچہ معلوم نہ ہو۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ کے حوالے سے آتا ہے کہ آپ بار بار اصرار فرماتے رہے کہ طلبہ کو تعلیم کے ساتھ عدلیہ اور قوانین کا بھی کچھ بن ڈھانچہ سکھا دیا جائے۔ آخری عمر میں فرمایا کہ اب تو کہنا بھی چھوڑ دیا۔

خاص طور پر دار الافتاء اور سیاست سے وابستہ افراد کے لئے اس کا تعارف ناگزیر ہے کیونکہ دار الافتاء میں بہت سے ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا صحیح جواب مروجہ نظام قانون سے تعارف کے بغیر ممکن نہیں۔ سیاست سے وابستہ افراد چونکہ اسلامی قوانین اور نظام نافذ کرنے کی بات کرتے ہیں، مروجہ قوانین سے آگاہی حاصل کئے بغیر ان کو اسلامائز کرنے کا دعوی کرنا دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیں: موجودہ صورتحال سے نکلنا اب پوری قوم کی ذمہ داری ہے، مولانا فضل الرحمان

راقم کا تعلق چونکہ دار الافتاء کے شعبے سے ہے اس لئے ہمیشہ خواہش رہی کہ عدلیہ اور قانون کا ایک بنیادی ڈھانچہ پڑھا اور سمجھا جائے۔ لاک ڈاؤن میں شریعہ اکیڈمی کے ایک کورس میں شرکت کا موقع ملا اور اس سے بہت کچھ سیکھا تھا، اب حالیہ دنوں میں الشریعہ اکادمی نے اس حوالے سے کورس کرایا۔ بلا مبالغہ بہت عمدہ انداز سے اس کورس کو مکمل کیا گیا اور الف سے ی تک تمام بنیادی چیزوں سے آگاہی دی گئی اور نظام عدل و پولیس کا دائرہ کار اور کام کرنے کے طریقہ کار بطریق احسن سمجھایا گیا۔ بلیک میلنگ سے بچنے اور تمام صورتوں میں پر اعتماد ہو کر متعلقہ اداروں اور افراد تک رسائی حاصل کر کے امور پایہ تکمیل تک پہنچانے پر بریفنگ دی گئی۔ ذاتی طور پر مجھے تو اس سے زیادہ کسی آن لائن کورس سے فائدہ نہیں ہوا۔

عمومی طور پر آن لائن کورسز میں آہستہ آہستہ دلچسپی کم ہوتی چلی جاتی ہے لیکن اس کورس میں آخری کلاس تک دلچسپی برقرار رہی اور حتی الامکان کوشش کی کہ کوئی کلاس رہ نہ جائے۔ اس کا کریڈٹ استاذ محترم معظم محمود بھٹی صاحب کے سر جاتا ہے جنہوں نے انتہائی محنت سے ہر سبق کی سلائیڈ تیار کیں اور انتہائی عام فہم اسلوب میں اس مشکل اور خشک موضوع کو شاندار طریقے سے پڑھایا اور مزید برآں کہ ہر کلاس کے بعد سوال و جواب کا بھر پور موقع دیا گیا جو کبھی بہت طویل بھی ہوا، لیکن ہر ایک کا سوال سن کر اسے تسلی بخش جواب دیا گیا۔

اس موقع پر مولانا عبد الرشید صاحب کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی جنہوں نے بہت عمدگی کے ساتھ مکمل کورس کے انتظامات کئے اور شروع سے آخر تک ہماری انتظامی معاونت کرتے رہے اور ہمیں استاذ محترم بھٹی صاحب کے ساتھ ساتھ پولیس و دیگر اداروں سے وابستہ افراد سے استفادہ کا موقع دیتے رہے۔ اللہ تعالٰی تمام احباب اپنی شایان شان اجر عظیم عطا فرمائے آمین۔

میں بطور خاص علماء کرام سے درخواست کروں گا کہ آئندہ اگر اس نوعیت کا پروگرام ہو تو ضرور شرکت کریں ان شاء اللہ آپ ضرور اس کو دینی امور میں مفید و معاون پائیں گے۔ والسلام

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *