تین مچھلیاں

خلیفہ ہارون الرشید بھیس بدل کر اپنی رعایا کی خبرگیری کیاکرتا تھا۔ ایک بار اس نے دریا کے کنارے ایک شخص کو دیکھا جو جال پھینکے مچھلیاں پکڑ رہا تھا۔

خلیفہ نے اس سے پوچھا کہ کوئی مچھلی پکڑی؟ اس نے کہا، ابھی تک کوئی نہیں۔ خلیفہ نے پوچھا، کوئی اُمید ہے؟ وہ کہنے لگا شام تک تین مچھلیاں پکڑ لوں گا۔ وہ کیسے؟ خلیفہ نے حیران ہو کر پوچھا۔ تین ہی کیوں؟ وہ کہنے لگا ۔ برسوں ہو گئے ایسے ہی زندگی گزار رہا ہوں۔ قدرت میرے لئے روز تین مچھلیوں کا انتظام کر دیتی ہے۔ جونہی تین مچھلیاں پکڑتا ہوں تو جال اٹھائے گھر چلاجاتا ہوں۔

خلیفہ کو اس کی باتوں میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔ پوچھا، تین مچھلیوں کا کیا کرتے ہو۔ اس نے کہا، ایک گھر میں پکا لیتا ہوں، باقی دو بیچ کر ضروریاتِ زندگی پوری کرتا ہوں۔ خلیفہ نے کچھ دیر سوچ کر کہا۔ مجھے اپنا حصہ دار بنا لو۔ ہم اکٹھے یہ کام کرتے ہیں۔ مچھیرے نے کہا، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ مجھے جو چاہیئے مجھے روز مل جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: نیا سورج وڈیروں اور جاگیرداروں سے آزادی کا دن ہوگا، حافظ نعیم الرحمن

کافی تکرار سے خلیفہ نے اسے راضی کر لیا کہ روزانہ کی تین مچھلیوں میں میرا کوئی حصہ نہ ہو گا، اس کے علاوہ جو مچھلیاں پکڑو گے اس میں میرا چوتھا اور تین حصے تمہارے۔ خلیفہ نے نئے جال اور ضروری سامان کیلئے مچھیرے کو کچھ سکے دیئے۔ اور کہا، اگر میں نہ آ سکوں تو مجھے بغداد ملنے آ جانا۔ میرانام ہارون الرشید ہے۔

اللّٰـــہ کی قدرت خلیفہ کی پارٹنر شپ کے بعد مچھلیاں بڑھنا شروع ہو گئیں۔ مچھلیاں پکڑنے والا اپنی تین مچھلیاں علیحدہ کر لیتا، بقایا مچھلیاں فروخت کرتا اور خلیفہ کا چوتھائی حصہ الگ کر لیتا۔ اس وقت سونے چاندی کے سکوں کا رواج تھا۔ وہ شخص خلیفہ کی اشرفیاں ایک برتن میں جمع کرتا گیا۔

کافی عرصہ گزر گیا تو وہ فکر مند ہوا کہ کیا انسان ہے کہ میرے ساتھ کاروبار کرنے کے بعد پلٹ کر واپس نہیں آیا۔ آخر ایک دن اس نے اشرفیوں کا برتن اٹھایا اور بغداد جا پہنچا۔ لوگوں سے ہارون الرشید کا پوچھتا ہوا محل تک جا پہنچا۔ سکیورٹی والوں کو ہدایت تھی کہ جو بھی خلیفہ سے ملنا چاہتا اسے ملوایا جاتا تھا ۔

مزید پڑھیں: ترکی میں داعش کے 41 کارندوں کو گرفتار کر لیا گیا

مچھیرا تو خلیفہ کی شان و شوکت اور عظیم الشان دربار دیکھ کر حیران ہو گیا۔ خلیفہ نے اسے پہچان لیا۔ محبت سے اپنے پاس بٹھایا اور پوچھا کیسے آنا ہوا؟ اس نے جھجھکتے ہوئے بتایا کہ آپ کے حصے کا منافع لیکر آیا ہوں۔ خلیفہ بہت خوش ہوا اس نے اپنا حصہ بھی اسے انعام دیا اس کے ساتھ ساتھ بہت سے تحفے تحائف بھی دیئے اور کہا۔ جب تمہاری بات سنی تو محسوس ہوا کہ قدرت نے تمہاری قسمت میں روز کی تین مچھلیاں لکھی ہیں اور تم قناعت پسند بھی تھے۔ قدرت نے مجھے بے شمار دولت سے نوازا ہے۔ میں نے تیرے ساتھ کاروبار میں قسمت کا اشتراک کیا تھا جو برکت آئی وہ مشترکہ قسمت کا نتیجہ ہے۔

ہمیں چاہیئے کہ ہر کسی کے ساتھ نیکی کرتے رہیں تاکہ ہماری شراکت سے کسی کو بہت سا فائدہ ہو۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *